📖

دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
14- ختم دلوانا

ختم دلوانا ایک ایسی بدعت ہے جو اسلام کی اصل تعلیمات میں شامل نہیں۔ اس مضمون میں ہم ختم دلوانے کی حقیقت، اس کی تاریخی ابتدا، اور اسلام کا موقف جانیں گے۔

فہرست مضامین

ختم دلوانا

⚠️ خبردار! ختم دلوانا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔

📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)

قرآن کا ختم دلوانا ایک ایسی رسم ہے جس میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کی جاتی ہے، اور پھر اللہ کی رضا اور بخشش کے لیے اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ختم کا عمل بعض اوقات مخصوص مواقع جیسے کسی کی وفات کے بعد، کسی کامیابی یا مشکل وقت میں کیا جاتا ہے۔ اس رسم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی برکات سے فائدہ اٹھایا جائے اور اللہ سے دعا کی جائے۔

ختم دلوانا کیا ہے؟

قرآن کا ختم دلوانا ایک ایسی رسم ہے جس میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کی جاتی ہے، اور پھر اللہ کی رضا اور بخشش کے لیے اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ختم کا عمل بعض اوقات مخصوص مواقع جیسے کسی کی وفات کے بعد، کسی کامیابی یا مشکل وقت میں کیا جاتا ہے۔

ختم کا مقصد

ختم کا مقصد عام طور پر کسی خاص نیک کام، خوشی، یا غم کے موقع پر اللہ کی رحمت اور برکت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے مرحومین کی مغفرت کے لیے قرآن کا ختم کرواتے ہیں۔ قرآن مجید کے ختم کے بعد دعا میں مرحوم کی مغفرت اور دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا کی جاتی ہے۔

قرآن و حدیث میں دعا کی اہمیت

قرآن اور حدیث میں نیک کاموں کا ذکر ہے، اور دعا کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

📖 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے"۔ (سورۃ البقرہ: 186)

دور جاہلیت میں ختم کا تصور

دورِ جاہلیت میں قرآن مجید کا نزول نہیں ہوا تھا، اس لیے قرآن کے ختم یا تلاوت کا تصور موجود نہیں تھا۔ تاہم، جاہلیت کے دور میں مخصوص رسوم اور روایات کا رواج تھا جن میں شرک اور بدعات شامل تھیں۔ اسلام نے ان بدعات کو ختم کر کے توحید، دعا، اور نیکی کے عمل کو فروغ دیا۔

ائمہ کرام کی آراء

ائمہ کرام کی اکثریت کے نزدیک قرآن کی تلاوت ایک نیک عمل ہے، لیکن اس کو خاص مواقع پر ختم دلوانے کے طور پر مخصوص کرنا یا اس کو لازمی سمجھنا درست نہیں ہے۔ نیک کام اور دعا انفرادی طور پر بھی کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے کسی خاص رسم یا اجتماع کی ضرورت نہیں ہے۔

📜 امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک قرآن کی تلاوت خود ایک نیک عمل ہے، لیکن اسے اجتماعی طور پر مخصوص مواقع کے ساتھ جوڑنا ضروری نہیں۔ امام ابن تیمیہؒ نے بھی ایسی رسومات کی مخالفت کی ہے جن کا تعلق اسلام کے ابتدائی دور میں نہیں ملتا۔

مختلف مسالک میں ختم دلوانا

بریلوی مکتب فکر اور اہل تشیع میں ختم دلوانے کا رجحان زیادہ ہے کیونکہ ان دونوں مکاتب فکر میں اجتماعی دعا، قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کی رسوم کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بریلوی حضرات اکثر میلاد النبی ﷺ، عرس، اور وفات کے مواقع پر ختم دلوانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اہل تشیع میں مجالس اور ایصالِ ثواب کی محافل میں قرآن خوانی کی جاتی ہے تاکہ مرنے والوں کے لیے دعائیں کی جا سکیں۔

پاکستان میں ختم دلوانے کا رواج

پاکستان میں "ختم" دلوانے کی روایت خاص طور پر بریلوی مکتبِ فکر میں عام ہے اور اسے بعض حلقوں میں ایک نفع بخش کاروبار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس میں مولوی حضرات یا علماء ختم کروانے کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں نذرانے یا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

1. ختم کی مذہبی اہمیت اور اس کا غلط استعمال

ختم کی اصل میں نیت نیکی اور دعا کی ہوتی ہے، جسے وفات پانے والے شخص کی مغفرت، یا کسی خوشی یا مشکل وقت میں دعا کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اسلام میں قرآن کی تلاوت اور دعا کا ثواب فرد کے لیے نفع بخش ہے۔ تاہم، کچھ حلقے اس نیک عمل کو کاروبار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

2. معاوضہ لینے کی شرعی حیثیت

اسلامی تعلیمات کے مطابق، دین کی خدمت اور قرآن کی تلاوت کا مقصد مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے علم کو اس لیے سیکھا کہ علماء سے بحث کرے، یا جاہلوں پر فخر کرے، یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا"۔ (سنن ابن ماجہ)

3. ختم اور کاروباری پہلو

بدقسمتی سے، پاکستان میں بعض افراد نے ختم کی رسم کو ایک کاروبار بنا لیا ہے، جہاں ختم دلوانے کے لیے مولوی حضرات یا مساجد میں باقاعدہ طور پر پیسے لیے جاتے ہیں۔ یہ عمل معاشرتی دباؤ اور مذہبی جذبات کا استحصال کرتا ہے۔

⚠️ اہم انتباہ: یہ رجحان خاص طور پر دیہی علاقوں اور کم تعلیم یافتہ طبقوں میں زیادہ ہے، جہاں لوگ علماء کے سامنے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور نذرانے دینے کو ثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ختم دلوانا بعض اوقات ایک سماجی رسم بن جاتا ہے اور لوگوں پر دینی اور معاشرتی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

4. اہلِ بریلوی مکتبِ فکر میں ختم کی رسم

بریلوی مکتبِ فکر میں ختم کا رجحان زیادہ ہے، جہاں خاص مواقع پر جیسے کہ عرس، وفات کے دن، یا کسی اور خاص دن پر قرآن خوانی اور ختم کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔

5. اس رجحان کی اصلاح

اسلامی تعلیمات کے مطابق، دین کو کاروبار کے طور پر استعمال کرنا ناپسندیدہ ہے۔ اس طرح کے رجحانات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو دین کی اصل روح اور مقصد سمجھایا جائے۔

اسلام میں بدعت کی مذمت

اسلام میں بدعت کی مذمت کی گئی ہے اور سنت کے خلاف جانے والے اعمال کو ناپسند کیا گیا ہے۔

📜 حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہمارے دین میں کوئی نیا عمل نکالے جو اس میں نہیں ہے، وہ مردود ہے"۔ (صحیح بخاری)

قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب تو اپنی جگہ پر قائم ہے، لیکن ایسی رسومات جن کا اسلامی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں، ان سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔

بدعت سے بچنے کے لیے تجاویز

🕌 بدعت سے بچنے کے لیے تجاویز:

بدعت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور سنت کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ کسی بھی عمل کو اپنانے سے پہلے اس کی حقیقت اور اس کا قرآن و سنت سے تعلق دیکھنا چاہیے۔ ختم دلوانے جیسی رسومات کو لازمی سمجھنے کی بجائے انفرادی طور پر قرآن کی تلاوت کریں اور دعا کریں۔

📜 حدیث میں ہے: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے"۔ (صحیح بخاری)

⚠️ ایسے کسی عمل کو اپنانے سے گریز کریں جو دین میں نیا ہے اور سنت سے ثابت نہ ہو۔

📊 آپ کا ردعمل

Uzair Hameed

عزیر حمید

مصنف & بلاگر

بلاگ لوورز کا بانی، اسلامی تعلیمات اور اصلاحی مضامین کا شوقین۔ مقصد: دین کی پاکیزگی کو بدعات سے بچانا۔

مرکزی صفحہ تمام پوسٹس

بلاگ لوورز کے تمام کیٹیگریز