تعارف

قارئین کرام! جس دین میں بوڑھے والدین کے سامنے اُف تک کرنے کو منع کیا گیا ہو، جہاں خون کے بدلے خون، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت کا انصاف ہو، جس دین میں قریبی رشتہ داروں سے زیادہ قریبی ہمسایوں کی اہمیت بتائی جائے، جہاں ظلم کو گناہ سمجھا جائے، جہاں ایک فاحشہ عورت کا محض کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت حاصل کر لینا اور وہیں ایک بلی کو باندھنے کے عوض دوزخ میں ڈال دینا، قربان جائیں ایسے دین پر جہاں پائی پائی کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور جس نے جو کمایا اس کو اس کے اعمال کا بدلہ ویسے ہی لوٹایا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ظلم کو پسند نہیں فرماتا اور ظالموں کو سخت سزا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔

دین اسلام اور انصاف

دین اسلام نے انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تم انصاف کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دو، چاہے تمہارا گواہی اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہو۔" (سورۃ النساء: 135)

اسلام نے ظلم کو ہر حال میں حرام قرار دیا ہے، چاہے ظلم کسی مسلمان پر ہو یا غیر مسلم پر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ظلم قیامت کے دن ظلمات (اندھیرے) ہوں گے۔" (بخاری و مسلم)

قیامت کی نشانی

آپ ﷺ نے اپنی امت کو قیامت کی بہت ساری نشانیاں بتلائی ہیں اور ان سے قدم قدم بچنے کی تعلیم بھی فرمائی۔ ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی "لوگوں پر کثرت سے ظلم وستم کرنے والے ظالم و جابر حکمرانوں کا ظہور" ہے۔

جس میں ایسے لوگوں کے گروہ کا ذکر فرمایا گیا ہے جن پر اللہ کی شدید ترین ناراضگی ہوگی وہ لوگ اللہ کے غضب سے نہیں بچ سکیں گے۔ ایسے لوگ جو بے گناہ لوگوں پر ظلم و ستم کی انتہا کریں گے اور وہ گروہ جہنم کی آگ کا ایندھن ہونگے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "جب میرے بعد خلافت ختم ہو جائے گی تو پھر حکمران ظالم ہوں گے، عوام پر ظلم کریں گے اور انصاف غائب ہو جائے گا۔"

ظالم حکمرانوں کا ظہور

اب یہ بات اللہ کی ذات بہتر جانتی ہے کہ وہ لوگ حکمرانوں میں سے ہو نگے جو اپنی رعایا پر شدید ترین ظلم ڈھائیں گے، یا ایک جماعت یا گروہ غالب آئیں گے وہ ظلم وستم ڈھائیں گے اور لوگوں کی حق تلفی پر وقت حکمران بھی ان کا ساتھ دیں گے۔

ظالم حکمران اپنے ظلم کے نتیجے میں نہ صرف دنیا میں رسوا ہوں گے بلکہ آخرت میں بھی انہیں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر تمھاری عمر نے وفا کی تو بہت ممکن ہے کہ تم ایک ایسی قوم دیکھو! جو اللہ کی ناراضی کے عالم میں صبح کرے گی اور اس کی لعنت کی حالت میں شام کرے گی۔ ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے۔"

پولیس کا گروہ

علماء کرام کے نزدیک یہ گروہ پولیس کا گروہ ہو سکتا ہے جو بے گناہ لوگوں پر ظلم وستم کرتے ہیں، ابھی تک موجودہ حالات کے پیشِ نظر تو انہی لوگوں کی طرف اشارہ جاتا ہے۔ بعد کے حالات کا اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ یہی وہ گروہ ہے جس کا ذکر حدیث میں بیان کیا گیا ہے یا کوئی اور گروہ وجود میں آئے گا۔

اس حدیث کے مطابق دو گروہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے: ایک وہ جو عورتوں کے بارے میں ہے کہ وہ لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی اور وہ جہنمی ہیں اور دوسرا گروہ لوگوں پر کوڑے برسائے گا، یہ بھی جہنمی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا "آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے پاس گایوں کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے۔ یہ (ظالم) اللہ کی ناراضی کی حالت میں صبح کریں گے اور اس کے غضب کی حالت میں ہی شام کریں گے۔"

ائمہ کرام کی آرا

ائمہ کرام نے ظلم و ستم کو ہمیشہ برا قرار دیا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "احیاء علوم الدین" میں فرمایا:

"ظلم کرنے والا شخص نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ پوری معاشرت کو تباہ کرتا ہے۔ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔"

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ظالم حکمران اور اس کے کارندے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوگا۔ ان کا انجام جہنم ہے، چاہے وہ دنیا میں کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔"

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"جو شخص ظلم کرتا ہے وہ اللہ کی پناہ سے باہر ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔"

ظلم کی مختلف شکلیں

دوستو! ظلم و زیادتی صرف مارنے کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ ہر وہ طریقہ جس میں بے گناہ لوگوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے، خواہ وہ کسی کا حق مارنے، کسی کو زیادتی کا نشانہ بنانے، بے روزگاری، مہنگائی کی اذیت سے دوچار کرنا، غبن کرنا، بہتان لگانا وغیرہ وغیرہ۔

  • رشوت و سفارش: انصاف لینے کے لیے رشوت اور سفارش کے بغیر آپ کی بات ہی نہیں سنی جاتی
  • جھوٹے مقدمات: بے گناہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا
  • مال کا غبن: عوام کے مال کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنا
  • ذہنی و جسمانی اذیت: لوگوں کو طرح طرح کی تکالیف دینا
ارشاد نبوی ﷺ "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے دوسرا محفوظ رہے"۔ ہمیں بھی اپنے اردگرد دیکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاتھوں سے کسی دوسرے کو تکلیف تو نہیں ہو رہی۔

اختتامیہ

کہیں جانے انجانے میں زیادتی کے عوض ہم بھی ظلم وزیادتی کرنے والے اس گروہ میں تو شامل نہیں ہو رہے۔ کہیں ہم بھی دوسروں کی بددعاؤں کا شکار تو نہیں ہو رہے، کسی سے رشوت لیتے ہوئے ہم بھی اس کا حصہ تو نہیں بن رہے، اپنے فائدوں کے حصول کے لیے ہم کسی مسلمان بھائی کا گلہ تو نہیں کاٹ رہے۔

یاد رہے ایسے میں ہم ان کے تو گنہگار ہیں ہیں لیکن ساتھ ساتھ اللہ کے غصے اور غضب کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ آمین

اللہ ہم سب کو ظلم سے بچنے اور انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed
بلاگ لوورز کا بانی اور ایک پرجوش اسلامی مواد نگار۔ دینی تعلیمات کو آسان اور جدید انداز میں پیش کرنا میرا مشن ہے۔