بت پرستی کا مفہوم اور حقیقت
عصر حاضر کے 10 بڑے گناہوں پہلا اللہ کے علاوہ کسی اور پکارنا کے بعد دوسرا کبیرہ گناہ بت پرستی ہے۔ امت مسلمہ بھی قبر پرستی کی وجہ سے بت پرستی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ بت پرستی سے درحقیقت بتوں کی پوجا اور انہی سے اپنی منتیں، مرادیں، حاجت روائیاں، مشکل کشائیاں یا امیدیں وابستہ کرنا مراد ہوتا ہے، گویا ایک اللہ کے در کو چھوڑ کر در در کر ٹھوکریں کھانا، کامیابی کے لئے الگ خدا، مشکل کشائی کا الگ خدا، دولت کا الگ اور نہ جانے کتنے ان گنت خدا سب اسی بت پرستی کا حصہ ہیں۔ بت پرستی میں عرب کے مشرکین، ہندوستان اور جاپان وغیرہ کے لوگ شامل ہیں جبکہ، یہودی اور عیسائی بت پرستی میں ڈائریکٹ شامل نہیں ہیں۔
دین اسلام اور قرآن و سنت کی روشنی میں بت پرستی سے شدید ممانعت اور صرف ایک اللہ رب العزت کی عبادت کرنے کا حکم موجود ہے، ارشاد ربانی ہے "پس تم بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو" اسی طرح اگر ہم حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ دیکھیں تو ہمیں بت پرستی کے شواہد ملتے ہیں کہ کیسے ان کے قبیلے کے لوگ خود ان کے والد ناصرف بتوں کی پوجا کرتے تھے بلکہ اپنے ہاتھوں سے بت بناتے تھے۔ یہی وہ وجہ تھی جس کی بغاوت حضرت ابراہیم ؑ نے کی اور اللہ رب العزت کی رحمت سے ایسے ایسے دلائل پیش کئے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں بت پرستی کی ممانعت
نیز ابراہیم نے ان سے کہا: "تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو آپس میں محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ اور تمہارا ٹھکانا آگ ہوگا اور تمہارا کوئی مدد گار بھی نہ ہوگا"
حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ اور بت شکنی
اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ جب چالیس دن بعد لوٹے تو قوم نے بچھڑے کو معبود بنا کر پوجا پاٹ شروع کر دی تھی۔ اسی طرح خانہ کعبہ کے تین سو ساتھ بت وغیرہ۔ یہ چند آیات یا واقعات ہی نہیں بلکہ پورا قرآن پاک ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہیں لیکن افسوس کے ہمارے پاس ان کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے کوئی وقت نہیں ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ اور بچھڑے کی پوجا
جبکہ ہمارے حکمران اللہ کا در چھوڑ کر کبھی یہود سے مدد مانگتے ہیں، کبھی ہنود سے تو کبھی عیسائیوں کے در پر جھکتے ہیں۔ ذاتی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ لوگ ایسے ایسے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ کلمہ گو ہیں اور امت محمدیہ کے لوگ ہیں۔ جب تک اہل یہود حکم صادر نہ کریں ملک پاکستان میں کوئی کام ہوتا ہی نہیں۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے۔
آپ ﷺ کی پیشین گوئیاں اور قیامت کے آثار
اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ تمھارے دوست نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ تم لوگ ان سے نہ مل جاؤ یعنی ان پر ایمان نہ لے آؤ تب تک وہ تمھارے دشمن ہی ہیں۔ وہ تمھارے کبھی خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتے۔
اس حدیث سے ایک بات بہت واضح ہے کہ بت پرستش کے ساتھ ساتھ بت بنانا اور پھر اس کے اشاعت کرنا، اس کو فروغ دینا محض دوزخ کا ایندھن ہیں۔ اس حدیث میں ہمارے لئے ایک ایسا سبق موجود ہے جس سے ہر شخص کو اس سے بچنا چاہیے۔ ایسے مجاور لوگ جو پکی قبریں بنا کر ان پر کتبے نصب کر کے خوبصورت چادریں چڑھا کر بت پرستی ایجاد کرتے ہیں۔ یہی لوگ خود بھی گمراہی میں ہوتے ہیں اور دوسروں کو شرک کے عمیق گہرایوں میں دھکیلتے چلے جا رہے ہیں۔
آج کے معاشرے میں بت پرستی کی صورتیں
ہر شخص جانتا ہے کہ پکی قبروں کی سخت ممانعت ہوتی ہے لیکن لوگ کیا کہیں گے، لوگ کیا کہیں گے اسی خوف سے نبی ﷺ کا فرمان پیٹھ پیچھے پھینک کر لوگوں کو خوش کیا جاتا ہے۔ خاندان میں نام ہونا چاہیے، کہ فلاں نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اتنی عالیشان قبر تیار کروائی تھی۔ افسوس کے لوگوں کے پاس اللہ اور اس کے نبی ﷺ کا واضح فرمان موجود ہونے کے باوجود لوگ نہیں ڈرتے۔ اور گناہ درگناہ کرتے چلے جاتے ہیں۔
شیطان نے بھی کیا کیا کھیل کھلانا شروع کر دیا ہے آج ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ پیروں کی قبریں موجود ہیں، قبروں پر چڑھاوے، اگر بتی، عرس، منتیں، فریادیں، امیدیں، دھمالیں، عریانی کی محفلیں، قوالیاں، چلے کاٹنا، غرض ہر وہ برا کام جس سے ہمارے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے بڑے جوش و خروش اور عقیدت مندی سے منائے جا رہے ہیں۔ کمال تو اس بات کا ہے کہ گناہ گناہ لگتا ہی نہیں ہے۔
قبر پرستی اور بدعات
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "قیامت کے دن جس کسی شخص سے اللہ رب العزت نے یہ پوچھ لیا کہ بتا تو نے یہ گناہ کیوں کیا تھا۔۔ اس بندے کی خیر نہیں"۔
ایسے مجاور لوگ جو پکی قبریں بنا کر ان پر کتبے نصب کر کے خوبصورت چادریں چڑھا کر بت پرستی ایجاد کرتے ہیں۔ یہی لوگ خود بھی گمراہی میں ہوتے ہیں اور دوسروں کو شرک کے عمیق گہرایوں میں دھکیلتے چلے جا رہے ہیں۔