زنا کی حرمت
دوستو! زنا ایک بدترین اور بھیانک جرم ہے، جو کہ دنیا کہ تمام مذاہب میں بُرا سمجھا جاتا ہے۔ دین اسلام میں اس گناہ کبیرہ پر سب سے سخت پابندی عائد کی ہے۔ جس قدر یہ سنگین جرم ہے اسی قدر اس کی سزا بھی نافذ کی گئی ہے۔ جس کو سن کو یا دیکھ یا محض تصور کر کے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یوں تو جہاں ایک شادی شدہ زانی کی سزا پتھروں سے مار مار کر ہلاک کر دینا مقرر کیا گیا ہے۔
معاشرے میں زنا کا پھیلاؤ
وہیں ایک غیر شادی شدہ زانی کے لئے کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اگر یہ پوری طرح سے رائج ہوتا تو آج ہماری بہن، بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہوتیں۔ لیکن چونکہ سزاؤں میں نرمی کا رویہ رکھا گیا جس کی وجہ سے ہر انسان نے کوشش کی کہ کسی طرح موقع ملے اور وہ اس گناہ لذت سے فائدہ اٹھا لے۔
ہم نے درست طریقے سے اپنی نسلوں تک تعلیمات اسلامی نہیں پہنچائیں جس کی وجہ سے آج کی نوجوان نسل اس گناہ کے بارے میں بالکل نہیں جانتی، کبھی وہ ویلنٹائن کے نام سے منسوب کرتے ہیں، کبھی وہ موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے منسوب کرتے ہیں، کبھی آزاد خیالی کے نام سے، کبھی حقوق نسواں کے نام سے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم صحیح پرورش نہیں کر پا رہے۔
زنا کے اثرات
یہ برائی اتنی تیزی سے پھیل چکی ہے ہمارے معاشرے میں کہ آج نہ ہماری معصوم بچیاں محفوظ ہیں اور نہ ہی معصوم بچے۔ کیونکہ زنا شرفاء اور عزت دار لوگوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ گھٹیا، ذلیل لوگوں کی شناخت ہے۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا"۔
نبوی پیشنگوئیاں
یہ ایک ایسا مہلک مرض ہے جس سے ہمارے نوجوان عشق و معاشقہ کی گندی لت اور بُری روش کا شکار ہو چکے ہیں۔ شب و روز بے حیائی کے کاموں میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
ضرورت ہے کہ زنا سے ہر ممکن بچا جا سکے تاکہ خواتین کی عزت کی حفاظت ہو سکے۔ گویا نسل کی حفاظت ہو سکے۔ کبیرہ گناہوں میں سے مثلاً شرک، قتل کے بعد زنا کا نام لیا جاتا ہے۔
زنا کی وجوہات
اس وقت پوری دنیا اس گناہ کی لپیٹ میں ہے۔ زنا کرنے والوں کی کثرت ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ نیک اور صالح لوگ کم کم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض ممالک نے تو زنا کو باقاعدہ لیگل قرار دیا ہے۔
زنا ایک مجرمانہ کردار کی شناخت کا نام ہے، یہ ایک ایسا ادھا ہے جو لیتا بیٹا، بھائی، باپ، شوہر ہے لیکن اس ادھا ر کی ادائیگی بہن، بیٹی، بیوی، یا ماں کرتی ہے۔ زنا کے اثرات بہت تیزی سے مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً:
- زانی انسان سے اللہ رب العزت سخت ناراض اور غضبناک ہوتا ہے۔
- زنا کرنے والے کا دل سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے۔ جوں جوں گناہ کرتا چلا جاتا ہے دل سیاہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
- زنا کرنے سے ایمان کی روشنی ختم ہو جاتی ہے۔ گناہ اور سرکشی میں بہتا چلا جاتا ہے۔
- زنا کرنے والا لوگوں کی نگاہ میں اپنا مقام کھو بیٹھتا ہے۔ عزت وآبرو سب خاک میں مل جاتا ہے۔
- زنا کرنے والا غربت و افلاس سے دوچار ہو جاتا ہے گویا اس کے رزق میں سے برکت ختم ہو جاتی ہے، آپس میں ناچاقی، لڑائی جھگڑا، سکون قلب چھین لیا جاتا ہے۔
- زنا کرنے والا دنیا میں رسوا ہوتا چلا جاتا ہے۔ زانی انسان کا دل اللہ کی یاد سے غافل اور خالی ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ مزید بدکاری کے لئے سرگرم ہوتا جاتا ہے۔
- زنا کرنے والا شادی سے دور بھاگتا ہے۔ ذمہ داریوں سے دور بھاگتا ہے۔
- زنا کرنے سے دنیا میں عذاب آتے ہیں، اور اللہ کی ناراضگی کی وجہ مہلک بیماریاں مثلاً کینسر، طاعون، کثرت اموات کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
خلاصہ
آپ ﷺ نے آخری زمانے میں جہاں برائیوں کی کثرت اور شہوتوں کے انتشار کی پیشین گوئی کی ہے، وہاں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ علامات قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ زنا بہت پھیل جائے گا، اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ایک شخص راستے میں سب کے سامنے کسی عورت سے زنا کرے گا۔
یہ دو علامتیں ہیں ایک تو یہ کہ زنا عام ہو جائے گا اور چار سو پھیل جائے گا۔ اور دوسرا یہ کہ زنا علی الاعلان کیا جائے گا اور اسے دوسروں سے چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔
مومن مردوں اور خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کی حفاظت کریں۔ اور اللہ رب العزت سے ہر وقت عصمت و پاک دامنی کی دعا مانگتے رہیں۔