تعارف

محترم قارئین کرام! آپ ﷺ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کی راہنمائی فرمائی۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اتنے خوبصورت انداز سے بیان فرمائی کہ ان پڑھ انسان بھی اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹکتے چلے جارہے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی قیامت کی ایک ایک نشانی اپنے وقت مقررہ پہ پوری ہوتی جارہی ہے اور ہم غفلت میں سوئے ہوئے ہیں۔

آپ ﷺ نے قیامت کی بے شمار نشانیاں بیان فرمائیں ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک "زمانے کا قریب ہوجانا" ہے۔

فرمان نبوی ﷺ

"زمانہ قریب ہو جائے گا۔ عمل کم ہو جائے گا۔ فتنے ظاہر ہوں گے۔ بخل و حرص کا دوردورہ ہوگا، ھرج بہت زیادہ ہو جائے گا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ھرج کیا چیز ہے؟ فرمایا: قتل وخونریزی"۔
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک زمانہ قریب نہ ہو جائے۔ اس وقت سال ایک ماہ کے برابر ہوگا مہینہ جمعہ کے برابر، جمعہ دن کے برابر اور دن ایک ساعت کے برابر ہوگا اور ساعت ایسے ہوگی جیسے آگ کا شعلہ لپک کر بجھ جاتا ہے۔"

اہل علم کے اقوال

علماء کرام نے زمانے کے قریب ہو جانے کے بارے میں مختلف آراء بیان کی ہیں۔ ان میں سے پانچ اہم آراء درج ذیل ہیں:

I. وقت میں برکت کا ختم ہونا

زمانے کے قریب ہو جانے سے مراد اس دور میں برکت کا کم ہونا یا ختم ہو جانا ہے۔ اس سے مراد جیسے پہلے دور کے لوگ جو کام وہ ایک گھنٹے میں کر لیتے تھے بعد کے دور والے لوگ وہ کام کئی گھنٹوں میں بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکیں گے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزار دیتے ہیں مگر کوئی مفید کام نہیں کر پاتے۔ یہ وقت میں برکت کے ختم ہونے کی علامت ہے۔

II. انسان کی عمر کا کم ہو جانا

زمانے کے قریب ہو جانے سے مراد انسان کی عمر کا کم ہو جانا ہے، یعنی گزرے دور کے لوگوں کی عمریں طویل ہو ا کرتی تھیں جبکہ آج کے دور کے لوگ یا مزید آنے والے دور کے لوگوں کی عمریں انتہائی کم ہوگی۔

III. حافظ ابن حجر کا قول

اسی طرح حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ صورت حال ہمارے زمانے میں واقع ہو چکی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات ایسی تیزی سے گزر رہے ہیں کہ پہلے زمانے میں اس طرح نہیں تھا۔

"ہم دیکھتے ہیں کہ وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے جیسے کبھی نہیں گزرا تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے دن رات چھوٹے ہو گئے ہوں۔"

IV. جدید ٹیکنالوجی اور قربت

زمانے کے قریب ہو جانے سے مراد ہے کہ موجودہ دور یا مزید آنے والے دور اس قدر تیز ترین اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین ذرائع ابلاغ اور زمین و فضائی سواریوں کی کثرت کے باعث ایک دوسرے سے قریب ہو جائیں گے۔

انٹرنیٹ، موبائل فونز، اور تیز رفتار سواریوں نے دنیا کو ایک چھوٹا سا گاؤں بنا دیا ہے۔ لوگ ایک براعظم سے دوسرے براعظم چند گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

V. دنوں کی طوالت میں تغیر

اس فرمان کے مطابق زمانہ حقیقی طور پر بہت تیزی سے گزرے گا اور ایسا آخری زمانے میں ہوگا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ دنوں کو جس طرح چاہتا ہے چھوٹا بڑا اور رات دن کو جس طرح چاہتا ہے الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ اس کی تائید اس فرمان سے بھی ہوتی ہے جس میں دجال کے زمانے کے ایام کی طوالت کی خبر دی گئی ہے کہ ان میں سے ایک دن سال کے برابر، دوسرا مہینے کے برابر اور تیسرا ہفتے کے برابر ہو جائے گا۔ دن جس طرح لمبے ہوں گے اسی طرح چھوٹے بھی ہوں گے۔ مگر یہ علامت تاحال ظاہر نہیں ہوئی ہے۔

اختتامیہ

دوستو! یہ فرمان ایک اٹل حقیقت ہے نوعیت کوئی بھی ہو سکتی ہے لیکن نبوت والی زبان سے نکلے یہ الفاظ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں ذرہ برابر بھی گنجائش موجود نہیں۔ یہ ہر حال میں ہو کر رہنا ہے چاہے آج ہو یا آنے والے دنوں سالوں میں ہو۔

اگر ہم خواب غفلت سے بیدار ہوکر دیکھیں تو آج کا وقت بھی تیزی سے گزر رہا ہے یہ اور بات ہے کہ ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے ہیں اور اپنے کام کاج میں اس قدر مصروف عمل ہیں کہ گویا حقیقت کو جانتے ہوئے بھی سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ عمر کا کم ہونا، حالات ساز گار نہ ہونا، چیزوں میں برکت کا نہ ہونا، یہ سب ہمارے سامنے ہورہا ہے اور ہماری زندگی بجائے دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں گزر رہا ہے۔

اگر ہم آج کے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اس فرمان کو دیکھیں تب بھی یہ بات بالکل واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ سروسز، تیزرفتار سواریاں یہ سب ہمارے رابطے قریب اور تیز تر کرتے چلے جارہے ہیں۔

اس آرٹیکل لکھنے کا مقصد آج کی نوجوان نسل تک حق بات پہنچانا ہے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل حقیقی علم سے بہت دور ہے۔ دیکھا دیکھی میں ہر وہ کام کرتے چلے جارہے ہیں کہ جس کی ہمارے دین میں شدید ممانعت ہے۔ ہمیں شاید گناہ گناہ لگتا ہی نہیں ہے اس لئے ہم یہ کام ثواب سمجھ کر رہے ہیں اور جوں جوں گمراہی کے دلدلی اندھیروں میں گرتے چلے جارہے ہیں۔

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ جتنی زندگی باقی ہے ایمان پر ہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر گزرے۔ قرآن و حدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed
بلاگ لوورز کا بانی اور ایک پرجوش اسلامی مواد نگار۔ دینی تعلیمات کو آسان اور جدید انداز میں پیش کرنا میرا مشن ہے۔