مردہ پرستی کا مفہوم اور حقیقت
دوستو! عصر حاضر کے 10 بڑے گناہوں میں غیر اللہ کی پکار، بت پرستی کے بعد تیسرا بڑا گناہ مردہ پرستی یا قبر پرستی ہے۔ یہ ساری شرک کی اقسام ہیں یاد رہے کہ شرک پر مرنے والوں کی معافی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے کہ "بے شک اللہ رب العزت شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا"۔
اگر ہم ذرہ اس نظریے کے لوگوں کو اہل مشرق اور اہل مغرب میں تلاش کریں یا موازنہ کیا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اہل مغرب کی نسبت اہل مشرق زیادہ مردہ پرستی میں ملوث ہے اس کی واضح مثال ہے کہ آپ کے علاقے کی مساجد ویران جبکہ علاقے کے قبرستان آباد نظر آئیں گے۔ غریب اور مفلس لوگوں کے جسموں پر کپڑے کم ہوتے ہیں جبکہ قبر پر عالیشان اور نہایت قیمتی چادریں ڈالی جاتی ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں مردہ پرستی کی ممانعت
مشرقی لوگوں کی بڑی تعداد شب و روز درباروں و مزارات کے چکر لگاتے ملیں گے۔ جاہلیت اور کم علمی کی وجہ سے مشرقی لوگوں کے ہاں ہر دو تین گلیوں کے بعد ہمیں کوئی نہ کوئی مزار اور درگاہ مل ہی جائے گی جہاں پر عورتیں اور مرد دیے جلانے کا کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ دن چڑھتے ہی یہاں قوالیاں، نیاز، لنگر و خیرات، منتوں اور مرادوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ مزار یا تو کسی ایسے مذہبی بزرگ کا ہوگا جنھیں زندگی میں ہزاروں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مرنے والے کو پتہ ہی نہیں ہوگا کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے انہی کا دربار بنا کر عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔
قبر پرستی کے نقصانات اور شرک
اللہ نے شیطان ابلیس کو حکم دیا تھا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرے تو اس نے انکار کیا اور اللہ کی دربار سے نکالا گیا۔ شیطان ابلیس نے کیسا کھیل کھیلا کہ آج انسان اللہ کو سجدہ کرنے کی بجائے اپنے ہی جیسے کم تر، کمزور انسان کو سجدہ کر رہا ہے وہ بھی جو زندہ بھی نہیں مر چکا ہے۔ نہ تو وہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے نہ ہی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ وہ اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتا تو ہمارے لئے کیا کرے گا۔
آج کے معاشرے میں مردہ پرستی کی صورتیں
ایسے نام نہاد پیر جنھوں نے درباروں، مزاروں، قبرستانوں، آستانوں پر اپنے ٹھکانے بنانے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور عقیدت مندوں، مریدین کو مشکل کشائی کے جھانسے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر ڈر اور خوف کا ایسا کاروبار چمکا رہے ہوتے ہیں۔ وہ خود تو اپنی نسلوں کے لئے مال و متاع اور جہنم کا ایندھن تیار کر رہے ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ اپنے مریدوں کی جیبوں کو بھی اچھی طرح صاف کر رہے ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے دلوں میں مریدوں کے لئے نہ تو رحم ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی محبت و شفقت، سفاکی، بے حیائی اور بے غیرتی کی ایسی محفلیں سجائی جاتی ہیں کہ یہود و نصاریٰ اہل مشرق کی ان حرکتوں کو دیکھ کر شرماتے ہیں۔ وہ سازشیں جو ہمارے لئے اہل یہود و نصاریٰ کیا کرتے تھے شیطان ابلیس نے ان لوگوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے کام کو مزید سہل کر دیا۔
نبی ﷺ کی پیشین گوئیاں اور احادیث
ام حبیبہ اور ام سلمہ دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں (تصویریں) تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ سے ان کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا "کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار (نیک) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بتاتے اور اس میں یہی مورتیں بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں بُرے ہوں گے"۔