فہرست مضامین
تعارف
محترم قارئین کرام! قیامت کی بہت سی نشانیوں پر میں آرٹیکل لکھ چکا ہوں اور مزید متلاشی ہوں تاکہ آپ سب تک ان حقائق پر بات کر سکوں جو ہماری نصابی کورس کا حصہ نہیں رہے۔ اور تیزی سے کوشش کی جارہی ہے کہ حق بات چھپائی جا سکے اور آنے والی نسل تک حق نہ پہنچ سکے یا پہنچ بھی جائے تو اس کی کئی اشکال موجود ہوں تاکہ حق اور باطل مکس ہو جائے۔ تاکہ لوگ گمراہی کا شکار ہو جائیں۔ یہ ہمارے نام نہاد مسلمانوں اور ان کے اتحادی لوگوں کی چالیں ہیں۔
لیکن ایک چال اللہ رب العزت بھی چلتے ہیں اور وہ یہ کہ جب اللہ اپنے کسی بندے سے کام لینا چاہیں تو لوگوں کی کیا مجال کہ وہ حق کو دبا سکیں۔
عیسائیوں کی خوبیاں
ایک روایت کے مطابق ایک صحابی رسول ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص سے کہا "جب قیامت قائم ہو گی تو اس وقت عیسائی اکثریت میں ہوں گے۔" حضرت عمرو بن العاص نے کہا "خیال کیجئے! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟" انھوں نے کہا: "میں تو وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔" حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا "اگر یہ فرمان اللہ کے رسول ﷺ کا ہے تو برحق ہے اور اس کا سبب عیسائیوں کی چار خوبیاں ہو سکتی ہیں:
نبوی پیشنگوئیاں
اہل علم کہتے ہیں کہ چونکہ اہل یورپ کی زبان انگریزی اس وقت بہت بولی جائے گی اور لوگ عربی بولنا چھوڑ دیں گے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جو شخص عربی بولتا ہے وہ عرب ہے اور جو بھی شخص صحرا نشینی اختیار کرتا ہے وہ بدو ہے، خواہ وہ عجمی ہی کیوں نہ ہو۔
عربوں کی کمی کی وجوہات
اوپر دی گئی حدیث میں عیسائیوں کی چاروں خوبیوں کو دیکھیں تو بہت ہی واضح ہے ایک ایک الفاظ سچ ہے۔ حالانکہ عیسائیوں اور یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہے تاہم احادیث بھی موجود ہیں کہ مسلمان عیسائیوں کے عین نقش قدم پر چلیں گے۔
پچھتر سالوں سے ہمارا ملک آئی ایم ایف کے قرضوں سے چلتا آرہا ہے۔ ان چاروں خوبیوں کو سامنے رکھ کر اپنے ملک کی حالت کا موازنہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔
آج کے دور کا تناظر
آج کا مسلمان حکمران قرضہ حاصل کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز کام کرنے کو تیار ہوتا ہے جو حکم نامہ ان کو دیا جاتا ہے۔ چاہے اس کے لئے خون بہایا جائے، عدل کے تقاضے پورے نہ کئے جائیں، حق بات چھپائی جائے، بند کمروں میں فیصلے کیے جائیں۔
تو عیسائیوں کو ہم سے جنگ لڑنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ ہم اور ہمارا سپہ سالار خود ہی گود میں بیٹھنے کو تیار ہو۔
خلاصہ
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور اچھا حکمران عطا فرمائے۔۔ آمین