تعارف
دوستو! اکثر بینرز آویزاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں محفل حسن قرآت قرآن، اور پھر انعامات سے نوازا جانا، تمغوں سے نوازنا، بھاری رقوم کی ادائیگی سے نوازنا وغیرہ۔ یوں تو قرآن مجید کی تلاوت دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے پڑھنا ہے۔ انسان جتنا تلاوت کرتا ہے اس کی نیکیوں میں اس قدر اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔ دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی۔
لیکن اگر دین کے کسی کام میں بھی خواہ وہ نماز، زکوۃ، حج، روزہ، تلاوت قرآن یا کسی کی مدد کرنا بھی مقصود ہو تو اس عمل سے ریاکاری، سستی شہرت کا حاصل کرنا، یا محض دولت کا حصول ممکن ہوتو وہ عمل بربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
ریاکاری کی مذمت
بالکل اسی طرح قرآن کی تلاوت بھی اگر اسی طرح کی جائے کہ جس میں صرف اور صرف ریاکاری، شہرت کا حصول اور پھر منہ مانگی اجرت کا طلب کرنا، محض دنیا داری ہے آخرت میں ان کا حصہ نہیں ہے۔
یوں تو قرآن مجید کی تلاوت و قرآت عبادت اور قربت الہی کا ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ عبادات دنیا طلبی کے لئے نہ کی جائیں۔ بلکہ یہ تو خالصتا آخرت کی کامیابی اور اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لئے ہونی چاہیں۔
قیامت کی نشانی
آج ہمارے اردگرد کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ لوگ مجالس میں، ختم قرآن مجید، جنات کو بھگانے کے لئے، روزی روٹی کے دم کرنا، چالیسواں، قل خوانی، جمعرات، پندرھویں، اور دیگر رسومات کی ادائیگی کی خاطر لوگوں کو بلوا کر یہ کام کرواتے ہیں اور اس کام کے عوض بھاری رقوم دی جاتی ہیں۔
اور تلاوت کرنے والا اس نیت سے تلاوت کرتا ہے کہ مال و زر زیادہ سے زیادہ اکٹھا ہو سکے تو سوچیے! اس عمل میں کتنی افادیت ہو گی۔ جس کا مقصد ثواب نہیں بلکہ دنیا داری ہوگی۔
صحابہ کے اقوال
یہ لوگ قرآن کا معاوضہ فوری طور پر لینا چاہیں گے اور آخرت تک صبر اور انتظار نہیں کریں گے۔
قرآن کا حلق سے نہ اترنا
ایسے لوگوں کے لئے ہی اوپر دی گئی احادیث میں زبردست پیشن گوئی فرمائی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کے حلق سے قرآن نیچے نہیں اتر پائے گا۔ کیونکہ مقصد دنیا داری کمانا مقصود ہوگا۔
ہائے افسوس! دن رات محنت کرکے قرآن حفظ کیا لیکن وہ قرآن سینے میں محفوظ تو ہوگیا لیکن اس پر اثر انداز نہ ہوسکا۔ قرآن کے پڑھنے کا علم تو حاصل کر لیا لیکن عمل سے عاری ہوگیا۔ وہ قرآن کا پڑھنا، حلق سے نیچے نہ اترنا، دل پر اثر نہ کرنا، محض تکلیف کا باعث ہے۔
اختتامیہ
قرآن کا پڑھنا، قرآن کا سننا، قرآن کا پڑھانا، سراپا شفا ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کے لئے محض دنیا داری ہی سب کچھ ہوگا، آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور ہم سب کے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما دے۔ آمین