محترم قارئین کرام! یہ بات سچ ہے کہ جو بھی قدرتی آفات ہم پر بھیجی جاتی ہیں وہ سب کی سب ہمارے اعمالوں کی عوض ہوتے ہیں۔ یوں تو زلزلوں کا آنا لوگوں کے لئے مصائب اور تنگی کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن اگر اہل ایمان کو اگر کوئی تنگی و گٹھن، مصیبت و پریشانی، رنج وغم آجائے تو وہ بصورت امتحان و آزمائش، درجات کی بلندی اور نیکیوں میں اضافے کا باعث ہے، لیکن اگر یہ کفار کے ہاں قتل وغارت، زنا کاری، مے نوشی، سود کھانے کے عوض کسی ایسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو یہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی زلزلوں کی کثرت کا ہونا ہے۔ اس سے مراد بڑے تسلسل کے ساتھ زلزے آئیں گے۔ یہ زلزلے امت کے لئے یا تو رحمت اور گناہوں کا کفارہ ہوں گے۔ جیسا کہ ایک روایت کے مطابق فرمایا گیا: "میری امت پر رحم کیا گیا ہے۔ اس کے لئے آخرت میں کوئی عذاب نہیں بلکہ اللہ رب العزت نے اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں مقرر کر دیا ہے۔"
یا پھر یہ زلزلے لوگوں کے لئے سزا ہوتے ہیں جیسے میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو"۔
میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ زلزلوں کی شدت کو دیکھ کر جس قدر لوگ تیزی سے گھروں اور دفاتر سے باہر نکلتے ہیں جان بچانے کے لئے اگر اسی تیزی سے مساجد کا رخ کر لیا جائے باجماعت نماز، اور نیکی کا اہتمام کریں تو یقیناً زلزلے رک جائیں گے۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس سر زمین شام میں منتقل ہوجائے تو سمجھ لینا کہ زلزلوں، مصیبتوں اور بڑی پریشانیوں کا دور آپہنچا۔ اس وقت قیامت لوگوں کے اس قدر نزدیک ہو گی جس قدر میرا یہ ہاتھ تمھارے سر کے قریب ہے۔"
اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا: "ہم انہیں یعنی قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا مزا بھی ضرور چکھائیں گے شاید وہ اپنی روش / عادت سے باز آجائیں"۔
اس آیت مبارکہ سے مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا چھوٹا عذاب ہے، یعنی اس سے مراد دنیا کی وہ تنگی، گھٹن، دکھ، رنج، مصائب، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ بُرے کاموں سے توبہ کرلیں۔
دنیا میں انسانوں کو چھوٹے چھوٹے مصائب اور چیلنجز اس لئے درپیش ہوتے ہیں کہ وہ اپنے طرززندگی پر ازسرنو نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں، لغزشوں، کوتاہیوں، بدمعاشیوں، بداعمالیوں سے باز آجائیں، اور اللہ رب العزت سے فوری رجوع کرکے اپنے کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی استغفار کرنی چاہیے، اور اپنے طور طریقے کی اصلاح کرنی چاہیے۔
قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے گزری ہوئی قوموں کے بارے میں بڑے واضح انداز میں سمجھایا کہ کیسے ان لوگوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے ان کو گھیر لیا۔
اسی طرح اللہ رب العزت نے قوم شعیب کے بارے میں فرمایا: "پس انہیں ایک خطرناک زلزلے نے آلیا اور سب اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کر مر گئے"۔ قوم شعیب پر عذاب آنے کی وجہ ناپ تول میں کمی بیشی بتائی گئی ہے جو کہ ان کی روزمرہ عادت بن گئی تھی کہ مال و اسباب لیتے ہوئے ہمیشہ زیادہ لیتے اور جب دینے کا وقت آتا تو ہمیشہ کم کرکے دیتے تھے۔
آج وہ ساری برائیاں امت محمدیہ میں موجود ہیں جو سابقہ انبیاء کرام کی امتوں میں موجود تھیں۔ یہ برائیاں سابقہ تمام انبیاء کرام کی امتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ شاید ان میں تو کوئی ایک دو برائیاں ہوگی جس کی پکڑ کی گئی ہو گی۔ لیکن یہاں تو ہر طرف فتنے ہی فتنے اور برائیاں ہی برائیاں دکھائی دیتی ہیں۔
آپ ﷺ کا فرمانِ گرامی – تفصیلی جائزہ
رسول اللہ ﷺ نے اپنی متعدد احادیث مبارکہ میں زلزلوں، مصیبتوں اور بڑی پریشانیوں کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فرمائی ہے۔ ان احادیث میں نہ صرف ان آفات کی پیشین گوئی ہے بلکہ ان سے بچنے اور نجات پانے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں۔
اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے زلزلوں کی کثرت کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آپ ﷺ نے زلزلوں کا ذکر فتنوں، ہرج اور مال کی فراوانی کے ساتھ کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام چیزیں آپس میں مربوط ہیں اور ایک ہی دور میں ظاہر ہوں گی۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے جو شخص زلزلے کو دیکھے تو وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع کرے، استغفار کرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔" یہ فرمان ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ قدرتی آفات کا صحیح ردعمل اللہ کی طرف لوٹنا ہے، نہ کہ گھبراہٹ یا مایوسی۔
ائمہ کرام کے مطابق زلزلوں کی حقیقت
ائمہ کرام اور علمائے اسلام نے زلزلوں اور قدرتی آفات کے بارے میں گہرے تحقیقی کام کیا ہے۔ انہوں نے ان آفات کو محض قدرتی واقعات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم پیغام قرار دیا ہے۔
امام غزالی کا موقف
امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب "احیاء علوم الدین" میں لکھا ہے کہ زلزلے اور دوسری قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ یہ آفات انسانوں کو ان کی غفلت سے جگانے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ ہیں۔ امام غزالی کے مطابق، جب لوگ اپنے گناہوں میں حد سے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ان آفات کے ذریعے تنبیہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنی روش بدل سکیں۔
علامہ ابن تیمیہ کا نقطہ نظر
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے زلزلوں کو اللہ تعالیٰ کی سنت (قانون) کے مطابق قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ آفات اس وقت آتی ہیں جب زمین پر ظلم و ستم، بدکاری اور گناہ عام ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان آفات سے بچنے کا واحد راستہ توبہ اور استغفار ہے، اور اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔
مفسرین کرام کا اجمالی موقف
مفسرین کرام نے سورہ الروم کی آیت نمبر 41 کے تحت فرمایا: "ظہور برّو بحر میں فساد ان اعمال کی وجہ سے ہے جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمائے ہیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آئیں۔" اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ برّو بحر میں فساد سے مراد خشکی اور سمندر میں پھیلی ہوئی برائیاں، ظلم، ناانصافی، اور قدرتی آفات ہیں جو انسانوں کے برے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔
تفاسیر کے مطابق زلزلوں کا مقصد
قرآن مجید کی مختلف تفاسیر میں زلزلوں اور قدرتی آفات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ مفسرین نے ان آیات کو مختلف زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر ابن کثیر میں سورہ الزلزال کی تفسیر کے تحت لکھا گیا ہے کہ جب زمین کو زلزلہ آئے گا تو وہ اپنے اندر موجود ہر چیز کو باہر نکال دے گی۔ یہ قیامت کے دن کا ایک منظر ہے، لیکن مفسرین نے اس سے دنیاوی زلزلوں کو بھی علامت قرار دیا ہے کہ جب زمین پر گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں تو زمین خود اپنا بوجھ باہر پھینک دیتی ہے۔
تفسیر القرطبی
امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ زلزلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کسی علاقے میں زلزلہ آتا ہے تو وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ امام قرطبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ زلزلوں کا تعلق لوگوں کے اخلاق اور معاشرتی رویوں سے ہے۔
تفسیر المظہری
ملا علی قاری نے اپنی تفسیر "المظہری" میں لکھا ہے کہ زلزلے اور دوسری قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں، لیکن ان کا انسانوں کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے۔ ان کے مطابق، جب لوگ اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکام کو نظرانداز کرتے ہیں تو انہیں ان آفات کے ذریعے متنبہ کیا جاتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں مصائب و آفات
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر قدرتی آفات، زلزلوں اور مصائب کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کے مظاہر، اپنی تنبیہات اور اپنے بندوں کو ہدایت دینے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ پچھلی قوموں کے انجام کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گناہوں کی وجہ سے کس طرح تباہی کو دعوت دی۔ یہ آیت ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہم بھی اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذکر ہے، لیکن اس کا الٹ بھی ہے کہ جب انسان ناشکری کرتے ہیں تو یہ رحمتیں عذاب میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ زلزلے، سیلاب اور دوسری آفات اسی ناشکری اور گناہوں کا نتیجہ ہیں۔
سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے قوم شعیب کے بارے میں فرمایا: "اور اے قوم! ناپ تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔" (سورہ ہود: 85) پھر اس قوم کو زلزلے کے عذاب نے آ لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی زیادتی، ناانصافی اور زمین پر فساد پھیلانا زلزلوں کا سبب بنتا ہے۔
دور حاضر کے حالات و واقعات
آج کا دور زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات کا دور ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں سینکڑوں زلزلے آتے ہیں جن میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ تمام واقعات محض اتفاقیہ ہیں؟ یا ان کے پیچھے کوئی حکمت ہے؟
حالیہ زلزلوں کا جائزہ
2023 اور 2024 میں ترکی، شام، مراکش، افغانستان اور پاکستان میں آنے والے تباہ کن زلزلوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ ان زلزلوں میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور کروڑوں کا نقصان ہوا۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب انسان اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے متنبہ کرتا ہے۔
معاشرتی برائیاں اور آفات کا تعلق
دور حاضر میں جہاں زلزلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، وہیں معاشرتی برائیوں میں بھی خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ سود، زنا، شراب، قتل، ڈکیتی، جھوٹ، غیبت، چغلی، اور دیگر بہت سی برائیاں عام ہو چکی ہیں۔ یہ وہی برائیاں ہیں جن کی وجہ سے پچھلی قومیں تباہ ہوئیں۔
مستقبل کی پیشین گوئی
سائنسدانوں کے مطابق آنے والے سالوں میں زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات میں مزید اضافہ ہوگا۔ لیکن ایک مومن کے لیے یہ پیشین گوئیاں کوئی نئی نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے 1400 سال پہلے ہی ان آفات کی پیشین گوئی کر دی تھی۔ ہمیں ان آفات سے ڈرنا نہیں بلکہ ان سے سبق سیکھنا اور اپنی اصلاح کرنی ہے۔
ہمیں کیا تعلیمات سکھائی گئی ہیں؟
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں زلزلوں اور مصائب کے وقت کیا کرنا ہے، یہ تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ آئیے ان تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں:
1. توبہ و استغفار
سب سے پہلی اور اہم تعلیم یہ ہے کہ جب کوئی آفت آئے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو یقیناً وہ اللہ کی طرف صحیح توبہ کرتا ہے۔" (سورہ الفرقان: 71)
2. نماز اور دعا
آفت کے وقت نماز اور دعا بہت اہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب بھی کوئی آفت دیکھی تو فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اللہ سے دعا کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم زلزلہ دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو۔"
3. صبر اور یقین
آفت کے وقت صبر کرنا اور اللہ پر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور صبر کرنے والوں کو ان کے اجر بغیر حساب دیے جائیں گے۔" (سورہ الزمر: 10)
4. اپنے اعمال کا محاسبہ
ہر آفت ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا موقع دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں، اپنی برائیوں کو پہچانیں اور انہیں چھوڑنے کا عزم کریں۔
5. دوسروں کی مدد
آفت کے وقت دوسروں کی مدد کرنا بھی ایک اہم تعلیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی مصیبت میں سے کوئی مصیبت دور کرتا ہے تو اللہ اس سے قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کر دے گا۔" (مسلم)
ہم کن کاموں میں مشغول ہیں؟
آج کا مسلمان کس حالت میں ہے؟ کیا وہ ان تعلیمات پر عمل کر رہا ہے؟ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں کہ ہم کس مصروفیت میں مبتلا ہیں:
دنیوی مصروفیات
ہم دنیوی معاملات میں اس قدر مصروف ہیں کہ آخرت کی فکر کرنا بھول گئے ہیں۔ ہم اپنے گھروں، کاروباروں، نوکریوں، اور تفریحات میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ اللہ کی عبادت اور یاد سے غافل ہو گئے ہیں۔
گناہوں میں مبتلا
سود، رشوت، جھوٹ، غیبت، چغلی، غرور، تکبر، اور بے شمار دوسرے گناہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم ان گناہوں کو معمولی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی گناہ پچھلی قوموں کی تباہی کا سبب بنے۔
نیک کاموں سے غفلت
نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، تلاوت، ذکر، دعا، اور دوسرے نیک اعمال سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مساجد کی رونقیں کم ہو رہی ہیں، قرآن کی تلاوت اور تدبر کم ہو رہا ہے، اور اسلامی اخلاقیات کا زوال ہو رہا ہے۔
آفات سے سبق حاصل نہ کرنا
سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہم آفات سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ زلزلہ آتا ہے، ہم ڈر جاتے ہیں، کچھ دیر توبہ کرتے ہیں، اور پھر وہی پرانی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ یہی تو اصل تباہی ہے!
اللہ تعالیٰ سے استدعا ہے کہ وہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے، اپنی زندگیوں کو بدلنا چاہیے، اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ صرف یہی راستہ ہے جو ہمیں زلزلوں اور آفات سے بچا سکتا ہے۔