دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
30 - درگاہوں پر طواف کرنا

درگاہوں پر طواف کرنا ایک بدعت اور شرک ہے۔ اس مضمون میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اسلام ایک مکمل دین ہے جو ہر قسم کے شرک اور بدعات سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے۔ "درگاہوں پر طواف کرنا" ایک ایسی بدعت ہے جس نے اسلام کی پاکیزگی پر حملہ کیا ہے۔ یہ مضمون قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بدعت کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔

درگاہوں پر طواف کرنے کا مطلب مزارات، قبروں یا اولیاء اللہ کے مقامات کے گرد گھومنا ہے، جیسا کہ خانہ کعبہ کے گرد طواف کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اکثر عقیدت، احترام یا برکت حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم، اسلام میں طواف ایک عبادتی عمل ہے جو صرف خانہ کعبہ کے لیے مخصوص ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "اور ہم نے ہر انسان کے لیے حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں۔" (سورہ الحج: 29)

خبردار! درگاہوں پر طواف کرنا، ان سے برکت طلب کرنا، اور ان کو عبادت کا ذریعہ بنانا شرک ہے۔ طواف صرف خانہ کعبہ کے لیے ہے۔

دور جاہلیت میں طواف

اسلام سے قبل مشرکین عرب کعبہ کے علاوہ بتوں کے گرد طواف کرتے تھے۔ یہ عمل اللہ کی عبادت سے انحراف اور شرک کی واضح شکل تھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ دے سکتی ہیں۔" (سورہ یونس: 18)

اسلام نے ان تمام جاہلی رسومات کو ختم کر دیا اور طواف کو صرف خانہ کعبہ کے لیے مخصوص کر دیا۔ لیکن افسوس کہ آج کچھ مسلمان پھر انہی جاہلی رسومات میں واپس جا رہے ہیں اور درگاہوں پر طواف کر رہے ہیں۔

معاشرتی اثرات

پاکستان، بھارت، اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں درگاہوں پر طواف کرنا ایک عام روایت بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے پر بہت ہی برے اثرات مرتب ہوتے دکھائی دیتے ہیں:

1. توحید کی پامالی: اللہ کی عبادت کے بجائے انسان قبروں کی تعظیم میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

2. معاشرتی تقسیم: مختلف درگاہوں کی تعظیم کے باعث فرقہ واریت اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔

3. مالی استحصال: درگاہوں پر چندے اور نذرانے وصول کیے جاتے ہیں، جو بعض اوقات استحصال کا باعث بنتے ہیں۔

دیگر مذاہب میں تصور

دنیا کے دیگر مذاہب عالم میں بھی اس بدعت کے تصورات موجود ہیں۔ جیسے کہ:

زرتشت: زرتشتی مذہب میں مقدس آگ اور عبادت گاہوں کے گرد گھومنے کا تصور پایا جاتا ہے۔

ہندومت: ہندو دھرم میں مختلف دیو دیوتاؤں کے مندروں کے گرد طواف کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔

بدھ مت: بدھ مت کے ماننے والے بدھا کے مجسمے یا اسٹوپا کے گرد طواف کرتے ہیں۔

یہودیت: یہودی مذہب میں طواف کا کوئی واضح تصور نہیں، لیکن مقدس مقامات کی تعظیم کا رجحان پایا جاتا ہے۔

عیسائیت: کچھ عیسائی مقدس مزارات یا چرچ کے گرد گھوم کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

برصغیر میں روایت کا فروغ

درگاہوں پر طواف کرنے کی روایت برصغیر میں مسلمانوں کی تصوف سے وابستگی کے بعد پروان چڑھی۔ کچھ افراد نے اولیاء اللہ کے احترام میں ان کی قبروں کے گرد گھومنے کو برکت کا ذریعہ سمجھ لیا۔ یہ عمل صوفیازم کے کچھ فرقوں میں زیادہ مقبول ہوا۔

دیکھا جائے تو برصغیر میں صوفیازم نے محض شرک ہی پھیلایا ہے۔ لوگوں کو بجائے اللہ کے نزدیک کرنے کے انہوں نے اپنے پیچھے لگا دیا۔ صوفیاء نے اللہ کی عبادت کی بجائے اپنی شخصیت کو مرکزیت دی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا۔

پاکستان کی مشہور درگاہیں

پاکستان میں مشہور درگاہوں جہاں یہ شرک اور بدعت کی رسم ادا کی جاتی ہے:

1. داتا دربار (لاہور)

2. عبداللہ شاہ غازی (کراچی)

3. بابا فرید گنج شکر (پاکپتن)

4. شاہ رکن عالم (ملتان)

5. لال شہباز قلندر (سیہون)

ان مقامات پر اکثر لوگ عقیدت کے نام پر طواف کرتے ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ) کے نزدیک طواف ایک عبادتی عمل ہے جو صرف خانہ کعبہ کے لیے مخصوص ہے۔ کسی اور جگہ کا طواف کرنا بدعت اور شرک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ: ان کے نزدیک درگاہوں پر طواف کرنا حرام ہے اور یہ شرک کی طرف لے جاتا ہے۔

امام مالکؒ: انہوں نے بھی اس عمل کو حرام قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔

امام شافعیؒ: ان کے نزدیک طواف صرف خانہ کعبہ کے لیے ہے اور کسی اور جگہ کا طواف جائز نہیں ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ: انہوں نے بھی اس عمل کو بدعت اور شرک قرار دیا ہے۔

مختلف مسالک کا موقف

مسلک بریلوی: کچھ بریلوی افراد درگاہوں کی تعظیم میں طواف کرتے ہیں، لیکن اعتدال پسند علماء اس کی ممانعت کرتے ہیں۔

مسلک اہلحدیث: اہلحدیث علماء اس عمل کو بدعت اور شرک قرار دیتے ہیں۔

مسلک دیوبندی: دیوبندی علماء اس عمل کو دین سے انحراف سمجھتے ہیں اور سختی سے منع کرتے ہیں۔

مسلک اہل تشیع: اہل تشیع میں بھی کچھ افراد اماموں کی قبروں کے گرد طواف کرتے ہیں، لیکن یہ عمل عام طور پر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

مسلک ندوی: ندوی علماء اس عمل کو غیر شرعی اور قابل مذمت سمجھتے ہیں۔

مسلک احمدی: احمدی جماعت میں بھی یہ عمل ممنوع ہے کیونکہ یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں طواف

اسلام میں طواف صرف خانہ کعبہ کے لیے خاص ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "اور بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام بنایا۔" (سورہ المائدہ: 97)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "سجدہ اور طواف صرف اللہ کے لیے ہے۔" (سنن ابی داود)

ان آیات اور احادیث سے واضح ہے کہ طواف ایک عبادتی عمل ہے جو صرف اللہ کی عبادت کے لیے ہے اور صرف خانہ کعبہ کے گرد کیا جا سکتا ہے۔ کسی اور جگہ کا طواف کرنا شرک ہے۔

احتیاطی تدابیر

بہ حیثیت مسلمان ہم اس شرک اور بدعت کی رسم سے خود کو کیسے بچائیں اور دوسروں کو کیسے تلقین کریں:

1. علم دین حاصل کریں: قرآن و حدیث کی روشنی میں بدعتوں کو پہچانیں۔

2. توحید کی دعوت دیں: اللہ کی عبادت کو اس کی اصل شکل میں قائم کریں۔

3. معاشرتی اصلاح: درگاہوں پر طواف کی بجائے لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات دیں۔

4. علماء سے رجوع کریں: مستند علماء سے رہنمائی حاصل کریں۔

5. بدعت کی مخالفت: ہر سطح پر اس عمل کے نقصانات کو اجاگر کریں۔

خلاصہ

درگاہوں پر طواف کرنا اسلامی عقائد کے خلاف ہے اور شرک کے قریب لے جاتا ہے۔ ہمیں اس بدعت کو ترک کر کے توحید کی اصل تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق رکھیں اور کسی بھی ایسے عمل سے بچیں جو شرک یا بدعت کی طرف لے جائے۔ اللہ سے براہ راست دعا کریں اور کسی کو اس کا وسیلہ نہ بنائیں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

#درگاہ #طواف #بدعت #شرک #مزارات #اسلامی_تعلیمات #بلاگ_لوورز
Uzair Hameed

Uzair Hameed

بانی اور مدیر، بلاگ لوورز

اسلامی تعلیمات، تاریخ اور عصری مسائل پر تحقیق

اس پوسٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کریں

متعلقہ پوسٹس