پیری مریدی

پیری مریدی ایک اصطلاح ہے جو عام طور پر روحانی رہنمائی کے عمل سے منسلک ہے، جہاں ایک شخص (مرید) اپنے آپ کو ایک روحانی رہنما (پیر) کے سپرد کرتا ہے اور اس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ اس کا مقصد زیادہ تر دینی تعلیمات اور روحانی پاکیزگی کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن، وقت گزرنے کے ساتھ اس عمل میں ایسے اضافے ہو گئے جو اصل اسلامی تعلیمات سے متصادم سمجھے جا سکتے ہیں۔

اسلام میں بدعت کا مفہوم

اسلام میں بدعت (بِدْعَة) سے مراد کسی نئی چیز یا عمل کو دین میں شامل کرنا ہے جو نبی ﷺ کی تعلیمات، صحابہ کرام کی پیروی، اور شریعت میں موجود نہ ہو۔ حدیث میں بدعت کے بارے میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں سے نہ ہو، وہ ناقابلِ قبول ہے۔"

پیری مریدی کا تصور

پیری مریدی کو ایک ایسی رسم کہا جا سکتا ہے جو قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود نہیں ہے، اور جس کے کئی پہلو دین میں اضافے کے طور پر سمجھے جا سکتے ہیں۔

اسلام میں بدعت کی اقسام

اسلام میں بدعت کی دو قسمیں ہیں:

بدعت حسنہ: وہ نیا عمل جو دین کی روح کے مطابق ہوا اور جس کا مقصد دین کی خدمت یا بہتری ہو۔

بدعت سیئہ: وہ نیا عمل جو دین کی اصل تعلیمات کے خلاف ہو یا اس میں اضافے کا باعث بنے۔

پیری مریدی کا حکم

پیری مریدی کو بعض علماء بدعت سیئہ میں شمار کرتے ہیں، کیونکہ اس میں روحانی رہنماؤں کی اتنی تعظیم اور احترام کیا جاتا ہے جو اسلامی اصولوں کے منافی ہو سکتی ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ علماء دین نے دین کے اصل مقاصد اور تعلیمات کو چھوڑ کر محض ظاہری رسومات اور رسموں پر توجہ مرکوز کی ہے، جن میں کھانے پینے کے مخصوص طریقے اور رسم و رواج شامل ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ"۔ اسلام کی تعلیمات کا مقصد زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کے احکامات کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ محض ظاہری رسومات کو اپنانا۔

پاکستان میں پیری مریدی کا نظام

پاکستان میں پیری مریدی ایک ایسا نظام بن چکا ہے جہاں روحانی رہنما (پیر) اپنے مریدین سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اس منافع بخش کاروبار میں پیر دن رات چگنی ترقی کرتا ہے جبکہ مرید منوں مٹی تلے دھنستا چلا جاتا ہے۔ پاکستان کا ایک جاہل طبقہ اس پیری مریدی کے کاروبار سے منسلک ہے جس کے ہر شہر میں زمین اور جائیداد موجود ہوتی ہے جبکہ مرید کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اس کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔

جاہل پیر کے بچے اعلی تعلیم حاصل کرنے بیرون ملک چلے جاتے ہیں جبکہ مریدین کے پیسوں سے عیاشی کرنے والا پیر مالا مال ہوتا چلا جاتا ہے۔ پیری مریدی کا یہ تجارتی پہلو اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ خالص نیت سے اللہ کی عبادت کریں۔"

پیری مریدی کی تاریخی ابتدا

پیری مریدی کی باقاعدہ ابتدا اسلامی تاریخ میں صوفیازم کے ارتقاء کے ساتھ ہوئی، جہاں مختلف صوفی سلسلوں نے روحانی رہنمائی کا نظام وضع کیا۔ تاہم، یہ سلسلے شروع میں خالص نیت سے اللہ کی خوشنودی اور روحانی ترقی کے لیے تھے۔ بدقسمتی سے، وقت کے ساتھ ان میں کچھ خرافات اور بدعات شامل ہو گئیں۔

اب انہی صوفیوں کے مزارات پر ہر سال میلے یا عرس منعقد ہوتے ہیں۔ یعنی زندہ ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص دین کی خدمت نہیں کی اور مرنے کے بعد بھی عوام کو اپنے پیچھے لگا لیا۔ مزارات کی دیکھ بھال کرنے والوں نے ایسا مکر و فریب کھڑا کر لیا کہ پیر صاحب زندہ ہیں اور آپ لوگوں کی مرادیں سنتے ہیں۔ بس پھر کیا! ہر وہ کام جو شیطان کرواتا گیا، نادان انسان کرتا چلا گیا۔

دورِ جاہلیت میں

دورِ جاہلیت میں پیری مریدی کی موجودہ شکل میں کوئی رواج نہیں تھا، لیکن اس دور میں لوگوں کا توہم پرستی، جادوگری، اور دیگر غیر اسلامی عقائد میں مشغول ہونا عام تھا۔ ان میں روحانی شخصیات کی تعظیم اور ان سے مدد کی طلب کی جاتی تھی، جو پیری مریدی کی کچھ موجودہ شکلوں سے مماثل ہے۔

دیگر مذاہب میں

دیگر مذاہب میں بھی پیر و مرشدی یا روحانی رہنما کا تصور موجود ہے۔ مثال کے طور پر، ہندو دھرم میں گرو اور ششہ کا رشتہ، اور عیسائیت میں پوپ یا پادری کی روحانی رہنمائی ایک معروض حقیقت ہے۔ یہ تمام مذاہب میں روحانی رہنماؤں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اسلام میں اسے انتہائی احتیاط سے دیکھا گیا ہے۔

اسلام میں پیری مریدی کا تصور

اسلام میں پیری مریدی کا کوئی باقاعدہ تصور قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔ اگر پیری مریدی شریعت کے دائرے میں رہے تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس میں بدعت، شرک، یا غیر اسلامی رسومات شامل ہو جائیں تو یہ ناجائز ہو جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: "ہر بدعت گمراہی ہے

صحابہ کرام کی زندگی میں ہمیں پیری مریدی کا کوئی باقاعدہ تصور نہیں ملتا۔ صحابہ کرام نے اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کی اور براہ راست اللہ کی رضا کے لیے عمل کیا۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام جیسے امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل نے ہمیشہ دین کی اصل تعلیمات کو ترجیح دیا اور بدعات سے بچنے کی تلقین کی۔ ان کے نزدیک ہر وہ عمل جو دین میں نئی چیزوں کا اضافہ کرے، قابلِ قبول نہیں ہے۔

مختلف مسالک میں

مسلک بریلوی، اہل تشیع، زیادہ تر اس پیری مریدی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جبکہ مسلک دیوبند بھی کہیں مخصوص صورت میں اس کی لپیٹ میں ہے۔

پاکستان میں پیری مریدی کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان میں پیری مریدی کا بڑھتا ہوا رجحان عوام کو دین کے اصل مقاصد سے دور کر رہا ہے۔ یہ نظام بعض اوقات مالی استحصال اور توہم پرستی کا باعث بنتا ہے، جس سے سماجی ناانصافی اور غیر دینی عقائد کی ترویج ہوتی ہے۔

اسلامی تعلیمات پر عمل

اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے بدعت سے بچا جا سکتا ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے اور اسلامی اصولوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"

نتیجہ

پیری مریدی کا نظام اگرچہ ابتدا میں روحانی رہنمائی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اس میں وقت کے ساتھ ایسی بدعات شامل ہو گئیں جو اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر ہیں۔ ہمیں دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھتے ہوئے ہر طرح کی بدعت سے بچنا چاہیے تاکہ ہم اسلام کی اصل روح کو برقرار رکھ سکیں۔