اجنبیت کا آغاز اور اس کی وجوہات
دوستو! کافی عرصہ سے میں قیامت کی نشانیوں پر مسلسل آرٹیکل لکھتا آ رہا ہوں، جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ہی کوئی نہ کوئی نشانی ظاہر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس نشانی کی نوعیت ابھی ابتدائی مرحلہ پر ہو۔ لیکن علامات دکھائی دے رہے ہیں جیسے آپ ﷺ نے امت کی اصلاح فرمائی۔
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ صرف جان پہچان کے لوگوں کو سلام کرنے کے کیا نقصانات ہیں؟ اس آرٹیکل میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ کس طرح لوگ صرف اپنے جاننے والوں سے کلام کریں گے اجنبی لوگوں سے سلام تک نہیں لیا جائے گا۔ آج اسی سے ملتا جلتا ایک ٹاپک لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔
اگر آپ سابقہ ٹاپک کو پڑھیں اور اس کے بعد اس کو پڑھیں تو آپ اپنے اردگرد نظر ثانی کر سکتے ہیں کہ کیا یہ نشانی ظاہر ہوئی ہے یا نہیں، اگر ہوئی ہے تو اس میں کس قدر شدت ہے۔
رشتوں میں ٹوٹ پھوٹ اور معاشرتی بگاڑ
ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جب فتنوں، مصیبتوں، تنگیوں، یا کٹھن حالات کی کثرت ہو جاتی ہے تو لوگوں کے باہمی تعلقات میں کمزوری، دکھاوا، منہ موڑ لینا، سخت دل ہو جانا، لاتعلقی اختیار کر لینا ایک واجبی سی بات ہے۔
احساسات کھوکھلے ہو جاتے ہیں، رشتے بے بنیاد، بے جان سے ہوتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی تنگیاں ان لوگوں پر آئیں ہیں یقینا وہ انہی کے لئے تھیں یا پھر یہ لوگ اسی لائق تھے۔
اس وجہ سے ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے جارہے ہیں کیونکہ دل تو مردہ ہوتے جارہے ہیں۔ آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسی چلتی پھرتی مثالیں دکھائی دیں گی۔
آہستہ آہستہ ہم رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرتے چلے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ نوبت اجنبیت تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ دینی تعلیمات سے بالکل دور ہیں ہماری آج کل کی نسل۔ ہم اس طرح تیار ہی نہیں کر پا رہے اپنی اولادوں کو جس کی معاشرے میں سخت ضرورت ہے۔
ہماری آج کی نسل انفرادی سوچ کی مالک ہے، اسے صرف اپنا پتہ ہے اردگرد کے لوگ کیا سوچتے ہیں کیا کہتے ہیں اس کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یہاں تک کہ ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے اپنے والدین کی شکل بھی دو دو دن بعد دکھاتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کے سارے کام اسی ایک شخص کو ہوتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں لوگ صرف دینوی مصلحت ہی کی خاطر ایک دوسرے سے واقفیت رکھتے ہیں۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں اجنبیت
یہ حدیث لوگوں کے آج کے حالات و واقعات کے مطابق ہے۔ آج لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے رشتہ داروں تک کو نہیں جانتی۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک شخص اپنے ہی بعض عزیزوں سے گھر سے باہر پبلک پارکوں وغیرہ میں ملتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ یہ لوگ اس کے رشتہ دار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل زیادہ تر تعلقات شخصی اور ذاتی فوائد کی بنا پر استوار کیے جاتے ہیں۔
کہ اگر ان تعلقات کے قائم کرنے سے وہ مصلحت پوری ہوتی ہو تو وہ ان تعلقات کو قائم رکھتا ہے ورنہ بہت جلد ان کو توڑ دیتا ہے۔
خلاصہ اور نصیحت
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی لوگوں کے درمیان اجنبیت کا بڑھ جانا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے، رشتے ٹوٹ جائیں گے اور محبت کی جگہ نفرت لے لے گی۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رشتوں کو مضبوط کریں، صلہ رحمی کریں اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس فتنے سے بچا سکتا ہے۔