تعویذ کا مفہوم اور حقیقت
محترم قارئین کرام! تعویذ کے بنیادی معنی تو "حفاظت کے لیے دعا کرنا" وغیرہ کے ہیں۔ چونکہ لوگ تعویذ لکھ کر جسم کے مختلف حصوں میں باندھتے ہیں گویا تحریری حفاظت کہا جا سکتا ہے۔ قرآنی آیات پڑھ کر خود پر دم کرنا تو سمجھ آتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صبح و شام کے اذکار میں بہت سی دعائیں سکھلائی ہیں لیکن تعویذات میں عام طور پر اللہ کی ذات اقدس کو چھوڑ کر شیاطین و جنات کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب لوگوں کا اعتماد و بھروسہ اللہ کی ذات اقدس پر ختم ہو جائے۔
پس منظر
تعویذات کا رواج صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہمیشہ سے خوف، بیماری، اور مصیبتوں سے بچنے کی جستجو رہی ہے۔ جب انسان اپنی عقل اور تدبیر سے عاجز آ جاتا ہے تو وہ مختلف ذرائع سے حفاظت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تعویذات کی ابتدا زمانہ قدیم سے ہوتی ہے جب انسان جادو، منتر، اور مختلف رسومات کے ذریعے اپنے آپ کو بری روحوں اور آفات سے بچانے کی کوشش کرتا تھا۔ آج بھی مختلف مذاہب میں تعویذات کا رواج ہے۔
دیگر مذاہب عالم میں تعویذات کا تصور
تعویذات کا تصور صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے۔
اہل عرب (جاہلیت)
جاہلیت کے دور میں عرب لوگ مختلف قسم کے تعویذات پہنتے تھے۔ وہ جانوروں کی ہڈیاں، موتی، اور مختلف اشیاء کو تعویذ کے طور پر استعمال کرتے تھے تاکہ وہ بری روحوں اور آفات سے بچ سکیں۔ اسلام نے ان تمام رسومات کو ختم کر دیا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا۔
یہود
یہودی مذہب میں بھی تعویذات کا تصور پایا جاتا ہے۔ وہ چمڑے یا کاغذ پر دعائیں لکھ کر انہیں باندھتے ہیں تاکہ وہ بری نگاہ اور بیماریوں سے بچ سکیں۔ تورات میں بھی بعض جگہوں پر تعویذات کا ذکر ملتا ہے۔
نصاریٰ (عیسائی)
عیسائی مذہب میں بھی تعویذات کا رواج ہے۔ وہ صلیب، مریم کی تصاویر، اور مختلف مقدس اشیاء کو تعویذ کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ بری روحوں اور مصیبتوں سے بچ سکیں۔
زرتشت
زرتشت مذہب میں بھی تعویذات کا تصور موجود ہے۔ وہ مختلف رسومات اور منتروں کے ذریعے بری روحوں کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہندوازم
ہندو مت میں تعویذات کا بہت بڑا رواج ہے۔ وہ مختلف دیوی دیوتاؤں کے ناموں اور منتروں کو لکھ کر تعویذ بناتے ہیں اور انہیں جسم پر باندھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ تعویذ انہیں بری طاقتوں اور مصیبتوں سے بچاتے ہیں۔
سکھ ازم
سکھ مذہب میں تعویذات کا رواج نہیں ہے۔ سکھ گرووں نے ہمیشہ لوگوں کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی ہے اور تعویذات کو شرک قرار دیا ہے۔
بدھ مت
بدھ مت میں بھی تعویذات کا رواج ہے۔ وہ مختلف منتروں اور رسومات کے ذریعے اپنے آپ کو بری روحوں اور آفات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسلمان
اسلام میں تعویذات کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ تعویذ پہننا شرک ہے۔ اسلام میں صرف اللہ پر بھروسہ کرنے اور دعاؤں کے ذریعے حفاظت حاصل کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
تعویذات کے عام استعمال اور مقاصد
ہونا تو یہ چاہیے کہ تعویذ خود کی حفاظت کے لیے پہنا جائے جبکہ یہاں تو صورتیں ہی مختلف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ مثلاً پسند کی شادی، طلاق کے مسائل، کاروباری بندش، محبوب کو تابع کرنا، شوہر کی ناراضگی، گھریلو جھگڑے، میاں بیوی کی لڑائی، جن یا چڑیل کا سایہ، محبوب کے دل و دماغ پر قبضہ، روٹھے ہوئے کو منانا، اولاد کا نہ ہونا، پڑھائی میں دل نہ لگنا، دولت حاصل کرنا، شہرت حاصل کرنا، سوتن کا روگ، بیرون ملک کا سفر کرنا، امتحان میں ناکامی، انسانی جسم پر کنٹرول، دشمن کو زیر کرنا، پرائز بانڈ نمبر، رشتوں کی بندش، محبت میں ناکامی، سسرال میں عزت ہو، بیماری سے نجات وغیرہ۔
یہ ساری مرادیں اللہ کی ذات سے مانگنے والی ہیں، جعلی عاملوں سے نہیں، جو لوگ خود آپ لوگوں کی ذات کے محتاج ہیں وہ آپ سے کمتر ہے کمزور ہے حقیر ہے آپ اسی سے مدد مانگتے ہو۔ ان کا اپنا عقیدہ تو اللہ کی ذات پر ہوتا ہی نہیں ہے یہ لوگ خود مرتد ہوتے ہیں تبھی اپنے عقیدت مندوں کو بھی اسی راستے لگا دیتے ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں تعویذات کی ممانعت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تعویذات اور اس سے ملتے جلتے اعمال کی ممانعت فرمائی ہے۔ ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تعویذات پہننا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے اور اسے شرک کی طرف لے جاتا ہے۔
احادیث کے مطابق
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، نا تو قرآن اس کے حق میں ہے اور نہ ہی کوئی حدیث بلکہ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ: "جو شخص تعویذ پہنتا ہے اللہ اس کو اسی کے حوالے کر دیتا ہے"۔
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ تعویذات کا استعمال نہ صرف ناجائز ہے بلکہ یہ شرک ہے جس سے بچنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
دیگر تفاسیر کے مطابق
مفسرین اور علماء کرام نے تعویذات کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ ان تفاسیر کو سمجھنا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ائمہ کرام کے احکامات
ائمہ اربعہ اور دیگر اکابر علماء نے تعویذات کے بارے میں واضح احکامات دیے ہیں۔
جعلی عامل اور نجومیوں کا کاروبار
آج تعویذ بنانے والے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ جی ہم کوئی غلط کام نہیں کرتے اس تعویذ میں تو محض قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ ذاتی مفاد کی خاطر قرآنی آیات کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر تعویذ کی شکل میں لکھ کر دینا اور پھر قیمت وصول کرنا کہاں جائز ہے۔
کبھی آستانوں کے چکر لگواتے ہیں، کبھی قبرستانوں کے چکر لگواتے ہیں، حرام اور مکروہ کام کرواتے چلے جاتے ہیں اور مجبور لوگ یہ غلیظ کام کرتے چلے جاتے ہیں۔
عورتوں کا تعویذات میں ملوث ہونا
تعویذات کی خرافات میں سب سے زیادہ عورتیں شامل ہوتی ہیں یہ عورتیں ہی ہیں جو ایسے لوگوں کے ڈیروں، آستانوں، مزاروں، قبرستانوں، پر چلے اور جادو ٹونہ، تنتر منتر اور عرس کی دھمالوں میں رقص کرتی اور شرکیہ اور غلیظ کلمات کی مالا چپتے دکھائی دیتی ہیں، ان لوگوں کو بڑھاوا دینے اور ان کا کاروبار چمکانے میں عورت ذات کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔
یہ جعلی لوگ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی انڈوں سے تعویذ نکلواتے ہیں تو کبھی گھر کی دہلیز میں سے، غرض یہ کہ ہر وہ غلط کام کرتے ہیں جن سے معاشرے میں امن کی بجائے انتشار ہی پھیلتا ہے۔
موجودہ دور میں تعویذات اور گمراہی
کیا ہم اس دور سے گزر رہے ہیں؟ آج کا دور میڈیا، سوشل میڈیا، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ تعویذات اور جادو ٹونے کا پھیلاؤ بے مثال ہے۔
آج کے دور میں لوگ اپنی مشکل کے لیے اللہ کی بجائے جعلی عاملوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہ قرب قیامت کی واضح نشانی ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
اللہ پر ایمان کا تقاضا اور قرب قیامت کی نشانی
اللہ پر ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم ہر مشکل میں صرف اللہ سے مدد مانگیں۔ قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی لوگوں کا اللہ پر اعتماد کم ہو جانا ہے۔
اللہ پر اعتماد کم ہونا قرب قیامت کی ایک نشانی ہے۔ ہمیں اس نشانی کو پہچاننا چاہیے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے۔ صرف اللہ ہی ہماری حفاظت کر سکتا ہے، کوئی تعویذ نہیں۔
غور و غوض کے پہلو
تعویذات اور اس سے جڑے مسائل پر غور و فکر کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس سے ہمیں اپنے معاشرے کے حالات کو سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- ایمان کی مضبوطی: کیا ہم اپنے ایمان کو مضبوط کر رہے ہیں؟ کیا ہم صرف اللہ پر بھروسہ کر رہے ہیں؟
- دین کی تعلیم: کیا ہم اپنے بچوں کو دین کی صحیح تعلیم دے رہے ہیں؟
- دعا کا اہتمام: کیا ہم اپنی مشکلات میں دعا کا اہتمام کر رہے ہیں؟
- شرک سے بچاؤ: کیا ہم شرک سے بچ رہے ہیں؟ کیا ہم تعویذات جیسے شرک سے دور ہیں؟
- علماء کی صحبت: کیا ہم نیک اور عالم لوگوں کی صحبت میں ہیں؟
نتیجہ اور عبرت
دوستو! اپنی آنے والی نسلوں کو دین کی تعلیمات سکھائیں اسی تعلیم سے ان کے کردار میں تبدیلی آ سکتی ہے اور معاشرے میں وہ اپنا مقام بنا سکتے ہیں نہ صرف دنیا بلکہ آخرت کے لیے بھی تیاری کر سکتے ہیں۔ یاد رہے! دینی تعلیمات سے دوری محض ٹک ٹاکر نسل کی تیاری ہو گی جو معاشرے پر صرف اور صرف بوجھ ہوگی اور ایسے لوگ جعلی پیروں سے تعویذات کے ذریعے تعلیم حاصل کریں گے جو محض گمراہی اور بربادی کا راستہ ہوگی۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی ناراضگی سے صبح کریں گے اور اللہ کی ناراضگی میں شام کریں گے۔