⚠️ خبردار! اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)
اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا کیا ہے؟
اذان اسلام کے بنیادی شعائر میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ عمل نبی کریم ﷺ کے زمانے سے شروع ہوا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اسے اسی ترتیب سے ادا کیا جسے نبی ﷺ نے سکھایا۔ لیکن کچھ علاقوں میں اذان سے پہلے درود پڑھنے کا عمل شروع ہوا، جو بعد کے ادوار میں مخصوص مکاتب فکر کے پیروکاروں میں رواج پا گیا۔
اذان سے پہلے درود پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ موذن اذان دینے سے قبل نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجے۔ یہ عمل بعض مسلم معاشروں میں رائج ہے، جہاں اذان سے کچھ لمحے قبل لاؤڈ اسپیکر یا مسجد میں درود و سلام بلند کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر اذان کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔
یہ عمل اکثر برصغیر پاک و ہند میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں بعض مساجد میں موذن اذان سے پہلے "اللہم صل علی محمد" یا دیگر درود پڑھتا ہے۔ اس عمل کو بعض لوگ محبت رسول ﷺ کا اظہار سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف علماء اسے بدعت قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔
اسلام میں درود و سلام کی بے پناہ فضیلت ہے اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس عبادت کو اذان کے ساتھ اس طرح ملا دینا جس کا کوئی ثبوت نہ ہو، بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اذان کا ایک مخصوص طریقہ سکھایا اور اس میں کسی بھی قسم کے اضافے کی اجازت نہیں دی۔
اذان سے پہلے درود پڑھنے کی تاریخی حیثیت
تاریخی طور پر یہ عمل نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کا باقاعدہ آغاز بعد کے ادوار میں ہوا، جب اسلامی فتوحات اور مسلمانوں کے مختلف علاقوں میں پھیلنے کے ساتھ مختلف روایات اور رسوم دین میں شامل ہونے لگیں۔ اس کے کوئی واضح شواہد ہمیں صحابہ کرام، تابعین یا تبع تابعین کے دور سے نہیں ملتے۔
اذان سے پہلے درود پڑھنے کا عمل زیادہ تر بریلوی مکتبہ فکر میں پایا جاتا ہے۔ بریلوی علماء کا کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا ایک مستحب عمل ہے اور اس کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے اذان سے پہلے پڑھنا جائز ہے۔ تاہم، یہ موقف صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی کسی معتبر فقہی کتاب میں اس کا ذکر ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیمات میں اذان سے پہلے درود پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اذان کا جو طریقہ اور ترتیب نبی کریم ﷺ نے مقرر کی تھی، وہی صحابہ کرام کے ذریعے بعد میں منتقل ہوا۔ اذان کے بعد درود پڑھنے کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے، جیسے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم اذان سنو تو مؤذن جو کہے تم بھی وہی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد درود پڑھنا مستحب ہے، لیکن اذان سے پہلے درود پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
📌 اہم نکتہ: اذان سے پہلے درود پڑھنے کا عمل نہ تو قرآن سے ثابت ہے، نہ ہی کسی صحیح حدیث سے، اور نہ ہی صحابہ کرام یا تابعین سے منقول ہے۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جو بعد کے ادوار میں وجود میں آئی۔
مختلف مسالک میں اذان سے پہلے درود پڑھنا
1. مسلک بریلوی
بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا کہنا ہے کہ اذان سے پہلے درود پڑھنا مستحب ہے کیونکہ درود و سلام کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اذان سے پہلے درود پڑھنا ایک جائز عمل ہے اور اسے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس عمل کو "اذان سے پہلے درود" یا "درود اذان" کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
بریلوی علماء کے مطابق، اس عمل کا مقصد نبی کریم ﷺ کے ساتھ عقیدت کا اظہار اور ان کی شفاعت حاصل کرنا ہے۔ وہ اسے ایک مستحب عمل قرار دیتے ہیں اور اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ تاہم، یہ موقف اہل سنت کے دیگر مکاتب فکر میں قبول نہیں ہے۔
2. مسلک دیوبندی
دیوبندی علماء کا موقف یہ ہے کہ اذان سے پہلے درود پڑھنا بدعت ہے کیونکہ یہ عمل نبی کریم ﷺ اور صحابہ سے ثابت نہیں۔ ان کے مطابق اذان کا جو طریقہ مقرر ہے، اس میں کوئی اضافہ یا تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ اذان ایک عبادت ہے اور عبادات میں کوئی اضافہ کرنا جائز نہیں ہے۔ جو کام نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا، اسے کرنا دین میں بدعت ہے۔
3. مسلک اہل حدیث
اہل حدیث علماء اس عمل کو بدعت شمار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دین میں کسی نئے عمل کو شامل کرنا جس کا ثبوت قرآن و سنت میں نہ ہو، وہ مردود ہے۔
اہل حدیث کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے اذان کے کلمات متعین کر دیے ہیں اور ان میں کسی اضافے کی اجازت نہیں دی۔ لہذا، اذان سے پہلے درود پڑھنا ایک غیر ثابت شدہ عمل ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔
اہل تشیع کی اذان میں اضافی کلمات
مسلک اہل تشیع میں اذان کے چند اضافی کلمات شامل کیے جاتے ہیں جنہیں اہل سنت کے مقابلے میں مختلف سمجھا جاتا ہے۔ اہل تشیع کی اذان میں "اشہد ان علیاً ولی اللہ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ علی اللہ کے ولی ہیں) اور بعض مواقع پر "حی علی خیر العمل" (نیک عمل کی طرف آؤ) کے کلمات شامل ہوتے ہیں۔ ان اضافی کلمات کا مقصد حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور اہل بیت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
اہل تشیع کے نزدیک اذان ایک مقدس عمل ہے اور اس میں حضرت علیؑ کی ولایت کا ذکر کرنا دین کے بنیادی عقائد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ اضافی کلمات اہل تشیع کے دینی عقائد کے عکاس ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ کلمات رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہیں، بلکہ اہل بیت کی محبت اور عقیدت کا اظہار ہیں۔
اہل تشیع کے نزدیک اذان میں "اشہد ان علیاً ولی اللہ" کا اضافہ اہل بیت کی محبت اور عقیدت کا اظہار ہے، لیکن وہ اسے اذان کا لازمی حصہ نہیں سمجھتے۔ یہ اضافی کلمات مستحب سمجھے جاتے ہیں اور اسے لازمی نہیں کہا جاتا، بلکہ یہ عقیدت کا اظہار ہے۔
اہل تشیع کی یہ اذان صرف اہل تشیع مساجد اور مراکز میں پڑھی جاتی ہے اور اہل سنت کے ہاں اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ اہل سنت علماء کے نزدیک اذان میں یہ اضافی کلمات بدعت ہیں اور ان کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔
اہل سنت کا موقف
اہل سنت والجماعت کے نزدیک اذان کا جو طریقہ نبی کریم ﷺ نے سکھایا ہے، اس میں ان اضافی کلمات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اہل سنت کے علماء اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ اذان میں ان کلمات کا اضافہ نبی ﷺ کے طریقے سے انحراف ہے، اور انہیں اذان کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔
اہل سنت کے علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اذان کا جو طریقہ نبی کریم ﷺ نے مقرر فرمایا تھا، اس میں کوئی تبدیلی یا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک اذان کے کلمات وہی ہونے چاہئیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہیں۔ اس حوالے سے ایک مشہور حدیث ہے: "نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس سے نہیں ہے، وہ مردود ہے۔" اس حدیث کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کے علماء اذان میں کسی بھی نئے کلمات کا اضافہ بدعت شمار کرتے ہیں اور اسے دین میں ناپسندیدہ عمل قرار دیتے ہیں۔
اہل سنت علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ اذان کے بعد درود و سلام پڑھنا مسنون ہے اور اس کی فضیلت ثابت ہے، لیکن اذان سے پہلے درود پڑھنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہذا، اس عمل کو ترک کرنا ہی بہتر ہے تاکہ دین کی اصل صورت برقرار رہے اور بدعات سے بچا جا سکے۔
📖 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سب سے بدترین امور نئے امور ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔" (صحیح مسلم)
نتیجہ
🌟 خلاصہ: اذان سے پہلے درود پڑھنے کا عمل نہ تو قرآن سے ثابت ہے، نہ ہی نبی کریم ﷺ کی سنت سے۔ اس کا آغاز بعد کے ادوار میں ہوا اور بعض مکاتب فکر نے اسے اپنایا۔ اسلام میں بدعت سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف وہی اعمال اپنائیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہیں۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کیا"۔ (سورۃ المائدہ: 3)
🕌 لہذا، مسلمانوں کو دین کی اصل تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے غیر ضروری رسومات سے بچنا چاہیے، اور اپنی عبادات کو قرآن و سنت کے مطابق انجام دینا چاہیے۔
✅ اذان کے بعد درود و سلام پڑھنا مسنون ہے اور اس کی فضیلت ثابت ہے، لیکن اذان سے پہلے اس کا اضافہ بدعت ہے۔