تعویذ کا مفہوم اور حقیقت
محترم قارئین کرام! تعویذ کے بنیادی معنی تو "حفاظت کے لیے دعا کرنا" وغیرہ کے ہیں۔ چونکہ لوگ تعویذ لکھ کر جسم کے مختلف حصوں میں باندھتے ہیں گویا تحریری حفاظت کہا جا سکتا ہے۔ قرآنی آیات پڑھ کر خود پر دم کرنا تو سمجھ آتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صبح و شام کے اذکار میں بہت سی دعائیں سکھلائی ہیں لیکن تعویذات میں عام طور پر اللہ کی ذات اقدس کو چھوڑ کر شیاطین و جنات کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب لوگوں کا اعتماد و بھروسہ اللہ کی ذات اقدس پر ختم ہو جائے۔
عصر حاضر کے دس بڑے گناہ جن میں غیر اللہ کی پکار، بت پرستی، مردہ پرستی، اکابر پرستی، فرقہ پرستی اور تعویذات جس کا ذکر میں اس آرٹیکل میں کرنے جا رہا ہوں شامل ہیں۔
تعویذات کے عام استعمال اور مقاصد
ہونا تو یہ چاہیے کہ تعویذ خود کی حفاظت کے لیے پہنا جائے جبکہ یہاں تو صورتیں ہی مختلف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ مثلاً پسند کی شادی، طلاق کے مسائل، کاروباری بندش، محبوب کو تابع کرنا، شوہر کی ناراضگی، گھریلو جھگڑے، میاں بیوی کی لڑائی، جن یا چڑیل کا سایہ، محبوب کے دل و دماغ پر قبضہ، روٹھے ہوئے کو منانا، اولاد کا نہ ہونا، پڑھائی میں دل نہ لگنا، دولت حاصل کرنا، شہرت حاصل کرنا، سوتن کا روگ، بیرون ملک کا سفر کرنا، امتحان میں ناکامی، انسانی جسم پر کنٹرول، دشمن کو زیر کرنا، پرائز بانڈ نمبر، رشتوں کی بندش، محبت میں ناکامی، سسرال میں عزت ہو، بیماری سے نجات وغیرہ۔
یہ ساری مرادیں اللہ کی ذات سے مانگنے والی ہیں، جعلی عاملوں سے نہیں، جو لوگ خود آپ لوگوں کی ذات کے محتاج ہیں وہ آپ سے کمتر ہے کمزور ہے حقیر ہے آپ اسی سے مدد مانگتے ہو۔ ان کا اپنا عقیدہ تو اللہ کی ذات پر ہوتا ہی نہیں ہے یہ لوگ خود مرتد ہوتے ہیں تبھی اپنے عقیدت مندوں کو بھی اسی راستے لگا دیتے ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں تعویذات کی ممانعت
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، نا تو قرآن اس کے حق میں ہے اور نہ ہی کوئی حدیث بلکہ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ: "جو شخص تعویذ پہنتا ہے اللہ اس کو اسی کے حوالے کر دیتا ہے"۔
"تھوڑی تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو" کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زیادہ معاوضہ مل جائے تو احکام الہی کا سودا کر لو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکام الہی کے مقابلے میں دنیاوی مفادات کو اہمیت نہ دو۔ احکام الہی تو اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا مال و متاع بھی ان کے مقابلے میں ہیچ اور قلیل ہے۔ اس آیت میں اصل مخاطب اگرچہ بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ حکم قیامت تک آنے والوں کے لیے ہے جو بھی اثبات باطل اور احقاق حق سے محض طلب دنیا کے لیے گریز کرے گا وہ اس وعید میں شامل ہوگا۔
جعلی عامل اور نجومیوں کا کاروبار
آج تعویذ بنانے والے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ جی ہم کوئی غلط کام نہیں کرتے اس تعویذ میں تو محض قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ ذاتی مفاد کی خاطر قرآنی آیات کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر تعویذ کی شکل میں لکھ کر دینا اور پھر قیمت وصول کرنا کہاں جائز ہے۔
کبھی آستانوں کے چکر لگواتے ہیں، کبھی قبرستانوں کے چکر لگواتے ہیں، حرام اور مکروہ کام کرواتے چلے جاتے ہیں اور مجبور لوگ یہ غلیظ کام کرتے چلے جاتے ہیں۔
عورتوں کا تعویذات میں ملوث ہونا
تعویذات کی خرافات میں سب سے زیادہ عورتیں شامل ہوتی ہیں یہ عورتیں ہی ہیں جو ایسے لوگوں کے ڈیروں، آستانوں، مزاروں، قبرستانوں، پر چلے اور جادو ٹونہ، تنتر منتر اور عرس کی دھمالوں میں رقص کرتی اور شرکیہ اور غلیظ کلمات کی مالا چپتے دکھائی دیتی ہیں، ان لوگوں کو بڑھاوا دینے اور ان کا کاروبار چمکانے میں عورت ذات کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔
یہ جعلی لوگ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی انڈوں سے تعویذ نکلواتے ہیں تو کبھی گھر کی دہلیز میں سے، غرض یہ کہ ہر وہ غلط کام کرتے ہیں جن سے معاشرے میں امن کی بجائے انتشار ہی پھیلتا ہے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ میں جس کو چاہوں بیٹے دوں، جس کو چاہوں بیٹیاں دوں یا جس کو چاہوں بے اولاد رکھوں، جبکہ جعلی بابا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بے اولاد جوڑے اولاد کے لیے رابطہ کریں، تعویذوں کے ذریعے علاج ممکن ہے گویا یہ لوگ نعوذ باللہ اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔
نتیجہ اور عبرت
دوستو! اپنی آنے والی نسلوں کو دین کی تعلیمات سکھائیں اسی تعلیم سے ان کے کردار میں تبدیلی آ سکتی ہے اور معاشرے میں وہ اپنا مقام بنا سکتے ہیں نہ صرف دنیا بلکہ آخرت کے لیے بھی تیاری کر سکتے ہیں۔ یاد رہے! دینی تعلیمات سے دوری محض ٹک ٹاکر نسل کی تیاری ہو گی جو معاشرے پر صرف اور صرف بوجھ ہوگی اور ایسے لوگ جعلی پیروں سے تعویذات کے ذریعے تعلیم حاصل کریں گے جو محض گمراہی اور بربادی کا راستہ ہوگی۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی ناراضگی سے صبح کریں گے اور اللہ کی ناراضگی میں شام کریں گے۔