محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے، جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ تاریخ اسلام کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہے جس نے امت مسلمہ کے دلوں کو گہرا زخم دیا۔ ماتم اور سینہ کوبی کا مطلب ہے کہ محرم کے ایام میں اہل تشیع بالخصوص حضرت امام حسین اور کربلا کے واقعہ کے غم میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ ماتم اور سینہ کوبی میں لوگ اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہیں، بعض مقامات پر زنجیروں یا دیگر آلات کا استعمال بھی کرتے ہیں تاکہ اپنے غم اور عقیدت کا اظہار کر سکیں۔ یہ عمل محرم کی پہلی دس تاریخوں میں خاص طور پر عام ہوتا ہے اور کربلا کے شہداء کی یاد میں کئی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ماتم اور سینہ کوبی کا یہ طریقہ کار مختلف ثقافتوں اور علاقوں میں مختلف انداز میں اپنایا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں یہ عمل انتہائی شدت اختیار کر لیتا ہے جہاں لوگ زنجیروں اور تلواروں سے اپنے آپ کو زخمی کرتے ہیں۔ جبکہ بعض جگہوں پر صرف علامتی طور پر سینہ پیٹنے تک محدود رکھا جاتا ہے۔ یہ اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس عمل کی کوئی متفقہ شکل نہیں بلکہ یہ مقامی روایات اور رسوم کے مطابق ڈھل گیا ہے۔
جاہلیت اور محرم کا مہینہ
اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں بھی عربوں کے مختلف قبائل محرم کے مہینے کو حرمت والا مہینہ مانتے تھے، لیکن اس زمانے میں ماتم اور سینہ کوبی کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ بلکہ محرم کا مہینہ عربوں میں جنگ و جدال سے پرہیز کا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اور اس مہینے میں خونریزی سے دور رہا جاتا تھا۔ عرب جاہلیت میں بھی اس مہینے کی تعظیم کرتے تھے اور اس میں لڑائی جھگڑے کو ناجائز سمجھتے تھے۔
دور جاہلیت کے عربوں کے ہاں محرم کا مہینہ امن و امان کا مہینہ تھا۔ اس مہینے میں اگر کوئی قاتل اپنے مقتول کے قبیلے میں آ جاتا تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ یہ اس مہینے کی عظمت اور حرمت کا ثبوت ہے کہ جاہلیت کے باوجود عرب اس مہینے کا احترام کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج محرم کا یہ مہینہ ماتم اور سینہ کوبی کی بدعات سے بھر گیا ہے جس کا دور جاہلیت میں کوئی وجود نہیں تھا۔
اہل تشیع کا نقطہ نظر
ماتم اور سینہ کوبی بالخصوص اہل تشیع میں محرم الحرام کے دوران کی جاتی ہے۔ اہل تشیع حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں یہ عمل کرتے ہیں تاکہ اپنے عقیدت کا اظہار کر سکیں۔ ان کے نزدیک یہ واقعہ ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے، اور ماتم کر کے وہ اس غم کا اظہار کرتے ہیں جو کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں پر ہوا۔ اہل تشیع کے ہاں یہ عمل محرم کی پہلی دس تاریخوں میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور اسے اپنی مذہبی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔
اہل تشیع کے نزدیک یہ عمل صرف جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک مذہبی عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے حضرت امام حسین سے محبت اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ بعض شیعہ علماء اس عمل کو جائز قرار دیتے ہیں اور اسے شہادت کے غم میں مبالغہ آرائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ عمل کربلا کے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے نسل در نسل یہ پیغام پہنچتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
اہل سنت کا موقف
اہل سنت کے مختلف مکاتب فکر میں عمومی طور پر ماتم اور سینہ کوبی کی اجازت نہیں ہے، بلکہ یہ عمل بعض مکاتب فکر میں بدعت اور غیر شرعی عمل قرار دیا جاتا ہے۔ اہل سنت علماء کے مطابق غم کا اظہار جائز ہے مگر اس کے لیے شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم کرنا چاہیے مگر اس غم کا اظہار ایسے طریقے سے نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی حدود سے تجاوز کرے۔
اہل سنت کے نزدیک محرم کا مہینہ عبادت، روزہ اور استغفار کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں نوافل، روزے اور توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے محرم کے مہینے میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے اور اسے اللہ کے مہینوں میں سب سے افضل قرار دیا ہے۔ اس لیے اہل سنت اس مہینے کو ماتم اور سینہ کوبی کی بجائے عبادات، توبہ اور نیک اعمال میں گزارنے کی تلقین کرتے ہیں۔
تاریخی ابتدا اور فروغ
تاریخی روایات کے مطابق، محرم الحرام میں ماتم اور سینہ کوبی کی ابتدا واقعہ کربلا کے فوراً بعد سے نہیں ہوئی بلکہ یہ بعد میں خاص طور پر صفوی دور میں ایران میں فروغ پانے لگی۔ ماتم کی باقاعدہ شکل صفوی حکومت کے دور میں ہی رواج پائی اور بعد میں دیگر شیعہ معاشروں میں بھی پھیل گئی۔ صفویوں نے اسے ایک رسمی شکل دی اور اسے اپنی مذہبی شناخت کا حصہ بنا لیا۔
تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائی اسلامی دور میں صحابہ کرام، تابعین اور اہل بیت نے کبھی ماتم اور سینہ کوبی کو رواج نہیں دیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ اور صحابہ نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کی رسمی ماتم سے گریز کیا۔ یہ بات اہل تشیع کی اپنی ہی تاریخی کتب میں درج ہے کہ اہل بیت نے اس طریقے کو اختیار نہیں کیا بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔
دیگر مذاہب میں ماتم
اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں محرم الحرام کے مہینے میں ماتم اور سینہ کوبی کا کوئی خاص رجحان نہیں ہے۔ تاہم بعض قدیم مذاہب میں ماتم کا تصور موجود ہے، جیسے کہ قدیم مصری، رومی اور یونانی تہذیبوں میں کسی قریبی کے انتقال پر غم کا اظہار کیا جاتا تھا۔ مگر یہ عمل محرم الحرام سے مخصوص نہیں تھا اور نہ ہی اس کی کوئی مذہبی حیثیت تھی۔
ہندو مذہب میں بھی کسی کی موت پر سوگ کے مختلف طریقے رائج ہیں جیسے سر منڈوانا، سفید کپڑے پہننا اور مخصوص رسومات ادا کرنا۔ لیکن یہ سب محرم الحرام سے منسلک نہیں بلکہ ہر موت پر عام ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ماتم اور سینہ کوبی کا جو طریقہ اہل تشیع میں رائج ہے وہ کسی اور مذہب یا تہذیب میں نہیں پایا جاتا۔ یہ ان کی اپنی ایجاد ہے جسے انہوں نے مذہب کا حصہ بنا لیا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور احادیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نہ تو چیخنا چلانا ہے اور نہ ماتم کرنا ہے، بلکہ صبر اور تحمل سے غم کا سامنا کرنا چاہئے۔"
اسلام میں غم اور رنج کا اظہار جائز ہے، مگر شریعت میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ماتم، چہرہ پیٹنے اور سینہ کوبی سے منع فرمایا ہے۔ یہ احادیث واضح طور پر اس بات کی دلیل ہیں کہ جو عمل نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے اسے انجام دینا جائز نہیں۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: "مومن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے، وہ چیختا نہیں، نہ گریبان چاک کرتا ہے اور نہ ہی اپنے بالوں کو نوچتا ہے۔"
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں غم کے اظہار کا طریقہ صبر اور تحمل ہے نہ کہ چیخ و پکار، گریبان چاک کرنا، سر پیٹنا یا سینہ کوبی کرنا۔ یہ تمام باتیں جاہلیت کے طریقے ہیں جنہیں اسلام نے ختم کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو ان جاہلی رسومات سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
علماء کرام کے اقوال
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "نبی اکرم ﷺ نے ماتم اور سینہ کوبی سے منع فرمایا ہے، اور یہ عمل غیر اسلامی ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔" (فتاویٰ ابن تیمیہ، جلد 4، صفحہ 513)
ائمہ کرام اور علماء نے عمومی طور پر ماتم اور سینہ کوبی کو ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ یہ عمل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ فقہاء کے نزدیک اگرچہ غم کا اظہار جائز ہے، مگر اسے اس حد تک نہیں لے جانا چاہئے کہ جس میں نقصان ہو یا غیر اسلامی رسم و رواج اپنائے جائیں۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ماتم کرنا، چہرہ پیٹنا، گریبان چاک کرنا اور نوحہ کرنا سب حرام ہیں۔ یہ نبی ﷺ کی صریح ممانعت کے خلاف ہے۔" (شرح مسلم)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام نووی جیسے جلیل القدر علماء نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ علماء اہل سنت کے نزدیک معتبر ہیں اور ان کے اقوال شریعت میں حجت ہیں۔ ان علماء نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ماتم اور سینہ کوبی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور یہ محض ایک بدعت ہے جسے دین میں داخل کر دیا گیا ہے۔
غیر شرعی رسومات سے اجتناب
بعض علاقوں میں محرم الحرام کے دوران مختلف غیر شرعی رسوم کا بہت اہتمام کیا جاتا ہے جیسے کہ مخصوص رنگ کے لباس زیب تن کرنا، غیر اللہ کی نذر و نیاز، غیر اللہ کے نام کی سبیل لگانا، تعزیے اٹھانا، کاٹھ اور گھوڑوں کی پوجا کرنا اور مردوں اور عورتوں کا گروہوں کی صورت میں مجالس کی طرف آنا، نوحہ اور مرثیہ گانا، قبرستان جانا، قبروں کے لیے پیک کرانا، قبروں پر اگربتیاں، پھولوں کی پتیاں ڈالنا وغیرہ۔ ان تمام اعمال کو بعض علماء بدعت قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ یا صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں عبادت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہوتی ہے اور نبی اکرم ﷺ نے کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
ان تمام رسومات میں سب سے اہم اور خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سب شرک اور بدعت کی طرف لے جاتی ہیں۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز، غیر اللہ کے نام کی سبیل لگانا، اور تعزیوں کی پوجا کرنا یہ سب ایسے اعمال ہیں جو توحید کے خلاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان تمام رسومات سے بچ کر صرف اللہ کی عبادت کرے اور اپنی عقیدت کا اظہار شرعی طریقوں سے کرے۔
خبردار! ان تمام رسومات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب بدعات اور رسومات ہیں جو بعد میں دین میں داخل کی گئیں۔ ایک مسلمان کو ان سب سے بچنا چاہیے اور صرف قرآن و سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔
محرم کی شرعی اہمیت
محرم الحرام اسلام کے چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، جن کا ذکر قرآن میں سورہ توبہ میں موجود ہے: "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔"
محرم کا مہینہ اس اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں خونریزی اور جنگ و جدال سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ نیز اس مہینے میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی یاد دل کو جھنجوڑنے والا واقعہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس مہینے کو ماتم اور سینہ کوبی کا مہینہ بنا لیا جائے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں۔" (صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم کا مہینہ عبادت، روزوں اور نیک اعمال کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ نے اس مہینے میں روزوں کی ترغیب دی ہے اور اسے افضل قرار دیا ہے۔ اس لیے اس مہینے کو ماتم اور سینہ کوبی کے بجائے عبادات، روزوں اور توبہ و استغفار میں گزارنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جس نے محرم میں ایک دن کا روزہ رکھا تو اسے تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔"
اختتامیہ اور نصیحت
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال کو پرکھیں۔ جو اعمال نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہ ہوں، ان سے اجتناب کریں اور محرم الحرام کے دوران صبر، استقامت، اور اللہ کی عبادت پر زور دیں۔
ماتم اور سینہ کوبی کی بجائے ہمیں چاہیے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں، توبہ کریں، اللہ سے مغفرت طلب کریں، اور اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ لیکن اس سبق کو سینہ کوبی اور ماتم کی بجائے اپنے اعمال اور کردار سے دکھانا چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم محرم الحرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھیں اور اس مہینے کو بدعات اور رسومات کی بجائے عبادات اور نیک اعمال کا مہینہ بنائیں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے بلکہ اپنے دین کی پاکیزگی کو بھی بچا سکیں گے۔ اللہ ہمیں بدعات سے بچنے اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔