⚠️ خبردار! دسواں منانا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)
"دسواں منانا" ایک رسم ہے جو مرنے والے شخص کے انتقال کے دس دن بعد انجام دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد مرنے والے کی روح کے لیے دعائیں کرنا اور قرآن خوانی کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے، اور عموماً کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ رسم خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں عام ہے، جہاں خاندان والے مرنے والے کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
دسواں منانا کیا ہے؟
"دسواں منانا" ایک رسم ہے جو مرنے والے شخص کے انتقال کے دس دن بعد انجام دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد مرنے والے کی روح کے لیے دعائیں کرنا اور قرآن خوانی کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے، اور عموماً کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ رسم خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں عام ہے، جہاں خاندان والے مرنے والے کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
پس منظر
دسویں منانے کی رسم کی ابتدا کے بارے میں کوئی مستند تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں، لیکن یہ رسم برصغیر پاک و ہند کے معاشرتی اور مذہبی اثرات کے تحت وجود میں آئی معلوم ہوتی ہے۔ ہندومت اور دیگر قدیم رسومات سے متاثر ہو کر یہ عمل مسلمانوں میں داخل ہوا۔ اسلام میں ایسی رسومات کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر سامنے آئی۔
برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے بعد مختلف ثقافتی اثرات نے اسلامی معاشرے میں اپنی جگہ بنائی۔ ان اثرات میں ہندو روایات، فارسی رسومات اور مقامی رواج شامل ہیں۔ دسویں منانے کی رسم بھی انہی ثقافتی اثرات کا نتیجہ ہے۔
دسویں منانے کا طریقہ
دسویں منانے کا طریقہ مختلف علاقوں اور فرقوں میں کچھ فرق کے ساتھ تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ عمومی طور پر دسویں منانے کا طریقہ کار درج ذیل ہوتا ہے:
اجتماع اور دعوت
مرنے والے کے گھر یا کسی قریبی مقام پر لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ خاندان والے، رشتہ دار، دوست احباب اور اہل محلہ اس اجتماع میں شامل ہوتے ہیں۔
قرآن خوانی اور دعائیں
مرنے والے کے لیے قرآن خوانی کی جاتی ہے، اور خاص طور پر سورۂ یٰسین، سورۂ فاتحہ، یا دیگر سورتیں پڑھی جاتی ہیں۔ دعا کے دوران مرنے والے کی مغفرت اور جنت میں اعلیٰ مقام کی دعا کی جاتی ہے۔
علماء کی تقریر
بعض اوقات علماء یا واعظ حضرات کو مدعو کیا جاتا ہے جو مرنے والے کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کرتے ہیں اور حاضرین کو آخرت کی یاد دہانی کے موضوع پر نصیحت کرتے ہیں۔
کھانے کا اہتمام
قرآن خوانی کے بعد کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر اس کھانے کو صدقہ یا خیرات کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ مرنے والے کے لیے ثواب حاصل ہو۔
فاتحہ خوانی اور دعا
آخر میں اجتماعی طور پر فاتحہ خوانی اور دعا کی جاتی ہے، جسے مرنے والے کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔
⚠️ اہم انتباہ: قرآن و سنت میں دسویں منانے کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ یہ ایک علاقائی رسم ہے جسے بدعت کہا جاتا ہے۔
مختلف مذاہب میں دسویں منانے کا تصور
دسویں منانے کا تصور مختلف مذاہب اور معاشروں میں مختلف طریقوں سے پایا جاتا ہے:
ہندومت
ہندو مذہب میں مرنے والے کے لیے دس دن تک مختلف رسومات کی جاتی ہیں جنہیں "دشاہ" کہا جاتا ہے۔ ان رسومات کا مقصد مرنے والے کی روح کو تسکین اور مغفرت کی دعا کرنا ہوتا ہے۔
عیسائیت
عیسائیت میں مرنے والوں کے لیے مخصوص دنوں میں دعائیں کی جاتی ہیں، اور مرنے والے کو یاد رکھا جاتا ہے۔ بعض عیسائی فرقے نو دن تک دعائیں پڑھتے ہیں جسے "نووینا" کہا جاتا ہے۔
زرتشت مذہب
زرتشتی مذہب میں بھی مرنے والے کے لیے مختلف دنوں پر رسومات کی جاتی ہیں، جن کا مقصد روح کی پاکیزگی اور مغفرت کے لیے دعا کرنا ہوتا ہے۔
دسویں منانے کی ابتدا
دسویں منانے کی رسم کی ابتدا کے بارے میں کوئی مستند تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں، لیکن یہ رسم برصغیر پاک و ہند کے معاشرتی اور مذہبی اثرات کے تحت وجود میں آئی معلوم ہوتی ہے۔ ہندومت اور دیگر قدیم رسومات سے متاثر ہو کر یہ عمل مسلمانوں میں داخل ہوا۔ اسلام میں ایسی رسومات کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر سامنے آئی۔
پاکستان میں دسویں منانے کی رسم
پاکستان میں دسویں منانے کی رسم بعض مقامات پر نفع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس موقع پر کھانے اور دیگر انتظامات کے لیے کیٹرنگ سروسز، ہوٹل اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے افراد مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ رسومات مرنے والے کے اہل خانہ پر سماجی دباؤ کا باعث بن جاتی ہیں، اور انہیں فضول خرچی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اسلام میں دسویں منانے کا تصور
اسلام میں دسویں منانے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ قرآن اور سنت میں مرنے کے بعد کسی خاص دن پر اجتماع، قرآن خوانی، یا کھانے کا اہتمام کرنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔
📜 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو"۔ (صحیح مسلم)
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم نوحہ کرنے اور میت کے بعد جمع ہو کر کھانے کو برا سمجھتے تھے"۔ اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں ایسی رسومات کو ناپسندیدہ سمجھا گیا ہے۔
اس آیت میں مرنے والوں کے لیے دعا کا حکم ہے، لیکن کسی خاص دن کا کوئی تصور نہیں ہے۔
احادیث کے مطابق
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی میت پر کھانا نہ کھائے۔" اس سے مراد یہ ہے کہ میت والوں کے گھر میں کھانا پکانا اور کھانا کھلانا درست نہیں ہے، بلکہ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا فرض ہے کہ وہ میت والوں کے گھر کھانا پہنچائیں۔
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کی مصیبت میں اس کے ساتھ شریک ہو، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔" (ترمذی)
📜 آپ ﷺ نے فرمایا: "میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بنا کر بھیجنا سنت ہے، میت والوں کا کھانا کھلانا بدعت ہے۔" (بیہقی)
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ میت والوں کے گھر میں کھانے کا اہتمام کرنا اور لوگوں کو مدعو کرنا درست نہیں ہے۔ اس کے برعکس پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا فرض ہے کہ وہ میت والوں کے گھر کھانا پہنچائیں۔
صحابہ کرام کی زندگی سے ثابت کوئی عمل
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں دسویں منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ انہوں نے میت کے بعد ایسی کوئی رسم ادا نہیں کی۔
📖 حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو انہوں نے تین دن تک سوگ منایا، لیکن انہوں نے کوئی دسواں، چالیسواں یا سالانہ نہیں منایا۔
📖 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب کسی کا انتقال ہوتا تو لوگ اس کے لیے دعا کرتے اور اس کی قبر کی زیارت کرتے، لیکن کسی خاص دن پر اجتماع کا کوئی اہتمام نہیں کرتے تھے۔
صحابہ کرام کا عمل ہمارے لیے نمونہ ہے۔ انہوں نے میت کے لیے دعا اور صدقہ کو ترجیح دی، نہ کہ مخصوص دنوں کی رسومات کو۔
دیگر تفاسیر کے مطابق
مفسرین اور علماء کرام نے دسویں منانے کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔
علامہ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دسویں منانے کی کوئی اصل قرآن و سنت میں نہیں ہے۔ یہ ایک علاقائی رسم ہے جسے بدعت قرار دیا گیا ہے۔
امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرنے والے کے لیے دعا اور صدقہ کرنا اچھا ہے، لیکن مخصوص دنوں پر اجتماع کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے دسویں منانے کو بدعت قرار دیا اور کہا کہ اس سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ میت کے لیے صرف دعا اور صدقہ کیا جائے۔
ائمہ کرام کے احکامات
امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ دسویں منانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میت کے لیے صدقہ اور دعا کا اہتمام کیا جائے، نہ کہ مخصوص دنوں کی رسومات کا۔
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دسویں منانا ایک بدعت ہے جس سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام نے کبھی ایسا نہیں کیا۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دسویں منانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میت کے لیے دعا اور صدقہ کو ترجیح دی جائے۔
امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے تاکید کی کہ ہر مسلمان کو دسویں منانے کی بدعت سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قرآن و سنت کے مطابق عمل کیا جائے۔
معاشرے میں نقصانات
- فضول خرچی: دسویں منانے میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے جو کہ فضول ہے۔
- سماجی دباؤ: غریب خاندان سماجی دباؤ کی وجہ سے بھی یہ رسم ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
- دین میں اضافہ: یہ رسم دین میں اضافہ ہے جسے بدعت کہا جاتا ہے۔
- وقت کا ضیاع: اس رسم میں لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
- میت کی یاد میں مبالغہ: بعض اوقات اس موقع پر میت کی تعریف میں مبالغہ کیا جاتا ہے۔
موجودہ دور کی گمراہیاں – دسواں منانا
آج کے دور میں دسویں منانے کی رسم نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے اس رسم کو مزید فروغ دیا ہے۔
موجودہ دور کی گمراہیاں:
- سوشل میڈیا پر دسویں کی تقریبات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جاتی ہیں۔
- لوگ دسویں کے موقع پر بڑے پیمانے پر دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔
- کیٹرنگ اور ایونٹ مینجمنٹ کے کاروبار نے اس رسم کو تجارتی شکل دے دی ہے۔
- بعض لوگ دسویں کو سماجی حیثیت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں۔
ان گمراہیوں سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو اس بدعت کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی ترغیب دیں۔
غور و غوض کے پہلو
- دین کی حفاظت: کیا ہم اپنے دین کو بدعات سے بچا رہے ہیں؟
- سنت کی پیروی: کیا ہم سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا علاقائی رسومات کی؟
- میت کے لیے بہتر: میت کے لیے کیا بہتر ہے - دسواں منانا یا صدقہ اور دعا؟
- سماجی دباؤ: کیا ہم سماجی دباؤ کی وجہ سے بدعتوں میں شامل ہو رہے ہیں؟
- آخرت کی تیاری: کیا ہم آخرت کے لیے تیاری کر رہے ہیں یا دنیاوی رسومات میں مگن ہیں؟
🌟 غور طلب بات: اگر ہم میت کے لیے صدقہ اور دعا کا اہتمام کریں تو یہ میت کے لیے بہتر ہے اور ہم بھی بدعت سے بچ سکتے ہیں۔
نتیجہ
🌟 خلاصہ: دسواں منانا ایک علاقائی اور ثقافتی رسم ہے جس کا قرآن و سنت میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ علماء کے مطابق ایسی رسومات کو ترک کرنا چاہیے اور مرنے والوں کے لیے قرآن و سنت کے مطابق دعا اور صدقہ جاریہ کو ترجیح دینی چاہیے۔
📖 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کیا"۔ (سورۃ المائدہ: 3)
🕌 لہذا، ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور غیر ضروری رسومات سے بچیں۔