اکابر پرستی کا مفہوم اور خطرات
دوستو! عصر حاضر کے 10 بڑے گناہ 1- غیر اللہ کی پکار، 2- بت پرستی، 3- مردہ پرستی کے بعد حاضر ہے اکابر پرستی۔ اکابر پرستی بھی دوسرے بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے جو موجودہ دور میں تیزی سے سرایت کر چکا ہے یہ وہ گناہ ہے جو ناصرف موجودہ نسل کو تباہ و برباد کرتی جا رہی ہے بلکہ آنے والی نسل بھی اس کبیرہ گناہ سے محفوظ نہیں ہے۔
اکابر پرستی کو ہم شخصیت پرستی یا اندھی تقلید کہیں تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ اکابر پرستی بت پرستی یا مردہ پرستی سے کئی گناہ زیادہ خطرناک اور اذیت ناک ہے۔ درحقیقت بت انسان اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے جس کا کوئی دماغ نہیں ہوتا جو خراب ہو جائے، نہ وہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے اور نہ مشکل کشائی کر سکتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جب آپ ایک مردہ انسان کی پرستش کرنا شروع کر دیں جو نہ تو سن سکتا ہے، نہ اپنی مدد کر سکتا ہے اور نہ آپ کی الجھن دور کر سکتا ہے لیکن اس کے برعکس اکابر پرستی یا شخصیت پرستی ایک ایسی بیماری و ذہنی خلل ہے جس میں آپ ایک جیتے جاگتے انسان کی پوجا کرتے ہو تو وہ خود میں کوئی فرعون بن جاتا ہے۔ اس کی اتنی پرستش کی جاتی ہے کہ گویا وہ زمین سے آسمانوں میں اُڑنا شروع کر دیتا ہے۔
اتباع اور تقلید میں فرق
اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے چند باتوں کی وضاحت کر دوں تاکہ بات سمجھ آ سکے۔ ایک لفظ ہے "اتباع"۔ دوستو! اتباع صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی ہوتی ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کی ہر بات سچی اور دلیل ہے۔ اور جس کی ہر ایک بات دلیل ہو اس کی پیروی کرنے کو اتباع کہتے ہیں۔ دنیا میں آپ ﷺ کی ذات اقدس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں اور نہ ہوگا قیامت تک کہ جس کی اتباع کی جائے۔
دوسرا لفظ "تقلید" ہے "جس کی تقلید کی جائے اس کی ہر ایک بات چاہیے وہ درست ہو یا غلط بنا تحقیق کئے دلیل کو ماننا ضروری ہوتا ہے۔ اور ہاں تقلید کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ بات بڑی واضح ہے کہ تقلید اور اتباع دو متضاد چیزیں ہیں۔ اتباع کے ہوتے ہوئے تقلید نہیں ہو سکتی اور اسی طرح تقلید کے ہوتے ہوئے اتباع نہیں ہو سکتی۔ ہم نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں تو ہمیں کسی امام کی تقلید کی بجائے آپ ﷺ کی اتباع کرنی چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے صحابہ نے آپ ﷺ کی اتباع کی۔
تیسرا لفظ ہے "اکابر" اکابر اکبر کی جمع ہے، بڑے لوگ یا مقتدر آدمی۔ جب رہنمائی کے لئے اللہ کا قرآن اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہمارے درمیان موجود ہے اور قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ تو ہم ان سے استفادہ لینے کی بجائے پیر پرستی، شخصیت پرستی یا اکابرین کی اندھی تقلید کیوں کرتے ہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں اکابر پرستی کی ممانعت
ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں چاہیے کھیل ہو، سیاست ہو، مذہب، میڈیا ہو، غرض یہ کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں بہت ساری ایسی مثالیں ملتی ہیں جو قرآن سنت کے خلاف ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن و سنت کو اپنی پیٹھ پیچھے رکھا ہوا ہے اور اس کے برعکس اپنے رہبر و رہنماؤں کے منہ سے نکلی بات کو بنا کسی تحقیق کئے کہ وہ درست ہے یا غلط پیروی کرتے ہیں اور اس کو حرفِ آخر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہی وہ غلطی ہے جو ہماری موجودہ اور آنے والی نسل کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔
یاد رہے! ہمارا ہر وہ نیا عمل جو کتاب و سنت کے مخالف ہے وہ ضلالت اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ نے قرآن میں ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اس وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا انہی لوگوں کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب ہے"۔
اکابر پرستی کے معاشرتی نقصانات
اکابر پرستی ایک بڑا شرک ہے اس میں ناصرف ہم اپنے آقاؤں، پیروں، عالموں، اور رہبر رہنماؤں کی باتوں کو بنا تصدیق کئے سرخم تسلیم کرتے ہیں بلکہ اللہ اور اس کے نبیﷺ کے فرمان سے بھی مقدم جان لیتے ہیں۔ گویا ان کو جان انجانے میں اپنا رب بنا بیٹھتے ہیں۔
اکابر پرستی کی وجہ سے ہماری آج کی نوجوان نسل نے غور و خوض، تدبر و تفکر کا مادہ ناصرف کھو دیا بلکہ سوچنے سمجھنے کی طاقت ہی سلب ہو چکی ہے، تدبر اور تفکر کی صلاحیت دم توڑتی نظر آ رہی ہے، اللہ کے بنائے ہوئے اس نظام میں انہماک اور بھرپور توجہ سے کام لینا تو درکنار اللہ کے بنائے ہوئے نظام میں اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دراڑیں ڈالنے کی کوشش میں لگا ہے، تحقیق و تجسس، تجربات و مشاہدات اور جدید ایجادات میں چھان پھٹک کرنا ہماری نوجوان نسل گویا بھول ہی گئی ہے۔
نوجوان نسل پر اکابر پرستی کے اثرات
اپنے ذہنوں میں اختراع کو کئی نئے زاویے سے ٹٹولنا، نئی نئی ایجادات سے مستفید ہو کر دوسروں کے لئے نئی راہ کھوجنا گویا ہمارے نوجوانوں کو آتا ہی نہیں ہے۔ بے پناہ ذہانتوں، صلاحیتوں کے باوجود آج کا نوجوان کسی پرانی لکیر پر ہی لکیر لگا کر ڈگریوں کے انبار لگا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی علوم، دینی خدمات و قیادت چند مٹھیوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے، یاد رہے! غور و فکر اور تدبر و تفکر کو خیر باد کہہ کر ہاں میں ہاں ملانے سے روکا گیا ہے۔
نتیجہ اور عبرت
دوستو! آج ہمارے ہاتھوں میں موبائل فونز ہیں اور فونز پر طرح طرح کی ایپس موجود ہیں سوشل میڈیا کی ایپس پر ہم بنا تصدیق کئے ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وہ کچھ شیئر کر دیتے ہیں جس کا ہمیں ہمارا دین اجازت نہیں دیتا۔ چاہے وہ کسی کے منہ سے نکلی بات ہو جذبات ہوں، قرآنی آیات ہوں، احادیث ہوں یا کوئی سیاسی پوسٹ ہوں یہ سب اکابر پرستی کے زمرے میں ہوتا ہے اور اکابر پرستی ایک شرک کی قسم ہے اور شرک ناقابل معافی ہے۔