🕌

دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے

پکی قبریں بنانا - اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بدعات کا خاتمہ اور سنت کو اپنانے کی اہمیت

🔴 خبردار: |

📖 تعارف

دین اسلام اپنی اصل میں ایک کامل اور پاکیزہ نظام ہے، جس کی بنیاد توحید، رسالت، اور آخرت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے مکمل ہدایات نازل فرمائی تاکہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں صراط مستقیم پر گامزن رہیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف بدعات نے دین کی پاکیزگی پر حملے کیے اور اسلامی عقائد و اعمال کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔

بدعات کے ذریعے اسلام کی بنیادی تعلیمات میں تبدیلیاں کی گئیں، جنہوں نے دین کی اصل روح کو کمزور کرنے کا کام کیا۔ ان بدعتی حملوں میں سب سے واضح اور عمومی مثال پکی قبریں بنانے کا رواج ہے، جو کہ دورِ جاہلیت اور دیگر مذاہب کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ اس عمل نے مسلمانوں کے درمیان قبروں کی تعظیم اور زیارت جیسے غیر اسلامی رسوم و رواج کو فروغ دیا، جسے نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر منع فرمایا تھا۔

یاد رکھیں: پکی قبریں بنانے کا مقصد دنیاوی شان و شوکت کی نمائش اور مردے کی عظمت کا اظہار بن چکا ہے، جبکہ اسلام نے ہمیں سادگی اور انکساری کا درس دیا ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا تاکہ اس میں کوئی نشاندہی نہ ہو اور نہ ہی اسے عبادت گاہ بنایا جائے۔ یہ بدعات امت مسلمہ کے اخلاقی اور روحانی زوال کا سبب ہیں۔

بدعت کا لفظی معنی ہے "نیا ایجاد کردہ عمل" جو دین میں شامل کیا گیا ہو۔ اسلام میں بدعت کو سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، تو وہ رد ہے۔" (بخاری و مسلم)

بدعات کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور ان تمام رسوم و رواج کو ترک کریں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔

🏗️ پکی قبریں بنانا

پکی قبریں بنانا ایک ایسی بدعت ہے جو اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ عمل دین کے پاکیزہ اصولوں کو توڑتا ہے، اور اسے مسلمانوں کے معاشرے میں شامل کر دیا گیا ہے حالانکہ اس کی اصل اسلام سے نہیں بلکہ دیگر قوموں اور مذاہب سے لی گئی ہے۔

پکی قبریں بنانے سے مراد ایسی قبریں ہیں جنہیں سیمنٹ، پتھر یا کسی مضبوط مواد سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ قبریں زمین کی سطح سے اوپر اٹھا کر بنائی جاتی ہیں اور اکثر ان پر مزارات یا یادگاہیں تعمیر کی جاتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں سادہ قبروں کا تصور دیا گیا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "زمین میں قبر کو برابر رکھو، اور اسے بلند نہ کرو"۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "زمین میں قبر کو برابر رکھو، اور اسے بلند نہ کرو"

یہ بدعت دراصل دورِ جاہلیت اور سابقہ قوموں کے اثرات کا نتیجہ ہے، جہاں لوگ اپنے معزز افراد کے لیے پکی قبریں بناتے تھے۔ اسلام نے اس عمل کو اس لیے روکا تاکہ لوگوں میں تکبر اور دنیاوی عزت کی نمائش سے بچا جا سکے اور قبروں کو عبادت گاہ نہ بنایا جائے۔

انتباہ: پکی قبریں بنانے کا رواج مسلم معاشروں میں اس قدر عام ہو گیا ہے کہ لوگ اسے سنت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ یہ ایک واضح بدعت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

🏜️ دورِ جاہلیت میں

دورِ جاہلیت میں پکی قبریں بنانے کا رواج تھا اور لوگ اپنے مرنے والوں کی قبروں کو نمایاں کرنے کے لیے انہیں پختہ مواد سے بناتے تھے تاکہ ان کی قبروں کو عزت و احترام سے دیکھا جائے۔ عرب جاہلیت میں لوگ اپنے بڑوں اور سرداروں کی قبروں پر بڑے بڑے پتھر رکھتے تھے اور انہیں نمایاں کرتے تھے تاکہ آنے والی نسلیں انہیں یاد رکھیں۔

اسلام نے اس عمل کو روکا تاکہ لوگوں میں تکبر اور دنیاوی عزت کی نمائش سے بچا جا سکے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سلسلے میں واضح ہدایات دیں اور خود بھی اپنی قبر مبارک کو سادہ اور زمین کے برابر رکھنے کا حکم دیا۔

📜 سابقہ قوموں میں

سابقہ قوموں، جیسے یہود و نصاریٰ میں بھی پکی قبریں بنانے کا رواج تھا۔ ان میں اپنے پیغمبروں اور اولیاء کی قبریں بنا کر انہیں عبادت گاہوں میں تبدیل کر لیتے تھے۔ یہ عمل اسلام میں سختی سے منع ہے کیونکہ یہ شرک کی طرف لے جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیں"

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قبروں کو عبادت گاہ بنانا یا ان کی تعظیم میں غلو کرنا نہ صرف ناجائز ہے بلکہ یہ اس قوم کے راستے پر چلنے کے مترادف ہے جس پر اللہ کی لعنت ہے۔

🌍 دیگر تہذیبوں میں

اسلام کے ابتدائی دور میں عرب اور وسطی ایشیا کے قبائل میں قبریں پکی بنانے کا رواج نہیں تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف غیر اسلامی اثرات کی وجہ سے یہ رواج ان علاقوں میں داخل ہو گیا اور مسلمانوں میں بھی مقبول ہونے لگا۔

رومی اور یونانی تہذیبیں: اہل مغرب میں بھی قبریں پکی بنانے کا رواج قدیم دور سے رہا ہے۔ رومی اور یونانی تہذیبوں میں مردوں کو خاص قسم کی یادگار قبریں بنائی جاتی تھیں تاکہ ان کی شان و شوکت برقرار رہے۔ یہ قبریں اکثر سنگ مرمر اور قیمتی پتھروں سے بنائی جاتی تھیں اور ان پر تفصیلی نقوش بنائے جاتے تھے۔

ہندو اور بدھ مت: ہندو، بدھ مت، اور دیگر مذاہب میں بھی قبروں کو مخصوص مقامات پر پکی بنا کر دفنایا جاتا ہے یا یادگار کے طور پر تعمیر کی جاتی ہیں۔ ان مذاہب میں قبریں اکثر مقدس مان کر عبادت کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں، جو اسلام میں سختی سے ممنوع ہے۔

جنوبی ایشیا: جنوبی ایشیا میں پکی قبریں بنانے کا رجحان زیادہ عام ہے، خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں۔ یہاں یہ تصور صوفی مزارات اور اولیاء کرام کی قبروں سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام میں ایسی قبروں کی تعمیر کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے تاکہ لوگ قبر کی پوجا سے بچ سکیں۔

زرتشت مذہب: زرتشت مذہب میں بھی مرنے والے کی قبروں کو پکی بنانا عام تھا۔ زرتشی لوگ مردوں کو دفنانے کے بجائے انہیں مخصوص جگہوں پر چھوڑ دیتے تھے تاکہ قدرتی طریقے سے ختم ہو جائیں۔ تاہم، بعد میں ان میں پکی قبریں بنانے کا رجحان آیا۔

🕌 اسلام میں قبروں کا تصور

اسلام نے قبروں کو سادہ اور زمین کے برابر رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ تکبر اور دنیاوی عزت کی نمائش نہ ہو۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ مسلمان اپنی توجہ دنیاوی شان و شوکت کے بجائے آخرت کی طرف مرکوز کریں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "قبروں کو پکی نہ بناؤ اور نہ ان پر عمارتیں بناؤ"

اس حکم کا مقصد یہ تھا کہ لوگ قبروں کو عبادت گاہوں میں تبدیل نہ کریں اور نہ ہی مردوں کی شان و شوکت بڑھانے کے لیے انہیں نمایاں کریں۔ اسلامی تعلیمات میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

انتباہ: آپ ﷺ نے فرمایا: "قبروں کو پختہ بنانا، قبروں کو سجدہ کرنا، قبروں پر چراغاں کرنا، قبروں پر لکھنا، قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا، قبروں پر عرس میلے لگانا حرام ہے"۔

اسلام میں قبروں کے حوالے سے جو اصول دیے گئے ہیں، ان کا مقصد انسان کو شرک سے بچانا اور اس کی توجہ صرف اللہ کی طرف مرکوز کرنا ہے۔ قبروں کی تعظیم میں غلو کرنا شرک کی طرف لے جانے والا عمل ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک قبر کو دیکھا جو اونچی تھی تو انہوں نے اسے برابر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: "یقیناً رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا ہے۔" (مسلم)

⚖️ مختلف مسالک کا نقطہ نظر

مسلمانوں کے مختلف مسالک میں پکی قبروں کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کی بنیادی وجہ احادیث کی تشریح اور فقہی اصولوں میں فرق ہے۔

دیوبند مکتب فکر

دیوبند علماء پکی قبریں بنانے کو بدعت اور شریعت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ قبریں سادہ اور زمین کے برابر ہونی چاہئیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی قبریں سادہ تھیں اور انہیں پکی نہیں بنایا گیا تھا۔

اہل حدیث

اہل حدیث کے نزدیک قبروں کو پکی بنانا سنت کے خلاف ہے اور اسے ترک کرنا واجب ہے۔ وہ احادیث کی روشنی میں اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبروں کو پکی بنانے سے منع فرمایا ہے۔

بریلوی مکتب فکر

بریلوی مسلک میں اولیاء کرام کے مزارات کو پکی قبروں کے طور پر بنایا جاتا ہے، اور یہ ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ وہ اسے اولیاء کی تعظیم اور ان سے محبت کا اظہار سمجھتے ہیں، حالانکہ اس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔

اہل تشیع

اہل تشیع میں ائمہ کی قبروں کو پختہ بنانا اور ان کی زیارت کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔ وہ ائمہ کی قبروں کو مقدس مقامات مانتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔

احمدیہ

احمدی حضرات میں بھی قبریں پکی بنانے کا رواج موجود ہے۔ وہ اپنے مرکزی رہنماؤں کی قبروں کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور انہیں پختہ بناتے ہیں۔

تمام مسالک کا مشترکہ نقطہ یہ ہے کہ قبروں کی تعظیم میں غلو نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں عبادت گاہ بنانا چاہیے

🇵🇰 پاکستان میں اس بدعت میں اضافہ

پاکستان میں اس بدعت میں اضافہ کی وجوہات میں جہالت، عقیدے کی کمزوری، اور دنیاوی شان و شوکت کا شوق شامل ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پکی قبریں بنانے سے وہ مردے کی عزت افزائی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

پاکستان میں مزارات اور درگاہوں کا رواج بہت زیادہ ہے۔ لوگ ان مزارات پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، منت مانتے ہیں اور مختلف رسومات ادا کرتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب کچھ بدعات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں شامل ہوتی گئیں۔

اس بدعت کو ختم کرنے کے لیے عوام میں دین کی صحیح تعلیمات کو عام کرنا ضروری ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو سنت کی پیروی کی ترغیب دیں اور بدعتوں سے بچنے کی تلقین کریں۔ اس کے علاوہ میڈیا کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انتباہ: پکی قبریں بنانا ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی کو متاثر کرتی ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اور اس بدعت کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستان میں اس بدعت کے خلاف بہت سے علماء نے آواز اٹھائی ہے اور لوگوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم، عوامی سطح پر اس بارے میں مزید آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس بدعت سے بچ سکیں۔

📝 خلاصہ

دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے بدعات سے دوری اختیار کرنا اور سنت کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔ پکی قبریں بنانا ایک ایسی بدعت ہے جو نہ صرف دین کی پاکیزگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ مسلمانوں کے عقائد کو بھی کمزور کرتی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو سادہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور خود بھی اپنی قبر مبارک کو سادہ رکھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت پر عمل کریں اور قبروں کو پکی بنانے سے گریز کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے بچائے اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اس مضمون میں ہم نے دیکھا کہ پکی قبریں بنانا کس طرح ایک بدعت ہے جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ہم نے مختلف تہذیبوں اور مسالک کے نقطہ نظر کا بھی جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسلام میں قبروں کو سادہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آئیے ہم اپنے معاشروں سے اس بدعت کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور لوگوں کو دین کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کریں۔ یہی ہماری ذمہ داری ہے اور یہی راستہ ہے جو ہمیں دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔

آخر میں، ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور ان تمام رسوم و رواج کو ترک کریں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سنت کو اپنانا اور بدعات سے بچنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرے گا۔

دین کی پاکیزگی - سنت کو اپنائیں، بدعات سے بچیں
اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed - Author

عزیر حمید

بانی اور ایڈیٹر - بلاگ لوورز.pk

اسلامی تعلیمات، تاریخ اور ثقافت پر تحقیق اور تحریر کا شوق۔ مقصد سادہ اور مؤثر طریقے سے دینی معلومات کو عام کرنا۔