عصر حاضر کے 10 بڑے گناہ 9- ریا کاری

ایک ایسا گناہ جو نیکی کے لباس میں چھپا ہوتا ہے
ریا کاری

دوستو! "ریاء کاری" بھی کبیرہ گناہوں میں سے ایک ایسا گناہ ہے جس کو کرتے ہوئے انسان کو ذرہ بھر احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہ کر رہا ہے یا نیکی۔ درحقیقت کر تو وہ نیکی رہا ہوتا ہے لیکن اللہ رب العزت کے دربار میں وہ گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ جو کام وہ کر رہا ہوتا ہے وہ خاص اللہ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو خوش کرنے یا اس نیکی کے عوض ان کے منہ سے تعریفی کلمات سننا یا دکھلانا مقصود ہوتا ہے کہ کتنا نمازی اور پرہیز گار ہے، کتنے حج کر لیے ہیں، کتنی زکوۃ دیتا ہے، ہر وقت مانگنے والوں کی لائن لگی ہوتی ہے۔ یہی وہ الفاظ ہیں جس کو وہ سننا چاہتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہیں۔

’’ریاء‘‘ کے لغوی معنی ’’دکھاوے، دکھلاوے‘‘ کے ہیں۔ ’’اللہ رب العزت کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت، ارادے یا خواہش سے عبادت کرنا۔‘‘ گویا عبادت سے یہ غرض ہو کہ لوگ اس کی عبادت پر متوجہ ہوں تاکہ وہ ان لوگوں سے مال و دولت حاصل کر سکے یا لوگ اس کی تعریف کریں یا اسے نیک و پرہیزگار آدمی سمجھیں یا اسے عزت وغیرہ دیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: "جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وہ بدترین ساتھی ہے۔"

اللہ رب العزت نے ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔"

اسی طرح اللہ پاک نے قرآن میں دوسرے مقام پر لوگوں کو کچھ اس طرح سمجھایا: "اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔"

اللہ رب العزت نے ریاء کاری کی مذمت کی ہے ان آیات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ریاکار اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اللہ سے اس کو اجر کی بالکل کوئی توقع نہیں، کیوں کہ جس سے توقع ہوگی اُسی کے لیے عمل کیا جائے گا اور ایک ریاکار انسان کو اپنے خالق کے بجائے مخلوق سے اجر کی توقع ہوتی ہے۔ ایسے انسان کا آخرت پر بھی ایمان نہیں ہوتا اگر ایمان ہوتا تو مرنا پسند کرتا مگر خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے اجر کی توقع ہرگز نہ رکھتا اور آخرت کی باز پرس سے ہمیشہ ڈرتا۔ کیونکہ مرنا ہے اور آخرت کا ایک دن مقرر ہے اور وہ ہر حال میں ہو کر رہنا ہے۔

ریاء کاری شرک اصغر ہے

ریاء کاری بھی کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے اور شرک کی ایک خاص قسم ہے جو انسان کی عقل پر گمراہی کے پردے ڈال کر اس سے ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جس سے دین اسلام کا دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ حدیث کے مطابق "ریاء شرک اصغر ہے"۔

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا کہ: "مجھے تم پر سب سے زیادہ شرک اصغر ریاء یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ رب العزت قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے وقت ارشاد فرمائے گا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لیے دنیا میں تم دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا تم ان کے پاس کوئی جزا پاتے ہو؟"

ایک اور مقام اللہ کے نبی ﷺ نے ریاء کاری کے بارے میں کچھ یوں بیان فرمایا: "کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خوفناک ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: ہاں! کیوں نہیں؟ فرمایا: وہ شرک خفی ہے کہ آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور کسی شخص کو اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر اپنی نماز اور سنوار لے۔"

ایک اور روایت کے مطابق: "جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں اور پچھلوں کو قیامت کے روز جس کی آمد میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا، تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا: جس نے اللہ رب العزت کے لیے کیے ہوئے کسی عمل میں کسی غیر کو شریک کیا ہو وہ اس کا ثواب بھی اسی غیر اللہ سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہے۔"

قیامت کے دن ریاکاروں کا انجام

یوں تو انسان کی عبادت اور اعمال کا دارومدار خالص نیت پر ہے، اگر نیت خالص ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی کھوٹ نہیں تو اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوتے ہیں، اگر نیت میں کھوٹ، ریاکاری یا نمود نمائش مقصود ہے تو ایسے اعمال بجائے بخشش کے انسان کے لیے موجب عذاب بنیں گے۔

اللہ رب العزت کے دربار میں اعمال کی قبولیت کی دو شرائط ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ جو بھی عمل کیا جائے وہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل عین سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرائط میں سے کوئی بھی ایک شرط نہ پائی گئی تو وہ عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوگا، اور ریاکاری ایک ایسا مخفی گناہ ہے کہ جس کی وجہ سے ایک انسان کا بڑے سے بڑا نیک عمل بھی اللہ رب العزت کے ہاں رائی کے دانے کی حیثیت نہیں رکھتا، اور جبکہ ریاکاری کے بغیر خالص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا ہوا چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں پہاڑ کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔

آپ ﷺ نے ایک طویل روایت میں ریاء کاری کے بارے میں کچھ یوں بیان فرمایا: "کہ قیامت کے دن اللہ رب العزت اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے، اس وقت ہر امت گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گی۔ سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں ایک حافظ قرآن، دوسرا اللہ کی راہ میں ہونے والا شہید اور تیسرا ایک مالدار شخص ہو گا۔"

اللہ رب العزت حافظ قرآن سے فرمائیں گے: 'کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر اتارا ہوا کلام نہیں سکھایا تھا؟' وہ عرض کرے گا: 'کیوں نہیں، اے میرے اللہ۔' اللہ رب العزت ارشاد فرمائیں گے: 'پھر تُو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟' وہ عرض کرے گا: اے میرے اللہ! میں دن رات اسے پڑھتا رہا۔' اللہ رب العزت کہیں گے کہ: 'تو جھوٹا ہے۔' اسی طرح فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ 'تو جھوٹا ہے۔' پھر اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائیں گے کہ: 'تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں کہ فلاں شخص قاری قرآن ہے اور وہ تجھے دنیا میں کہہ لیا گیا۔'

پھر مالدار کو لایا جائے گا تو اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائیں گے: 'کیا میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کو اتنا وسیع نہ کیا کہ تجھے کسی کا محتاج نہ ہونے دیا؟' وہ عرض کرے گا: 'کیوں نہیں، میرے اللہ۔' اللہ رب العزت ارشاد فرمائیں گے: 'تو نے میرے عطا کردہ مال کا کیا کیا؟' وہ کہے گا: 'میں اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا اور تیری راہ میں صدقہ کیا کرتا تھا۔' اللہ رب العزت ارشاد فرمائیں گے: 'تو جھوٹا ہے۔' اسی طرح فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ 'تو جھوٹا ہے۔' پھر اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائیں گے: 'تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ فلاں بہت سخی ہے اور وہ تجھے دنیا میں کہہ لیا گیا۔'

پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کو پیش کیا جائے گا تو اللہ رب العزت اس سے کلام فرمائیں گے کہ: 'تجھے کیوں قتل کیا گیا؟' وہ عرض کرے گا: 'مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تو میں تیری راہ میں لڑتا رہا اور بالآخر اپنی جان دے دی۔' اللہ رب العزت ارشاد فرمائیں گے کہ: 'تو جھوٹا ہے۔' اسی طرح فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ 'تو جھوٹا ہے۔' پھر اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائیں گے کہ: 'تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ فلاں بہت بہادر ہے اور وہ تجھے دنیا میں کہہ لیا گیا'۔"

آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ اللہ رب العزت کی مخلوق کے وہ پہلے تین افراد ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔"

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ جب تک زندہ رکھے ایمان کی حالت میں زندہ رکھے اور خالص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

عصر حاضر میں ریاکاری کی صورت حال

دوستو! ہمارے ملک سیلاب کی صورت حال سے دوچار ہے جگہ جگہ لوگوں نے ریلیف کیمپ بنائے ہوئے ہیں اور لوگوں سے چندہ وصول کر رہے ہیں۔ تاکہ ضرورت مند لوگوں تک رسائی کی جا سکے۔ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ بجائے ہمارے ملک میں اشیاء سستی ہوں تاکہ غریب اور آفت زدہ لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں بلکہ اشیاء خورد و نوش مزید چار گنا مہنگی کر کے بیچی جاتی ہے۔

جب زلزلہ آیا تھا اس وقت لوگوں نے کفن مہنگا کر دیا تھا اور آج بنیادی سہولیات سے ہی محروم کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ ترس کھا کر کچھ دے رہے ہیں وہ بھی آٹے کے تھیلے پر اپنی تصویر لگائے ہوئے دے رہے ہیں بعض انتخابی مہم چلاتے ہوئے دے رہے ہیں اور بعض چند چیزیں دے کر تصاویر بنوا رہے ہیں۔

ذرا نہیں پورا سوچیے! کیا آپ نیکی کے عوض ریاء کاری تو نہیں کر رہے جو کہ اللہ کو ناپسند ہے۔ 10 روپے کی چیز 500 میں تو نہیں بیچ رہے۔۔۔۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔