تعارف
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، وہیں ٹک ٹاک اور ریلس جیسے شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز نے نوجوان نسل کی توجہ کا مرکز بن کر ابھرے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز تفریح، معلومات اور اظہار رائے کا ایک نیا ذریعہ بن چکے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے معاشرتی اور اخلاقی اثرات پر بھی بحث جاری ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے "زمانہ قریب ہو جانا" کا تصور قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے ایک ہے، جو وقت کی تیزی سے گزر جانے اور معاشرتی انحطاط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ جدید ڈیجیٹل رجحانات، خاص طور پر ان کا منفی استعمال، اسلامی تعلیمات میں بیان کردہ "زمانہ قریب ہو جانا" کی ایک جدید تفسیر پیش کر رہے ہیں؟ آئیے اس پر گہرائی سے غور کرتے ہیں۔
زمانہ قریب ہو جانا اور ڈیجیٹل دور
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک وقت قریب نہ ہو جائے، یعنی ایک سال ایک مہینے کی مانند، اور ایک مہینہ ایک جمعہ کی مانند، اور ایک جمعہ ایک دن کی مانند، اور ایک دن ایک گھنٹے کی مانند، اور ایک گھنٹہ آگ کے شعلے کی مانند ہو جائے گا۔" (ترمذی)
اس حدیث میں "زمانہ قریب ہو جانا" سے مراد وقت کی برکت کا ختم ہونا اور اس کی تیزی سے گزر جانا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں یہ تصور ایک نئی جہت اختیار کر گیا ہے۔ ٹک ٹاک اور ریلس جیسے پلیٹ فارمز پر لوگ گھنٹوں اسکرول کرتے رہتے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وقت کتنا گزر گیا۔ یہ وقت کا ضیاع ہے جو "زمانہ قریب ہو جانے" کی جدید تفسیر ہو سکتا ہے۔
چھوٹی قیامت کی نشانیاں اور موجودہ دور
احادیث نبوی ﷺ میں چھوٹی قیامت کی کئی نشانیاں بیان کی گئی ہیں، جن میں وقت میں برکت کا ختم ہونا، علم کا اٹھ جانا، جہالت کا عام ہونا، فواحش کا پھیلنا، اور امانت کا اٹھ جانا شامل ہے۔
اگر ہم ٹک ٹاک اور ریلس کے موجودہ استعمال کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ کس طرح ان پلیٹ فارمز کے ذریعے وقت کا بے تحاشا ضیاع ہو رہا ہے۔ نوجوان کئی گھنٹے ان ویڈیوز کو اسکرول کرتے گزار دیتے ہیں، جو انہیں تعلیمی یا مفید سرگرمیوں سے دور کر دیتا ہے۔ سطحی معلومات کی فراوانی اور گہرائی سے سوچ و بچار کا فقدان بھی علم کے اٹھ جانے کی ایک صورت ہے۔
- وقت کا ضیاع: اوسطاً ایک شخص روزانہ 2-3 گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتا ہے
- سطحی معلومات: گہرائی سے مطالعہ کی بجائے مختصر ویڈیوز پر انحصار
- فواحش کا پھیلنا: غیر اخلاقی مواد کی بہتات
- امانت کا خاتمہ: جھوٹی خبروں اور فیک نیوز کا پھیلاؤ
فواحش کا پھیلنا اور ڈیجیٹل میڈیا
ان پلیٹ فارمز پر فواحش، بیہودگی، اور غیر اخلاقی مواد کا پرچار اس قدر عام ہو چکا ہے کہ یہ معاشرتی اقدار کو تیزی سے پامال کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں فواحش اس قدر عام ہو جائیں گے کہ لوگ انہیں کھلے عام کریں گے اور ان پر فخر کریں گے۔"
ٹک ٹاک اور ریلس پر بے شمار ویڈیوز ایسی ہیں جو شرم و حیا کو ختم کر رہی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اپنی پرائیویسی کو نظر انداز کر کے عوام میں اپنی ذات کو ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ "شہرت" اور "ویوز" حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
فقہی مکاتب فکر کا تناظر
اسلامی فقہ میں لہو ولعب، فواحش اور وقت کے صحیح استعمال پر واضح تعلیمات موجود ہیں۔ ائمہ اربعہ، یعنی امام شافعی، امام مالکی، امام حنبلی، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ نے اپنی فقہی آراء میں ان چیزوں کی ممانعت کی ہے جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کریں، معاشرتی بگاڑ کا باعث بنیں یا اس کے وقت کا ضیاع کریں۔
اگرچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ان کے دور میں موجود نہیں تھے، لیکن ان کے وضع کردہ اصول اور اجتہاد کے طریقے ہمیں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں ہم ٹک ٹاک اور ریلس کے استعمال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
ائمہ کرام کی آرا
ائمہ کرام نے ہمیشہ مسلمانوں کو وقت کے ضیاع سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "احیاء علوم الدین" میں فرمایا:
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات وقت کے صحیح استعمال پر زور دیتی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا حد سے زیادہ استعمال اس اصول کے خلاف ہے۔
معاشرتی حالت اور اخلاقی گراوٹ
ٹک ٹاک اور ریلس نے ہماری معاشرتی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز نے عریانیت اور بے حیائی کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ اب شرم و حیا جیسی بنیادی اسلامی اقدار اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہیں۔ نامحرموں کے درمیان بے تکلفی، جسمانی نمائش، اور سستی شہرت کی ہوس نے معاشرتی تعلقات کو کمزور کیا ہے۔
معاشرے میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے جسے "انفلوئنسر کلچر" کہا جاتا ہے۔ نوجوان ان لوگوں کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے ہیں جو سوشل میڈیا پر زیادہ فالوورز اور ویوز رکھتے ہیں، چاہے ان کا مواد کتنا ہی غیر اخلاقی کیوں نہ ہو۔
نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت
اس صورتحال میں والدین اور اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے منفی اثرات سے آگاہ کریں اور انہیں یہ سکھائیں کہ کس طرح ان پلیٹ فارمز کو ذمہ داری سے استعمال کیا جائے۔
- والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی سوشل میڈیا کا متوازن استعمال کریں
- بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈیجیٹل اخلاق سکھائیں
- سکرین ٹائم کی حد مقرر کریں
- مفید اور تعلیمی مواد کی طرف رہنمائی کریں
اسلامی ذمہ داریاں اور توازن
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا مثبت استعمال کریں۔ ان پلیٹ فارمز کو دعوت دین، علم کے فروغ، نیکی کی ترغیب، اور معاشرتی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کیا ٹک ٹاک اور ریلس واقعی "زمانہ قریب ہو جانا" کی عکاسی کر رہے ہیں؟ اس کا جواب شاید یہ ہے کہ یہ پلیٹ فارمز بذات خود برے نہیں، بلکہ ان کا غلط استعمال ہی ان کو اس مقام تک لے جاتا ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوشمندی کا مظاہرہ کریں، اپنی اسلامی اقدار پر سختی سے قائم رہیں۔
اختتامیہ
ٹک ٹاک اور ریلس جیسے پلیٹ فارمز نے ہماری زندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز اگر صحیح استعمال کیے جائیں تو مفید ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال معاشرتی اور اخلاقی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔
اسلامی تعلیمات ہمیں وقت کے صحیح استعمال، شرم و حیا، اور معاشرتی اقدار کی اہمیت سکھاتی ہیں۔ ائمہ کرام اور فقہی مکاتب فکر کی تعلیمات ہمیں اس بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ کس طرح ہم ڈیجیٹل دور میں اسلامی اقدار کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔