دوستو! اُمت کی بھلائی کے لئے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی آپ ﷺ نے ہم تک پہنچائی تاکہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک نہ جائیں اور دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ قیامت کی بہت سی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بتلائی کہ ایک وقت آئے گا جس میں طاقتور ایک کمزور کو کھا جائے گا۔

ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ایک روز میرے پاس تشریف لائے تو آپ یہ فرما رہے تھے: "اے عائشہ! میرے دنیا سے جانے کے بعد امت میں سب سے پہلے مجھے تمھاری قوم (یعنی عرب لوگ) ملے گی۔" حضرت عائشہ کہتی ہیں "جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا 'میں آپ پر قربان! جب آپ اندر داخل ہوئے تو آپ ایک ایسی بات فرمارہے تھے جس نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔'"

آپ ﷺ نے فرمایا "میں کیا کہہ رہا تھا؟" میں نے عرض کی: "آپ فرما رہے تھے: تمھاری قوم کے لوگ میرے بعد جلد ہی مجھ سے آ ملیں گے۔" آپ ﷺ نے فرمایا "ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔" میں نے کہا: "یہ کیسے ہوگا؟" پھر فرمایا "موت انھیں اپنے لئے ایک مرغوب اور میٹھی چیز سمجھے گی۔ اور امت کے لوگ ان سے حسد کریں گے۔" میں نے پوچھا "پھر اس وقت یا اس کے بعد لوگوں کا حال کیا ہوگا؟" فرمایا "وہ بغیر پروں والی ٹڈی کی طرح ہوں گے۔ طاقتور کمزور کو کھا جائے گا یہاں تک کہ ان پر قیامت قائم ہو جائے گی۔"

اس حدیث میں واضح اشارہ ہے کہ قرب قیامت ظلم اور شر اس قدر پھیل چکا ہو گا کہ طاقتور کمزور کو کھا جائے گا یعنی موت ان پر اس طرح ٹوٹ پڑے گی جس طرح کوئی مٹھائی پر ٹوٹ پڑتا ہے۔

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔۔۔ آمین