دین اسلام کی روشنی میں توہمات و بدعات کا انکار
دین اسلام عظمتوں، امن و سلامتی، حقائق، سراپا رحمتوں اور سچائیوں والا دین ہے، جہاں توہمات و بدعات، تصوراتی، ماورائی و خیالی دنیا سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ دین اسلام توہم پرستی، بدگمانی و بدشگونی اور مختلف اشیاء کی نحوست کے تصور و عقائد کی سرے سے انکار کرتا ہے۔ دین اسلام در حقیقت توحید پر مبنی ایک واحد، قادر مطلق ذات اقدس پر یقین و اعتماد کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی رب العزت کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ہر چیز ہے وہ حقیقی خالق و مالک ہے۔ انسان چاہے عقل کے جتنے مرضی گھوڑے دوڑا لے جتنی بھی بلندی پر اڑنا شروع کر دے، رہے گا وہ اسی رب عظیم کا محتاج۔ وہ چاہے جو مرضی سوچے جو مرضی کر لے ہوگا وہی جو اللہ رب العزت چاہے گا۔
درحقیقت یہی وہ دین اسلام کا بنیادی نقطہ ہے جس سے کفر و شرک، توہم پرستی، بدعات و خرافات اور ماورائی و تصوراتی دنیا کی نفی ہو جاتی ہے۔
عصر حاضر کے دس بڑے گناہ جن میں غیر اللہ کی پکار، بت پرستی، مردہ پرستی، اکابر پرستی، فرقہ پرستی، تعویذات، توہم پرستی کے بعد بدشگونی و بدگمانی پر بات کرنے جا رہا ہوں۔ بدشگونی و بدگمانی بھی کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے اور شرک کی ایک خاص قسم ہے جو انسان کی عقل پر گمراہی کے پردے ڈال کر اس سے ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جس سے دین اسلام کا دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
آج کل کے مشکل حالات اور دشوار گزار زندگی میں ایسے لوگ جن کے مذہب کی بنیاد ہی توہم پرستی، بدعت و خرافات سے شروع ہو، دیومالائی کہانیاں اور عجیب و غریب، من گھڑت قصے، رسوم و روایات جن کا بنیادی حصہ ہوں، یقیناً غیرمسلموں کی صحبت میں طویل بود و باش اور رہن سہن کے نتیجے میں خود مسلمانوں میں بھی دنوں، مہینوں، جگہوں، چیزوں اور مختلف رسوم و رواج کی عدمِ ادائیگی کی شکل میں بے شمار توہمات سرایت کر چکے ہیں کہ بناسوچے سمجھے ہم اکثر کہتے یا سنتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں دن اور فلاں مہینہ بڑا ہی منحوس ہوتا ہے، یا اس رخ پر گھر بنانے یا درست سمت اور رُخ کے اعتبار سے مسرت و نحوست کا باعث سمجھا جانا، بچے کی پیدائش سے لے کر شادی کے بندھن میں بندھ جانے، اور پھر صاحب اولاد ہونے تک، یا پھر اس کے عمر کے آخری مراحل سے گزر کر اس کے موت کے منہ میں چلے جانے تک؛ بلکہ بعض کے ہاں تو مرنے کے بعد بھی اس کے دفنانے کی مختلف رسوم و رواج کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ پھر اس شخص کی جمعرات، پندرہواں، مہینہ، چالیسواں، برسی پتہ اور کیا کیا رسومات کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔
شیطان بھی لوگوں کے دماغوں کے ساتھ کیسا بدتمذاق کرتا ہے کہ بدعقائد شخص یہ کبھی جان نہیں پاتا کہ ایک اللہ کی ذات اقدس کو راضی کرنا کتنا آسان تھا۔ جبکہ آج کا انسان اس حقیقی رب کو چھوڑ کر جگہ جگہ اپنی جبین نیاز خم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مختلف پتھروں، مورتیوں، رسموں رواجوں، کے علاوہ بے زبان، بے عقل جانور کتے، بلیوں، طوطوں، الوؤں اور کوؤں تک سے اپنے غیب کے بارے میں رسائی حاصل کرتا دکھائی دیتا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں جب کسی کو کام سے نکلنا ہوتا تو درخت پر بیٹھے ہوئے کسی پرندے کو اڑا کر دیکھتے کہ یہ جانور کس سمت اڑا، اگر دائیں جانب کو اڑ گیا تو اسے متبرک یا اچھی قسمت جانتے تھے کہ جس کام کے لیے ہم نکلے ہیں وہ کام ہو جائے گا اور اگر بائیں جانب کو اڑ گیا تو اس کو منحوس اور خطرناک سمجھتے۔ آپ ﷺ نے ان سب چیزوں کی نفی فرمادی اور فرمایا: "کہ پرندوں کو اپنی جگہ بیٹھے رہنے دو، ان کو خواہ مخواہ اڑا کر فال نہ لو"۔
اسی طرح قدیم دور میں ایک بات بہت عام تھی جو کہ آپ ﷺ نے اس بدعقیدہ کی اصلاح فرمائی: "کہ بیماریاں ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تعدیہ کوئی چیز نہیں ہے، اس تعدیہ کے متعلق ایک دیہاتی نے جب آپﷺ سے یہ دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسولﷺ! اونٹ رتیلے علاقوں میں بالکل ہرنوں کے مانند تیز و طرار ہوتے ہیں کہ کوئی عارضہ یا کوئی بیماری انہیں نہیں ہوتی ان میں ایک خارش زدہ اونٹ آکر گھل مل جاتا ہے، وہ سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (یہ تو تعدیہ ہوا) اس پر آپﷺ نے فرمایا: پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے ہوئی؟ یعنی جب پہلے اونٹ کی خارش من جانب اللہ ہے تو ان تمام کا خارش زدہ ہونا بھی اسی کی جانب سے ہے۔"
بالکل ایسے ہی اہل عرب کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ مردار کی ہڈیاں جب بالکل بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں تو وہ ’’الو‘‘ کی شکل اختیار کرکے باہر نکل آتی ہیں اور جب تک قاتل سے بدلہ نہیں لیا جاتا اس کے گھر پر اس کی آمد و رفت برقرار رہتی ہے۔ دورِ قدیم کی طرح موجودہ دور میں بھی ’’الو‘‘اور "کوّا" کو منحوس پرندے تصور کیا جاتا ہے، اس کے گھر پر بیٹھنے کو مصائب کی آمد کا اعلان تصور کیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان تمام اعتقادات اور توہمات کا انکار کر دیا۔
اس کے علاوہ کچھ لوگوں کی سوچ تو یہ بھی ہے کہ شب معراج، شب برات اور شب قدر اور عید وغیرہ میں روحیں اپنے گھر آتی ہیں۔ جوکہ سراسر توہمات ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بھوت پریت کا کوئی وجود نہیں۔ دور جاہلیت کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگلوں اور بیابانوں میں انسان کو بھوت پریت نظر آتے ہیں جو مختلف شکلیں تبدیل کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کو جان سے بھی مار دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سب خرافات کا انکار فرمایا۔
دوستو! جس طرح بدگمانیاں اور بدشگونیاں دورِ جاہلیت میں رہیں ہیں اسی طرح یہ بدشگونیاں آج ہمارے معاشرے میں بھی بہت زوروں پر ہے۔ جیسے آپ ﷺ نے اپنی ایک روایت میں فرمایا کہ چار چیزیں سابقہ امتوں میں موجود تھیں وہی چاروں چیزیں میری امت میں بھی ہونگی ان میں سے ایک بدشگونی لینا بھی سرفہرست ہے۔
آج بھی عورتوں میں اس قسم کی باتیں مشہور ہیں، اگر کوئی شخص کام کو نکلا اور بلی یا عورت سامنے سے گذر گئی یا کسی کو چھینک آگئی تو سمجھتے ہیں کہ کام نہیں ہوگا، جوتی پر جوتی چڑھ گئی تو کہتے ہیں کہ سفر درپیش ہوگا، آنکھ پھڑکنے لگی تو فلاں بات ہوگئی، گھر پر کوے کی چیخ و پکار کو مہمان کی آمد کا اعلان اور الو کی آمد کو نقصان کا باعث تصور کیا جاتا ہے، ہچکیوں کے آنے پر یہ کہا جاتا ہے کسی قریب عزیز نے یاد کر لیا، یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ہتھیلی میں خارش ہونے سے مال ملتا ہے اور تلوے میں خارش ہونے سے سفر درپیش ہوتا ہے، اس طرح روز مرہ کی زندگی میں بے شمار تصورات و خیالات ہیں جو رات و دن لوگوں سے سننے میں آتے ہیں، عجیب توہم پرستی کی دنیا ہے جبکہ آپ ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ "بد شگونی کا لینا شرک ہے"۔
یاد رکھیئے! اللہ رب العزت کے علاوہ غیب کا علم کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ خود طوطا، مینا لے کر بیٹھنے والے کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کل کیا کرے گا؟ اور اگر اس کو قسمت کا علم ہوتا تو اس چلتے روڈ پر بیٹھ کر لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتا، کوئی شخص نہیں جانتا وہ کل کیا کرے گا؟ ارشاد ربانی ہے: ‘‘(اے نبی ﷺ! آپ کہہ دیجیئے کہ جو لوگ آسمان و زمین میں ہیں وہ غیب کو نہیں جانتے، غیب کو صرف اللہ ہی جانتا ہے"۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی ایسے آدمی کے پاس گیا جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، پھر اس سے کچھ بات پوچھ لی تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہ ہوگی"۔
دوسرے مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ: "جو شخص کسی ایسے شخص کے پاس گیا جو غیب کی خبریں بتاتا ہو اور اس کے غیب کی تصدیق کر دی، تو اس چیز سے بری ہوگیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی"۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ ٹونا ٹوٹکہ، بدفالی، بدگمانی و بدشگونی اور بدعات کی رسوم و رواج سے سختی سے پرہیز کریں، ایسا نہ ہو کہ یہ چیزیں اس کی آخرت کی تباہی اور اللہ رب العزت سے تعلق کو کمزور کر دیں۔ اور جس شخص کے پاس ایمان کی دولت موجود نہ ہو اس کی حالت جانوروں سے بھی بدتر ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کے گناہ معاف فرما دے۔۔۔ آمین