دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے – 38: جھوٹی کرامات کا پرچار

جھوٹی کرامات کا پرچار

جھوٹی کرامات کا پرچار ایک ایسا عمل ہے جس میں جھوٹے یا فرضی واقعات کو معجزات اور کرامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جائے یا کسی مخصوص شخصیت، گروہ، یا مسلک کو غیر حقیقی طور پر بلند کیا جا سکے۔

قرآن پاک میں جھوٹ بولنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں: "جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو"۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے"۔

جھوٹی کرامات کا پرچار نہ صرف دھوکہ دہی ہے بلکہ یہ دین کی تعلیمات میں اضافے اور بدعت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔

مختلف مسالک میں جھوٹی کرامات

جھوٹی کرامات عموماً ان مسالک یا گروہوں سے منسلک ہوتی ہیں جو عوامی عقیدہ حاصل کرنے کے لیے مبالغہ آرائی یا غیر حقیقی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ خاص طور پر بعض صوفی حلقوں میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے پیر یا بزرگوں کی جھوٹی کرامات بیان کر کے ان کے مقام کو بلند کرتے ہیں۔

اس کے برعکس اہلِ حدیث اور دیوبند مسالک جھوٹی کرامات کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے دین میں تحریف سمجھتے ہیں۔ بریلوی مسلک میں بھی بعض گروہ مبالغہ آرائی کے مرتکب ہوئے ہیں، جبکہ اہلِ تشیع میں بعض واقعات آئمہ معصومین کی کرامات کے حوالے سے مبالغہ پر مبنی نظر آتے ہیں۔

تاریخی پس منظر

جھوٹی کرامات کا آغاز اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں نہیں ہوا بلکہ بعد کے ادوار میں عوام کو متاثر کرنے کے لیے یہ رجحان سامنے آیا۔ خاص طور پر جب اسلام غیر مسلم علاقوں میں پھیلا اور مختلف ثقافتوں سے میل جول ہوا، تب بعض افراد نے کرامات اور معجزات کو عوامی مقبولیت کا ذریعہ بنایا۔ یہ بدعت اکثر صوفیانہ تحریکوں کے ساتھ منسلک ہوئی جو عوام کو متاثر کرنے کے لیے مبالغہ آمیز دعوے کرتے تھے۔

پیر عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب کرامات

بریلوی مکتب فکر میں بعض افراد پیر عبدالقادر جیلانیؒ کی نسبت سے مختلف کراماتی کہانیاں بیان کرتے ہیں، جن میں سے کچھ مستند ہیں لیکن دوسروں کو مبالغہ یا جھوٹ پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ پیر عبدالقادر جیلانیؒ کا شمار اولیاء کرام میں ہوتا ہے، اور ان کی حقیقی کرامات اور علم و تقویٰ کے بارے میں اسلامی تاریخ میں معتبر شواہد موجود ہیں۔

تاہم، کچھ حلقے عوام میں اپنی مقبولیت یا عقیدت پیدا کرنے کے لیے ان سے منسوب جھوٹے واقعات بیان کرتے ہیں۔

جھوٹے قصے اور ان کا پرچار

ان جھوٹے قصوں میں ایسی باتیں شامل ہیں جو قرآن و سنت کی تعلیمات اور عقلی بنیادوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ مثال کے طور پر، کچھ کہانیوں میں پیر عبدالقادر جیلانیؒ کو غیب جاننے والا یا کسی غیر شرعی عمل میں ملوث دکھایا جاتا ہے، جو اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔

بریلوی علماء کی رائے

بریلوی مکتب فکر کے کئی جید علماء جھوٹ اور مبالغہ آرائی کے سخت مخالف ہیں۔ اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ نے اپنی تحریروں میں قرآن و سنت کے خلاف بات کرنے اور جھوٹے واقعات گھڑنے والوں کی مذمت کی ہے۔

تاہم، بدقسمتی سے، بعض غیر ذمہ دار افراد ان جھوٹے قصوں کو بازاروں میں کتابچوں، ویڈیوز، اور عوامی جلسوں کے ذریعے عام کرتے ہیں، جس سے عوام کے عقائد کمزور اور دین سے دوری پیدا ہوتی ہے۔

اصلاح کی ضرورت

ان جھوٹے قصوں کا رد کرنا اور عوام کو پیر عبدالقادر جیلانیؒ کی اصل تعلیمات اور کرامات سے روشناس کروانا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے:

اسلام میں اللہ کے سوا کسی کو غیب دانی یا حاجت روائی ماننا شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اولیاء کرام اللہ کے نیک بندے تھے، لیکن ان سے منسوب جھوٹے واقعات اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں۔

تاریخی اور علاقائی اثرات

دورِ جاہلیت میں بھی جھوٹے معجزات اور دیومالائی کہانیاں عام تھیں۔ مشرکین مکہ اپنے بتوں اور دیوتاؤں کے معجزات بیان کرتے تھے تاکہ لوگوں کو ان کی عبادت کی طرف راغب کیا جا سکے۔ قرآن مجید نے ان خیالات کو سختی سے رد کیا اور واضح کیا کہ معجزہ صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں جھوٹی کرامات کا رجحان خاص طور پر صوفیانہ سلسلوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہاں جھوٹی کراماتی کہانیاں، تصوراتی تصاویر، اور کتابچے عام عوام کے عقائد کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس رجحان نے معاشرتی خرابیوں کو جنم دیا، جیسے عوام کا عقیدے کے نام پر استحصال اور دین سے دوری۔

مثال کے طور پر، مزاروں پر جھوٹے معجزات کی تشہیر کر کے مالی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل عوام کے لیے گمراہی کا سبب بنتا ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

دیگر مذاہب میں جھوٹی کرامات

دیگر مذاہب میں بھی جھوٹے معجزات اور کرامات کا تصور پایا جاتا ہے۔ عیسائیت میں بعض افراد نے خود کو معجزہ دکھانے والا ظاہر کیا تاکہ عوام کو اپنی طرف مائل کریں، جیسا کہ "معجزاتی پانی" یا "شفائی اجتماعات" کا رجحان۔ ہندومت میں دیوی دیوتاؤں کی کرامات کے قصے اور بدھ مت میں بعض روحانی اساتذہ کے بارے میں مبالغہ آرائی دیکھی جاتی ہے۔

ان تمام مثالوں میں جھوٹے معجزات کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا یا کسی مذہبی رہنما کی غیر حقیقی عظمت کو ظاہر کرنا رہا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

اسلام میں جھوٹ بولنا اور بدعت کو فروغ دینا سختی سے ممنوع ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے"۔ حدیث میں بھی جھوٹ کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

جھوٹی کرامات دین میں تحریف کے زمرے میں آتی ہیں اور شرعی طور پر حرام ہیں۔

مختلف مسالک کا نقطہ نظر

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام کے نزدیک جھوٹی کرامات کا پرچار کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ دین میں جھوٹ اور بدعت کے مترادف ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "کرامت کے نام پر جھوٹ بولنا دین کو بگاڑنے کی کوشش ہے"۔

امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل نے بھی بدعت اور جھوٹ کی مذمت کی ہے اور عوام کو ایسے اعمال سے بچنے کی تاکید کی ہے۔

اس گناہ سے بچنے کے لیے اقدامات

  1. علم کی جستجو: قرآن و حدیث کی صحیح تعلیمات کو سمجھیں
  2. تحقیق کریں: کسی بھی کرامتی یا معجزے کی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں
  3. مستند علماء سے رجوع: دین کے معاملات میں ماہر اور دیانتدار علماء سے رہنمائی حاصل کریں
  4. تقویٰ کا فروغ: اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور سچائی کو اپنائیں
  5. بدعات کا رد: جھوٹے دعوے کرنے والوں کی حمایت نہ کریں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں

ان اقدامات سے نہ صرف معاشرے کو جھوٹی کرامات کے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ دین کے حقیقی پیغام کو بھی عام کیا جا سکتا ہے۔