خوابوں کی حقیقت اور تعبیرات کے حوالے سے دین اسلام نے ایک معتدل راہ بتائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خوابوں کی اقسام اور ان کی تعبیرات پر روشنی ڈالی، تاہم غیر شرعی خوابوں کو دین کا حصہ بنانا اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانا اسلام میں منع ہے۔ اس مضمون میں اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں دور جاہلیت کے خوابوں کے تصورات، موجودہ دور میں اس بدعت کے اثرات، اور اس حوالے سے ائمہ کرام کی آراء شامل ہیں۔
خوابوں کا دین میں ایک خاص مقام ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک اللہ کی طرف سے، ایک شیطان کی طرف سے خوف پیدا کرنے والا، اور ایک انسان کے خیالات کا اثر۔"
اسلام نے خوابوں کو دین کا باقاعدہ حصہ نہیں بنایا اور نبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں صرف وحی کو دین کی بنیاد مانا گیا ہے۔ غیر شرعی خوابوں کو دین میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے خوابوں کی بنیاد پر لوگوں کو دین کی طرف منسوب کر کے فریب دیا جائے، جو کہ ناجائز ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو کوئی ہمارے دین میں ایسی نئی باتیں ایجاد کرے جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
دور جاہلیت میں خوابوں کا تصور
دور جاہلیت میں لوگ خوابوں کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کی بنیاد پر مستقبل کے حالات اور فیصلوں کا اندازہ لگاتے تھے۔ ان کے نزدیک خوابوں کو الٰہی پیغام سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر ان خوابوں کو جو مواقع یا جنگوں سے متعلق ہوں۔ اسلام نے ان تصورات کی نفی کی اور وحی کو دین میں آخری حجت قرار دیا۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو پیغمبر بنا کر بھیجا جن پر ہم وحی بھیجتے تھے۔" (سورہ الانبیاء) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ انبیاء علیہم السلام کے ذریعے جاری رکھا اور خوابوں کو دین کا منبع نہیں بنایا۔
غیر شرعی خوابوں کی تاریخ
اسلامی تاریخ میں غیر شرعی خوابوں کو دین میں شامل کرنے کا آغاز ابتدائی دور میں نہیں ہوا بلکہ بعد میں جب لوگوں نے دین میں نئی نئی باتیں شامل کرنا شروع کیں، تب یہ بدعت بھی عام ہوئی۔ بعض صوفیانہ تحریکوں میں اس رجحان کو فروغ ملا کہ خوابوں کی بنیاد پر اپنے نظریات یا عقائد کو لوگوں میں مقبول کیا جائے۔
تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جب بعض لوگوں نے اپنے خوابوں کو بنیاد بنا کر دینی احکامات میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے خوابوں کو وحی کے درجہ پر پہنچا دیا اور لوگوں کو اپنے جھوٹے دعووں کا شکار کر لیا۔ یہ تمام باتیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
خبردار! خوابوں کو وحی یا دینی حکم کے درجہ میں لانا شرک اور کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ صرف قرآن اور سنت ہی دین کے مصادر ہیں۔
موجودہ دور میں بدعت کا فروغ
جنوبی ایشیائی ممالک جیسے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں لوگوں کی جذباتی وابستگی اور مذہبی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر شرعی خوابوں کو دین کا حصہ بنا کر پیسے کمانے کا رجحان عام ہے۔ یہاں بہت سے عاملین اور پیروں نے لوگوں کے خوابوں کی جعلی تعبیریں بتا کر ان سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اور خوابوں کی بنا پر مختلف رسومات اور بدعات کو فروغ دیا ہے۔
دیگر مسلم ممالک میں بھی اس بدعت کی کچھ شکلیں پائی جاتی ہیں، لیکن وہاں علماء کرام اور دینی حلقوں کی طرف سے اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ تاہم، بعض جگہوں پر لوگوں کے علم اور کم علمی کے سبب کچھ خوابوں کو روحانی اور الٰہی احکامات سے منسوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو کہ غیر شرعی ہے۔
سوشل میڈیا کے دور میں اس بدعت نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ کچھ لوگ اپنے خوابوں کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور انہیں دینی پیغامات قرار دیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور دین میں نئی باتیں شامل کرتے ہیں۔
مسالک کا موقف
مختلف مسالک میں غیر شرعی خوابوں کو دین کا حصہ بنانے کے بارے میں سخت موقف پایا جاتا ہے۔ تمام مسالک اس بات پر متفق ہیں کہ خوابوں کو دینی احکامات کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بعض معاشروں میں خوابوں کی بنا پر فیصلے کرنے کی وجہ سے خاندانوں میں تنازعات اور فتنہ پیدا ہوتا ہے، جس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
اہل سنت والجماعت: تمام مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ خوابوں کو دین میں حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ صرف قرآن اور سنت ہی دین کے مصادر ہیں۔
اہل تشیع: اہل تشیع بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خوابوں کو دینی احکامات کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، البتہ بعض فرقوں میں اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
ائمہ کرام کی آراء
ائمہ کرام نے ہمیشہ غیر شرعی خوابوں کو دین کا حصہ بنانے کی مخالفت کی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ: ان کے نزدیک خواب ایک ذاتی تجربہ ہے، جسے دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
امام شافعیؒ: خوابوں کو دینی فیصلوں کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے، سوائے ان خوابوں کے جو انبیاء علیہم السلام کو اللہ کی طرف سے وحی کے طور پر آتے تھے۔
امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ: دونوں ائمہ نے بھی خوابوں کو دین کا حصہ بنانے کو بدعت سمجھا ہے اور اسے منع فرمایا ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ خوابوں کو دین کا حصہ بنانا اور ان کی بنیاد پر شرعی احکامات وضع کرنا ایک بڑی بدعت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دین صرف قرآن اور سنت پر مبنی ہے اور کسی بھی خواب کو دین میں داخل کرنا جائز نہیں ہے۔
احتیاطی تدابیر
1. قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کریں: دین کے احکامات اور قوانین قرآن اور سنت سے ثابت ہیں، ان کے علاوہ کسی اور ذریعے کو دین میں شامل نہ کریں۔
2. علماء کرام سے رجوع کریں: اپنے عقائد و اعمال میں علماء کرام کی رہنمائی حاصل کریں اور خوابوں کو بنیاد بنا کر دینی فیصلے نہ کریں۔
3. بدعات سے بچیں: اپنے عقائد کو شریعت کے مطابق رکھیں اور بدعات سے دور رہیں۔
4. اپنے ایمان کی حفاظت کریں: دین میں بغیر تحقیق کے کسی بات کو قبول نہ کریں، اور خوابوں کو اللہ کی طرف سے قطعی حکم سمجھ کر قبول نہ کریں۔
5. علم حاصل کریں: دینی علوم کی تعلیم حاصل کریں اور خوابوں کے معاملے میں صحیح عقیدہ اپنائیں۔
خلاصہ
خلاصہ یہ کہ غیر شرعی خوابوں کو دین کا حصہ بنانے کا کوئی جواز نہیں، اور اسلامی شریعت میں اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ائمہ کرام کے مطابق، یہ بدعت دین میں بگاڑ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ مسلمان معاشروں کو اس بدعت سے بچنے اور لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق رکھیں اور کسی بھی خواب یا ذاتی تجربے کو دین کا حصہ نہ بنائیں۔ دین مکمل ہے اور اس میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔