ظلمت و گمراہی کے دور میں، توبۃ النصوح کی اہمیت اور امام مہدی کی آمد (حصہ دوم) میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جب دنیا فتنوں، گمراہیوں اور ظلم کی اندھیریوں میں ڈوبی ہو گی، تو اس وقت بھی توبہ کے دروازے کھلے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے رحمت اور مغفرت کے مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ وہ گناہوں سے توبہ کر کے راہ راست پر واپس آ سکیں۔ توبۃ النصوح یعنی خالص توبہ، ایسی توبہ ہے جس میں انسان اپنے گناہوں پر حقیقی ندامت کا اظہار کرتا ہے اور عزم کرتا ہے کہ آئندہ ان گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے گا۔ جب امام مہدی کی آمد ہو گی، تو وہ ظلم و ستم کی اس دنیا میں حق کا بول بالا کریں گے اور انسانیت کو دوبارہ انصاف، امن، اور ہدایت کی روشنی فراہم کریں گے۔ ان کی قیادت میں دنیا میں امن و امان کا دور شروع ہو گا اور مسلمان دوبارہ اپنے دین کی طرف راغب ہوں گے۔ اس دور میں توبۃ النصوح کرنے والے لوگ اللہ کے قریب ہوں گے اور امام مہدی کی قیادت میں دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو گا۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "مہدی مجھ سے ہو گا"۔ یعنی میری نسل سے ہو گا۔ یہ تو اس کا نسب ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی جسمانی صفات بیان فرمایا: "وہ چوڑی پیشانی اور لمبی ناک والا ہو گا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔ اس کی حکومت سات برس کرے گی۔"
یعنی اس کے سر کے اگلے حصے کے بال کم ہوں گے یا اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس کی پیشانی کشادہ ہو گی۔ اس کا نام نبی کریم ﷺ کے نام کی طرح ہو گا اور اس کے والد کا نام نبی کریم ﷺ کے والد کے نام کی طرح ہو گا۔ یعنی اس کا نام محمد بن عبداللہ ہو گا اور وہ نبی کریم ﷺ کے آلِ بیت میں سے ہوں گے (حضرت حسن بن علی کی نسل سے ہوں گے)۔
حضرت حسن نے اپنے والد گرامی سیدنا حضرت علی کی شہادت کے بعد حکومت سنبھالی تھی۔ لہذا اس وقت کے حالات میں مسلمانوں کے دو خلیفہ بن گئے تھے۔ عراق و حجاز وغیرہ میں حضرت حسن بن علی اور شام اور اس کے قریب و جوار میں حضرت امیر معاویہ۔ چھ ماہ کی حکمرانی کے بعد سیدنا حسن بن علی نے بغیر کسی دنیوی معاوضے کے محض اللہ رب العزت کی رضا کی خاطر حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور سیدنا امیر معاویہ کے حق میں دست بردار ہو گئے تاکہ مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد پیدا ہو جائے، ان سب کا حکمران ایک ہی شخص ہو اور ان کے درمیان خونریزی نہ ہو۔ اللہ رب العزت نے ان کے اس عمل میں برکت ڈالی اور انھیں اس کا اچھا بدلہ دیا۔ جو کوئی بھی اللہ رب العزت کی خاطر کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ رب العزت اس کو یا اس کی اولاد کو اس سے افضل چیز عطا کر دیتا ہے۔
امام مہدی سات برس تک مسلمانوں کے حکمران رہیں گے اور وہ اس دوران زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح کہ وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی۔
ان کے عہد میں امت بہت خوشحال ہو گی۔ زمین اپنی پیداوار بڑھا دے گی۔ آسمان سے خوب بارشیں ہوں گی اور وہ لوگوں کو گنے بغیر مال دیں گے۔
جیسے کہ ایک میں بیان فرمایا گیا: "میری امت کے آخری زمانے میں مہدی کا ظہور ہو گا۔ اللہ رب العزت اس کے دور میں خوب بارشیں برسائے گا۔ زمین خوب اپنی پیداوار نکالے گی۔ وہ لوگوں میں برابری کی بنیاد پر مال تقسیم کرے گا۔ مال مویشی کی کثرت ہو جائے گی اور امت اسلام عظیم امت بن جائے گی۔ وہ سات یا آٹھ برس زندہ رہے گا۔"
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "پھر اس کے چلے جانے کے بعد زندگی میں کوئی خیر و بھلائی نہ رہے گی۔" روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کی وفات کے بعد ایک بار پھر شر و فساد اور عظیم ترین فتنے سر اٹھا لیں گے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "پھر اس کے چلے جانے کے بعد زندگی میں کوئی خیر و بھلائی نہ رہے گی۔" اس حدیث سے مراد امام مہدی علیہ السلام کی وفات کے بعد کا دور ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب امام مہدی اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بعد دنیا میں پھر سے شر و فساد کا دور شروع ہو گا۔ امام مہدی کے زمانے میں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو گا، دنیا بھر میں امن و امان کی فضا قائم ہو گی، اور لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل پیرا ہوں گے۔ مگر جب امام مہدی کا وقت ختم ہو گا اور وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں گے، تو شیطان اور اس کے پیروکار ایک بار پھر سے اپنے فتنوں اور گمراہیوں کے جال بچھا دیں گے۔
امام مہدی کی وفات کے بعد لوگوں کے دلوں سے ایمان کی روشنی مدھم پڑنے لگے گی، اور دنیا ایک بار پھر ظلمت و گمراہی کی تاریکی میں ڈوب جائے گی۔ شر و فساد کے عظیم ترین فتنے سر اٹھا لیں گے، اور لوگ دنیا کی چکا چوند میں کھو جائیں گے۔ اس دور میں فتنہ و فساد کی شدت اتنی ہو گی کہ عام انسان کے لیے حق اور باطل میں تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا۔
لوگ دین سے دور ہو جائیں گے، اور شیطان کے وسوسے ان پر غالب آ جائیں گے۔ امام مہدی کے زمانے میں جو خیر و بھلائی دنیا میں تھی، وہ ان کے جانے کے بعد ناپید ہو جائے گی۔ یہ وہ دور ہو گا جب دنیا آخری مراحل میں ہو گی اور قیامت کی نشانیاں واضح طور پر ظاہر ہونے لگیں گی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان کمزور ہو جائے گا، اور دنیا فتنوں اور مصائب میں مبتلا ہو جائے گی۔ یہ وہ وقت ہو گا جب ایک بار پھر دنیا کو حقیقی ہدایت اور روشنی کی ضرورت ہو گی، جو صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔