محترم قارئین کرام! ایک وقت تھا جب لوگ آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹتے تھے، ایک دوسرے سے مشورہ کر لیا کرتے تھے، ہر طرف خوبصورتی، برکت، محبت اور سکون تھا، کوئی مسئلہ درپیش ہوتا بھی تو گھر کے بڑے سربراہان آپس میں مل کر انصاف کیا کرتے تھے، ایک دوسرے کو دعوت دینا، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا وغیرہ۔

لیکن اب وقت گزر چکا ہے اور یہ سب ایک خواب و خیال تصور ہوتا ہے، ہمارے دین اسلام میں جہاں چھوٹی سے چھوٹی بات کو واضح کیا گیا وہیں پر آپ ﷺ نے اپنی امت کو حقوق العباد اور حقوق اللہ سے بھی آگاہ کیا۔ انھی حقوق میں سے پڑوسیوں کے حقوق بھی واضح کیے گئے۔ آپ ﷺ نے پڑوسیوں کے حقوق کی بہت زیادہ تاکید کی، صحابہ کہتے ہیں کہ اتنی زیادہ تاکید کی گئی کہ ایسے لگنے لگا کہ کہیں وراثت میں حصہ دار نہ بنا دیا جائے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی۔ جب تک فحش (بدکلامی)، بے حیائی، قطع رحمی اور پڑوسی سے برا سلوک ظاہر نہ ہو جائے"۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "خدا کی قسم! وہ ایمان نہیں رکھتا، پوچھا گیا، کون ایمان نہیں رکھتا؟ فرمایا "کہ وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ رہے"۔

اسی طرح مشکوۃ کی ایک حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "کہ وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی جو اس کے پہلو میں رہے بھوکا رہے"۔

اسی طرح ایک جگہ ارشاد فرمایا، اے ابوذر رضی اللہ عنہ "جب تو شوربہ پکائے تو کچھ پانی زیادہ کر دے اور اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کر"۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے مسلمان عورتوں! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو ہدیہ دینے میں حقیر نہ سمجھے اگرچہ ایک بکری کی کیری ہی کیوں نہ ہو"۔ (عام طور پر عورتوں کی فطرت ہوتی ہے کہ کوئی معمولی چیز وہ پڑوسن کے گھر بھیجنا پسند نہیں کرتی۔ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اچھی چیز ہی بھیجیں)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ میرے دو پڑوسی ہیں تو ان میں سے کس کے ہاں ہدیہ بھیجو، آپ ﷺ نے فرمایا: "اس پڑوسی کے ہاں جس کا گھر تمہارے گھر سے زیادہ قریب ہو"۔

ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کریں۔ تو اس کو چاہیے کہ جب وہ گفتگو کرے تو ہمیشہ سچ بولے اور اس کے پاس جب امانت رکھی جائے تو مالک کے پاس اس کی امانت لوٹائے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے"۔

ان احادیث کی روشنی میں یہ بات کتنی واضح ہے کہ ہمسایوں کا خیال بھی ویسے ہی کرنے کی تاکید کی گئی ہے جیسے ہم اپنے والدین کے ساتھ ساتھ قریبی رشتہ داروں کی کرتے ہیں، لیکن افسوس! آپ ﷺ کی بتائی ہوئی یہ نشانی آج ہم اپنی ان گنہگار آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں، اور جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے یہ نشانی اور واضح ہوتی جا رہی ہے۔

ہائے افسوس کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت ویسے نہیں کر پارہے جیسے کرنے کا حکم صادر ہوا، آج ہمارے خون اس قدر سفید ہو رہے ہیں کہ ہم سرِ بازار اپنے بزرگوں بشمولیت بوڑھے والدین کو بھیک مانگتے دیکھ رہے ہیں نہ ان کا خیال رکھنے والا کوئی موجود ہوتا ہے نہ ان کی خبر گیری کرنے والا، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے شادی کر کے دوسرے ملک شفٹ ہو جاتے ہیں اور پیچھے بوڑھے والدین کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہوتا، صرف افسوس کا مقام ہے!

وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے رشتے کھوکھلے، مطلبی، اور خودغرضی، دکھلاوئے پر مبنی نظر آتے ہیں، صلح رحمی کرنے کی بجائے معاشرے میں قطع رحمی عروج پر ہے، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے، ماں بیٹی، باپ بیٹا، خونی رشتے پامال ہو کر بکھر رہے ہیں، ایسے میں پڑوسی کا حقوق کہاں ادا ہو رہے ہیں، اچھا پڑوسی کسی بھی نعمت سے کم نہیں ہوتا وہ قریبی اور خونی رشتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے اگر حقیقتاً اس کے حقوق ادا کیے جائیں۔

آج ہم نے تو پڑوسیوں کو صرف اپنے بکرے، گاڑیوں، اور خود نمائی تک محدود کر کے رکھا ہے تاکہ وہ جان لے کہ ہم حیثیت میں ان سے کتنے بڑے ہیں، ان سے زیادہ اچھا روزگار ہے، روز اچھے کھانے پکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ جب تک زندہ رکھے تو دین پر زندہ رکھے اور جب موت دے تو ایمان کی حالت میں موت دے۔ اللہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں حقوق العباد کو ادا کرنے کا صحیح طریقہ اور توفیق عطا کرے۔ آمین