امام مہدی کا تصور مسلمانوں کے درمیان ایک اہم عقیدہ ہے، جس کے مطابق قیامت سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نجات دہندہ امام مہدی کی صورت میں بھیجا جائے گا، جو دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرے گا اور گمراہی کے اندھیروں کو مٹائے گا۔ اس عقیدے کی اہمیت اور مسلمانوں میں اس کے وسیع اثرات کی وجہ سے تاریخ میں مختلف ادوار میں متعدد افراد نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور کئی لوگوں نے ان کے اس دعوے کی تصدیق بھی کی۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
مہدی ہونے کے دعویدار
- عبداللہ بن سبا نے دعوی کیا تھا کہ علی بن ابی طالب مہدی منتظر ہیں اور اس کا خیال تھا کہ وہ دنیا میں واپس آئیں گے۔
- مختار بن عبید ثقفی نے دعوی کیا کہ محمد بن الحنفیہ جو سن 81 ہجری میں وفات پاگئے تھے۔ وہ مہدی منتظر ہیں۔ محمد بن الحنفیہ کا نام محمد بن علی بن ابی طالب ہے۔ انھیں ابن الحنفیہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ خولہ بنت جعفر کا تعلق بنو حنیفہ کے قبیلے سے تھا۔
- فرقہ کیسانیہ کے لوگ جو کہ حضرت علی کے آزاد کردہ غلام کیسان کے پیروکار ہیں اور یہ بھی شیعوں کا ایک فرقہ ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ محمد بن الحنفیہ تمام علوم کا احاطہ کئے ہوئے تھے اور ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دین ایک شخص کی اطاعت کا نام ہے۔ انھوں نے ارکان شرعیہ کی تاویل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے مراد رجال ہیں اور اس طرح انھوں نے ارکانِ شرعیہ کو معطل قرار دے دیا۔ اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ عبداللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہاشمی قریشی ہی مہدی ہیں۔
- محمد بن عبداللہ بن حسن بن ابی طالب جن کا لقب نفسِ زکیہ تھا اور جو سن 145 ہجری میں فوت ہوئے۔ یہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور نمازیں پڑھنے والے عبادت گزار شخص تھے۔ ان کے عہد میں کچھ لوگ فتنے میں مبتلا ہوگئے اور سمجھنے لگے کہ وہی امام مہدی ہیں۔ انھوں نے تحریک شروع کی اور کئی لوگ ان کے پیروکار ہوگئے۔ انھوں نے حالات کی بہتری کے لئے کوشش کی۔ ان کے دور کے عباسی خلفاء نے دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر کے ساتھ لڑائی کی اور اس تحریک کو ختم کر دیا۔ نفس زکیہ نے عباسی خلیفہ کے خلاف خروج کیا تھا کیونکہ اس کے دور میں ظلم واستبداد بہت پھیل گیا تھا۔
- عبیداللہ بن میمون القداح نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے سن 325 ہجری میں وفات پائی، اس کا دادا یہودی تھا۔ عبیداللہ فرقہ قرامطہ کا بانی ہے جنھوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور سن 317 ہجری میں حجراسود چراکر لے گئے۔ یہ لوگ کفرو الحاد میں یہودو نصاری سے بھی دوقدم بڑھ کر تھے۔ اس کی اولاد کو شہرت و اقتدار نصیب ہوا۔ انھوں نے مصر، حجاز اور شام پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں اپنی حکومتیں قائم کیں۔ انھوں نے غلط بیانی کرتے ہوئے خود کو اہل بیت سے منسوب کیا اور دعوی کیا کہ وہ سیدہ فاطمہ زہراء کی نسل میں سے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فاطمہ کہلائے۔ انھوں نے اپنے عہد اقتدار میں شافعی مسلک کے تمام قاضیوں معزول کر دیا اور ہر جگہ قبروں اور مزاروں کو رواج دیا۔ ان کے کرتوتوں کے باعث امت پر بے شمار مصیبتیں نازل ہوئیں۔ قرامطہ بظاہر مسلمان ہونے کا دم بھرتے تھے لیکن حقیقت میں وہ ملحد تھے۔ یہ لوگ تمام مذاہب سے خارج تھے۔ ان کا مذہب آگ کے پجاری مجوسیوں اور ستاروں کے پجاری صابیوں کے مذاہب سے مرکب ہے۔ فاطمیوں کا دور حکومت 280 برس سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ عبیداللہ القداح نے مہدی ہونے کا دعوی کیا اور "مہدیہ" نامی شہر کی بنیاد رکھی۔
- محمد بن عبداللہ بربری جو ابن تومرت کے نام سے معروف ہے۔ یہ شخص سن 514 ہجری میں ظاہر ہوا اور اس نے دعوی کیا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب کی نسل سے ہے۔ اس نے اپنا نسب حسن بن علی کے ساتھ جوڑ لیا۔ اس آدمی نے ظلم واستبداد کے ذریعے حکومت بھی حاصل کرلی۔ یہ بہت حیلے باز اور دھوکے باز انسان تھا جو لوگوں کو حیلے بازیوں کے ساتھ دھوکا دیتا اور ان کے سامنے اظہار کرتا کہ اس کی بہت سی کرامات ہیں۔ اس کی ایک حیلہ بازی یہ بھی تھی کہ اس نے ایک دفعہ کچھ لوگوں کو قبروں میں داخل کر دیا اور کچھ لوگوں کو لے کر آیا تاکہ انھیں نشانی دکھائے۔ اس نے آواز دی کہ اے قبر والو! میری بات کا جواب دو۔ انھوں نے کہا: آپ مہدی ہیں، معصوم عن الخطا ہیں اور آپ کی فلاں خوبی ہے، آپ کی فلاں خوبی ہے، پھر اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے فراڈ کا راز فاش نہ ہو جائے، اس لئے اس نے قبروں میں لیٹے ہوئے لوگوں پر قبریں دھنسا دیں اور وہ مر گئے۔
- محمد احمد بن عبداللہ سوڈانی متوفی 1302 ہجری موافق 1885 عیسوی۔ یہ ایک صوفی تھا جس نے سوڈان پر غلبہ حاصل کر لیا۔ وہ زہد و عبادت میں مشہور ہوا اور اس نے اڑتیس برس کی عمر میں مہدی ہونے کا دعوی کیا۔ قبائل کے سردار اور بزرگ لوگ اس کی طرف مائل ہوئے۔ اس کا عقیدہ تھا کہ جو شخص اس کی مہدیت کا انکار کرے گا وہ اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کا مرتکب ہوگا۔ وہ اس طرح کے اور بھی بے کار دعوے کیا کرتا تھا۔ اگرچہ انگریز عیسائیوں کے خلاف جنگوں میں اس کے کچھ کارنامے بھی ہیں۔ تاہم امر واقع یہ ہے کہ وہ احادیث میں مذکور مہدی موعود نہیں تھا بلکہ وہ بھی مہدیت کے دیگر دعویداروں کی مانند ایک جھوٹا دعویدار تھا۔
- روافض (شیعہ) کا عقیدہ ہے کہ وہ مہدی کے منتظر ہیں۔ وہ ان کا بارہواں امام ہے۔ ان کے نزدیک اس کا نام محمد بن حسن عسکری ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ وہ حسن بن علی کی اولاد سے نہیں بلکہ حسین بن علی کی اولاد سے ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ امام ایک ہزار برس سے زیادہ عرصہ قبل سن دو سو ساٹھ ہجری میں سامراء کے ایک غار میں داخل ہوا تھا۔ جب وہ اس غار میں داخل ہوا تو اس کی عمر پانچ برس تھی۔ وہ اس وقت سے اس غار میں زندہ ہے، اسے موت نہیں آئی اور وہ آخری زمانے میں اسی غار سے باہر نکلے گا۔ یہ امام ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ وہ لوگوں کے حالات سے آگاہ ہے مگر ان کی نگاہوں سے غائب ہے اور اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ یاد رہے! ان کے یہ عقائد سراسر بے وقوفی اور جہالت پر مبنی ہیں، کسی دلیل و برہان اور عقل و استدلال سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ پھر یہ عقیدہ انسانوں کے بارے میں اللہ کی سنت کے بھی خلاف ہے، اللہ رب العزت کے انبیاء و رسل جو اس کی مخلوق میں سے افضل ترین انسان ہیں، انھیں تو اللہ رب العزت فوت کر دیتا ہے اور شیعوں کے مہدی کو ہزار برس سے زیادہ عرصے سے زندہ رکھے، یہ کیسے ممکن ہے؟ اور اگر وہ زندہ ہے تو اس طویل مدت تک اس کے غائب ہونے اور چھپنے کی ضرورت کیا ہے؟ وہ باہر نکل کر لوگوں کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام کیوں نہیں دیتا۔ حالانکہ امت کو آج کے حالات میں اس کی شدید ضرورت ہے۔
امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں "اہل سنت کا مہدی بلادِ مشرق سے ظاہر ہوگا نہ کہ سامراء کے غار سے جیسا کہ جاہل شیعوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آج بھی اس غار میں موجود ہے۔ وہ آخری زمانے میں اس کے خروج کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ محض حماقت اور شیطان کی طرف سے شدید گمراہی اور دھوکہ دہی ہے۔
اہم باتیں
- مہدی لوگوں کو اپنی ذات کی طرف دعوت نہیں دے گا، نہ ہی اپنی بیعت کے لئے لوگوں کو پکارے گا۔ بلکہ لوگ اس کی بیعت کریں گے اور وہ اسے ناپسند کرتا ہوگا۔
- مہدی کا نام نبی کریم ﷺ کے نام کے مطابق، یعنی اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔
- اس کا نسب سیدنا حسن بن علی تک پہنچتا ہوگا۔
- وہ چوڑی پیشانی والا اور اونچی ناک والا ہوگا۔
- وہ جن حالات میں ظاہر ہوگا، وہ کچھ اس طرح سے ہوں گے:
- ایک خلیفہ کی وفات کے بعد اختلاف واقع ہوگا۔
- زمین میں اس وقت ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
- تین خلفاء کے بیٹے آپس میں جنگ کریں گے۔
- مہدی ایک نیک اور متقی شخص ہوگا۔ وہ علم شریعت اور حکمت و دانش سے لبریز ہوگا۔
- اس کا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوگا اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کی جائے گی۔
موجودہ حالات کا تجزیہ
اسلامی روایت اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں امام مہدی کے ظہور کی جو علامتیں اور حالات بیان کیے گئے ہیں، انہیں دورِ حاضر بالخصوص سعودی عرب اور وسطی ایشیا (Central Asia) کے موجودہ اور ممکنہ جیو پولیٹیکل (جغرافائی و سیاسی) حالات کے تناظر میں ذیل میں تجزیاتی طور پر سمجھا جا سکتا ہے:
1. اپنی ذات یا بیعت کی طرف دعوت نہ دینا
- احادیث کی روشنی میں: امام مہدی خود کو قائد یا خلیفہ ثابت کرنے کے لیے کوئی تحریک یا کمپین نہیں چلائیں گے، بلکہ لوگ حالات کی مجبوری اور ان کے تقویٰ کو دیکھ کر ان سے بیعت لیں گے۔
- موجودہ حالات اور امکانی صورتحال: آج کے دور میں جہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی پروپیگنڈا کے ذریعے خود کو لیڈر ثابت کیا جاتا ہے، وہاں ایک ایسا شخص جو شہرت اور اقتدار سے دور بھاگتا ہو، بالکل الگ نظر آئے گا۔ سعودی عرب یا دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر مذہبی و سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے، تو لوگ کسی ایسے غیر جانبدار اور متقی شخص کی طرف دیکھیں گے جو اقتدار کا بھوکا نہ ہو۔
2، 3 اور 4. نام (محمد بن عبداللہ)، نسب (حسنی سید) اور جسمانی خصوصیات
- روایت کے مطابق: ان کا نام نبی کریم ﷺ کے نام پر ہوگا، وہ حسنی سادات میں سے ہوں گے اور ان کی پیشانی کشادہ اور ناک اونچی ہوگی۔
- موجودہ حالات: سادات (اہلِ بیت) کی نسل آج بھی دنیا کے مختلف ممالک بشمول حجاز (سعودی عرب)، یمن، اردن، مصر اور دیگر علاقوں میں موجود ہے۔ تاہم، آج کے تکنیکی دور میں کسی کے نسب اور شناخت کی تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے جعلسازوں کا بے نقاب ہونا بھی تیز تر ہو گیا ہے۔
5. ظہور کے وقت کے حالات
(a) خلیفہ کی وفات کے بعد اختلاف اور (c) تین خلفاء کے بیٹوں کی جنگ
- موجودہ حالات (سعودی عرب کا تناظر):
- سعودی عرب اس وقت ایک اہم سیاسی اور معاشی موڑ پر ہے۔ موجودہ شاہی نظام میں ولی عہد محمد بن سلمان تمام طاقتور اختیارات رکھتے ہیں۔
- تاہم، اگر مستقبل میں کوئی بڑا سیاسی خلا یا یکایک اقتدار کی تبدیلی کا بحران پیدا ہوتا ہے، تو آلِ سعود کے مختلف دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش ناممکن نہیں ہے۔ تاریخ میں بھی شاہی خاندانوں کے اندر اقتدار پر اختلافات ہوئے ہیں۔
- روایت میں ذکر کردہ "تین خلفاء/حکمرانوں کے بیٹے" کا اشارہ سعودی عرب یا خطے کی شاہی طاقتوں کے شہزادوں یا متوازی اقتدار کے دعویداروں کے درمیان شدید جنگ و جدل کی طرف ہو سکتا ہے۔
(b) زمین کا ظلم و جور سے بھر جانا
- موجودہ حالات (عالمی و علاقائی تناظر):
- مشرق وسطیٰ: فلسطین (غزہ)، شام، یمن اور لبنان کے حالات اس وقت شدید ظلم، جنگ اور ناانصافی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
- باقی دنیا: معاشی ناانصافی، جنگیں، انسانی حقوق کی پامالی اور اخلاقی تنزلی اپنے عروج پر ہے۔ عالم اسلام ایک ایسے عالمی نظام کے نیچے دب چکا ہے جہاں کمزور کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
(d) متقی اور حکمت و دانش سے لبریز ہونا
- موجودہ حالات: آج دنیا کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشی نظام کے باوجود اخلاقی و روحانی قیادت کا شدید بحران پیش ہے۔ ایک ایسا رہنما جو محض جذباتی نہ ہو بلکہ علمِ شریعت کے ساتھ ساتھ حکمت اور بصیرت رکھتا ہو، اس بکھری ہوئی امت کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
6. مکہ مکرمہ میں ظہور (حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان بیعت)
- موجودہ حالات:
- حرم مکی کا نظام: آج کا مکہ اور حرم الشریف اعلیٰ ترین سیکیورٹی، کیمروں اور سخت نگرانی کے تحت ہے۔ وہاں کسی بھی قسم کا بڑا اجتماع یا غیر معمولی واقعہ فوراً عالمی میڈیا اور سیکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔
- ممکنہ تحرک: احادیث کے مطابق جب مدینہ یا مکہ میں بدامنی اور خوف کی فضا بنے گی، تو لوگ حرم میں پناہ لیں گے۔ سیکیورٹی اور عالمی دباؤ کے باوجود مسلمانوں کا ایک طبقہ حرم کی مقدس ترین جگہ (حجر اسود اور مقامِ ابراہیم) کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔
وسطی ایشیا (Central Asia) اور دیگر خطوں کا اہم کردار
اگرچہ امام مہدی کا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوگا، لیکن احادیث میں ان کے مددگاروں اور لشکروں کا ذکر مشرق (East) اور خراسان سے ملتا ہے:
1. خراسان اور وسطی ایشیا کی جیو پولیٹیکل اہمیت
- خراسان: تاریخی طور پر خراسان کا علاقہ موجودہ افغانستان، ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔
- سیاسی و فوجی بدلاؤ: اس وقت افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں عسکری اور سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے میں اسلامی تحرکات اور طاقت کا توازن بدلا ہے۔
- سیاہ پرچموں (Black Banners) کی روایات: روایات میں آتا ہے کہ مشرق/خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں والے لشکر اٹھیں گے جو امام مہدی کی مدد کے لیے عرب کی طرف پیش قدمی کریں گے۔
2. عرب اور عجم کا جوڑ
- عرب خطہ (سعودی عرب وغیرہ) سیاسی اور اندرونی انتشار کا شکار ہوگا، جبکہ وسطی ایشیا/خراسان کا خطہ سخت کوش اور جنگ جو لوگوں کی صورت میں ان کی سیکیورٹی اور عسکری قوت بنے گا۔
خلاصہ (Summary)
اگر موجودہ حالات کی کڑیاں جوڑی جائیں تو:
- سعودی عرب میں شاہی اقتدار کی ممکنہ کشمکش اور سیاسی عدم استحکام۔
- مشرقِ وسطیٰ میں ظلم و بربریت کی انتہا اور مسلمانوں کی بے بسی۔
- وسطی ایشیا (خراسان) میں طاقتور عسکری و مذہبی تحرکات کا ابھرنا۔
یہ تمام عوامل ان حالات سے مطابقت رکھتے ہیں جو امام مہدی کے ظہور کے لیے احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم، بطور مسلمان کسی خاص شخص یا تاریخ کا تعین کیے بغیر ان پیشین گوئیوں کی حقیقت پر ایمان رکھنا اور دورِ حاضر کے الفتن (آزمائشوں) سے خود کو بچانا ضروری ہے۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔