دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
25 - مردوں کی قبروں پر عورتوں کا جانا

مردوں کی قبروں پر عورتوں کا جانا ایک بدعت ہے۔ اس مضمون میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اسلامی معاشرے میں قبروں کی زیارت کا ایک خاص مقام ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے لیے شرعی حدود اور احکامات موجود ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے لیے قبروں پر جانے کا حکم، ائمہ کرام کے اقوال، بدعات جاہلیت اور معاشرتی نقصانات کے بارے میں یہاں تفصیل دی جا رہی ہے۔ قبروں کی زیارت کا اصل مقصد آخرت کی یاد اور موت کا عبرت حاصل کرنا ہے، نہ کہ کوئی مخصوص رسم یا بدعت ادا کرنا۔

قرآن مجید میں قبروں کی زیارت سے متعلق براہِ راست حکم نہیں آیا، لیکن قرآن نے ہمیں نصیحت کے طور پر موت اور آخرت کو یاد رکھنے کا حکم دیا ہے: "تمہیں کثرت کی طلب نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔" (سورہ التکاثر) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کو دیکھنا اور موت کو یاد رکھنا انسان کو غفلت سے بچاتا ہے اور اسے آخرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے قبروں کی زیارت کی اجازت اس لیے دی تاکہ اس سے انسان کو آخرت کی یاد حاصل ہو اور یہ دل کے نرم ہونے کا سبب بنے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: "میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔" (صحیح مسلم) اس حدیث سے واضح ہے کہ قبروں کی زیارت کا مقصد آخرت کی یاد ہے، نہ کہ کوئی مخصوص رسم یا بدعت۔

عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت

اسلامی روایات میں مردوں کو قبروں کی زیارت کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن عورتوں کے بارے میں علماء نے مختلف آراء دی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا، اور بعض احادیث میں اس کی سختی سے ممانعت آئی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کرتی ہیں۔" (سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ)

اس حدیث کی رو سے عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا سخت ناپسندیدہ اور حرام کے قریب ہے۔ بعض دوسری احادیث میں عورتوں کو قبروں پر جانے سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "عورتوں کو قبروں کی زیارت سے روکو۔" (سنن ابن ماجہ)

علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ عورتوں کے جذباتی ہونے کے باعث یہ حکم آیا۔ عورتیں عام طور پر جذباتی ہوتی ہیں اور روتی پیٹتی ہیں جس سے شرعی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ عورت کے قبر پر چیخ و پکار کرنے، گریبان چاک کرنے، بال نوچنے اور دیگر جاہلی رسومات کا ارتکاب کرنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے عورتوں کو اس سے منع کیا ہے۔

بعض علماء نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ عورتوں کا قبروں پر جانا فتنے کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ وہاں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہوتا ہے، اور بعض اوقات غیر شرعی امور کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس لیے شریعت نے عورتوں کو اس سے بچانے کے لیے سخت احتیاط کا حکم دیا ہے۔

ائمہ کرام کے اقوال

چاروں مکاتب فکری یعنی امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ میں سے اکثر فقہاء نے عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کو منع کیا ہے۔ اس ممانعت کا سبب ان کے جذبات کا غالب آنا اور شرعی حدود کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہے۔

امام ابو حنیفہؒ: قبروں کی زیارت کے لیے مردوں کو اجازت دی گئی ہے، لیکن عورتوں کو مشروط اجازت ہے، یعنی وہ اگر خود کو قابو میں رکھ سکیں تو زیارت کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر ان سے چیخ و پکار، نوحہ اور گریبان چاک کرنے جیسے کام سرزد ہوتے ہوں تو انہیں منع کر دیا جائے گا۔

امام مالکؒ: عورتوں کے لیے قبروں پر جانے کی اجازت محدود ہے، وہ بھی اس شرط پر کہ وہ شرعی حدود کی پابند ہوں اور غیر ضروری کام نہ کریں۔ اگر ان سے کوئی خلاف شرع عمل سرزد ہو تو انہیں روک دیا جائے گا۔

امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ: یہ دونوں ائمہ بھی عورتوں کی قبروں پر جانے کو مستحسن نہیں سمجھتے، خاص طور پر اس صورت میں جب اس سے شرعی احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ ان کا موقف ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت سے روکنا ہی بہتر ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ "عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت مکروہ ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ حدیث میں ان پر لعنت آئی ہے۔" یہ موقف اہل سنت کے ایک بڑے طبقے کا ہے۔

بدعات جاہلیت

عہد جاہلیت میں مردوں اور عورتوں کا قبروں پر جانا اکثر بدعات اور غیر شرعی رسومات کے ساتھ منسلک تھا۔ اسلام نے ان روایات کی نفی کی اور مردوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی، لیکن اس کے ساتھ شرعی اصول بھی مقرر کیے گئے۔

جاہلیت میں لوگ قبروں پر کھانا پکاتے، جانور ذبح کرتے، شراب پیتے اور مختلف غیر اخلاقی رسومات ادا کرتے تھے۔ اسلام نے ان تمام رسومات کو ختم کر دیا اور صرف قبروں سے عبرت حاصل کرنے اور دعا کرنے کا حکم دیا۔

آج کے دور میں بھی بعض مقامات پر عورتیں قبروں پر مختلف بدعات انجام دیتی ہیں جیسے چراغ جلانا، میلے سجانا اور قبروں کو چھونا وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اسلامی تعلیمات سے منافی ہیں اور دین میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔

خبردار! قبروں پر چراغ جلانا، میلے سجانا، قبروں کو چھونا، چادریں چڑھانا، سجدا کرنا، طواف کرنا اور دیگر غیر شرعی رسومات بدعات ہیں جن کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ تمام اعمال شرک اور بدعت کی طرف لے جاتے ہیں۔

بعض جگہوں پر قبروں کو سجدہ کیا جاتا ہے، ان کی پوجا کی جاتی ہے، اور ان سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ یہ تمام اعمال شرک ہیں جو اسلام کی بنیاد توحید کے خلاف ہیں۔ ایک مسلمان کو صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہیے اور صرف اللہ کے سامنے سجدہ کرنا چاہیے۔

مختلف ممالک میں روایات

عرب ممالک: عرب ممالک میں عورتوں کا قبروں پر جانا اکثر محدود ہوتا ہے، اور وہاں اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں عورتوں کو قبرستانوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور یہ ایک معروف شرعی حکم ہے۔

پاکستان اور ہندوستان: ان ممالک میں بعض خواتین قبروں پر جا کر بدعات انجام دیتی ہیں، جیسے چادریں چڑھانا، دعا مانگنا، جو کہ شریعت میں ممانعت کے دائرے میں آتا ہے۔ یہاں قبروں پر میلے لگتے ہیں، مزارات پر عورتوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور مختلف غیر شرعی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔

ترکی اور ایران: ان ممالک میں عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت ہے، لیکن وہاں بھی بعض بدعات کو فروغ دیا گیا ہے جیسے قبروں پر چادریں چڑھانا وغیرہ۔ تاہم ان ممالک میں بھی بعض علماء اس کی مخالفت کرتے ہیں اور عورتوں کو قبروں پر جانے سے روکنے کی تلقین کرتے ہیں۔

افریقہ کے بعض ممالک میں بھی قبروں پر عورتوں کے جانے کی روایت موجود ہے، جہاں وہ مختلف رسومات ادا کرتی ہیں۔ یہ تمام روایات اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں اور انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشرتی نقصانات

عورتوں کا قبروں پر جانا اور وہاں مختلف غیر شرعی کاموں کو انجام دینا ایک بدعت ہے جس کا اسلامی تعلیمات میں کوئی ثبوت نہیں۔ بعض مواقع پر اس کا آغاز خرافات پر مبنی روایات سے ہوا ہے جو لوگوں کو دین سے دور اور بدعات میں مبتلا کرتی ہیں۔

دین میں بگاڑ: لوگ سنت سے دور ہوتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی بجائے بدعات کو فروغ دیتے ہیں۔ اس طرح دین کی اصل شکل بگڑ جاتی ہے اور لوگ بدعات کو عبادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔

خواتین کی بے حرمتی: بعض مقامات پر قبروں پر عورتوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک ہوتا ہے، جو کہ معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے۔ ہجوم کی صورت میں عورتوں کو دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان کی عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔

شرعی احکامات کی خلاف ورزی: عورتیں جذبات میں آ کر گریہ و زاری کرتی ہیں اور بے جا رسوم ادا کرتی ہیں، جو کہ شرعی اصولوں سے متصادم ہے۔ نوحہ کرنا، گریبان چاک کرنا، اور چیخنا پکارنا سب نبی ﷺ کی ممانعت کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ قبروں پر عورتوں کا جانا مردوں اور عورتوں کے اختلاط کا باعث بھی بنتا ہے، جو کہ اسلام میں ناجائز ہے۔ غیر محرم مردوں اور عورتوں کا ایک جگہ جمع ہونا فتنے کا سبب بنتا ہے اور اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔

خلاصہ

اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لیے قبروں کی زیارت مستحب ہے، جبکہ عورتوں کو جذباتی پہلو اور شرعی حدود کی خلاف ورزی سے بچانے کے لیے اسے روکا گیا ہے۔ علماء اور ائمہ کرام کی رائے کے مطابق عورتوں کو چاہیئے کہ وہ ان حدود کا احترام کریں اور ایسی بدعات سے بچیں جو دین میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور ان چیزوں سے بچیں جن سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ عورتیں اپنی عبادات اور نیک اعمال گھروں میں بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہیں، اور انہیں قبروں پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

قبروں کی زیارت کا اصل مقصد عبرت حاصل کرنا اور آخرت کو یاد رکھنا ہے، نہ کہ کوئی رسم یا بدعت ادا کرنا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے قبروں کی زیارت کریں اور شرعی حدود کا خیال رکھیں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

#قبروں_کی_زیارت #عورتوں_کا_قبروں_پر_جانا #بدعت #اسلامی_تعلیمات #بلاگ_لوورز
Uzair Hameed

Uzair Hameed

بانی اور مدیر، بلاگ لوورز

اسلامی تعلیمات، تاریخ اور عصری مسائل پر تحقیق

اس پوسٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کریں

متعلقہ پوسٹس