لوگوں کے دلوں سے شہرِ مدینہ میں بسنے کی تڑپ کیوں دم توڑ جائے گی؟

رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق شہر مدینہ کی طرف لوگوں کی رغبت کم ہو جائے گی۔ جانیے کہ کن وجوہات کی بنا پر لوگوں کے دلوں سے مدینہ میں بسنے کی تڑپ دم توڑ جائے گی۔

لوگوں کے دلوں سے شہرِ مدینہ میں بسنے کی تڑپ کیوں دم توڑ جائے گی؟

حج بیت اللہ کی اہمیت اور لوگوں کی غفلت

دوستو! اللہ کے گھر کی زیارت یعنی حج بیت اللہ اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ صرف روزہ کے علاوہ باقی تمام ارکان انسان کے اپنے فلاح کے لیے ہیں۔ مثلاً نماز ادا کرتا ہے تو اپنے لیے، زکوۃ ادا کرتا ہے تو اپنے مال کو پاک کرنے کے لیے، اسی طرح اگر ایک شخص استطاعت ہے اور وہ حج ادا کرتا ہے تو اپنے گناہوں کی معافی کے لیے، لیکن جسوں وقت گزرتا جا رہا ہے حالاتِ حاضرہ کے پیش نظر حج کا فریضہ ادا کرنا تو درکنار گھر چلانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

دوسری طرف لوگوں کی کثیر تعداد ایسی ہے کہ جنہیں اللہ نے اتنا مال عطا کیا ہے اور وہ استطاعت کے باوجود حج کا فریضہ ادا نہیں کرتے یا اللہ ان کو دنیا کی خواہش میں اتنا مصروف کر دیتے ہیں کہ وہ اس طرف سوچ ہی نہیں پاتے اگر جانا مقصود ہو تو یہ سوچ کر جاتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے عزت و تکریم بڑھ جائے اور لوگ انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکاریں۔ اور کچھ لوگ ہیں جو دل سے چاہتے ہیں کہ وہ بیت اللہ میں جا کر بخشش طلب کریں۔ بہرحال دلوں کے راز تو اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہی بہتر جانتی ہے۔

⚠️ خبردار! جو لوگ استطاعت کے باوجود حج کو ترک کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت وعید ہے۔

شہر مدینہ کی فضیلت اور فرشتوں کی حفاظت

جو لوگ شہر مدینہ یا بیت اللہ کا طواف کر چکے ہیں وہ اس کی اہمیت کو زیادہ بہتر جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو ابھی اس سے محروم ہیں۔ آنے والے حالات و واقعات کیا ہوں گے یہ تو اللہ رب العزت کی ذات اقدس بہتر جانتی ہے لیکن قیامت کی نشانیوں میں بتائی گئی نشانیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری ہوتی چلی جا رہی ہیں اور ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مدینہ کے تمام داخلی راستوں میں فرشتے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوں گے۔" (جامع ترمذی)
🌟 آپ ﷺ نے فرمایا: "جو مدینے میں مر سکے، وہ وہیں مرے، کیونکہ میں مدینے میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔"

قیامت کی نشانی: مدینہ سے بے رغبتی

اپنے سابقہ آرٹیکل "اسلام کی آخری بستی کون سی ہے جو قرب قیامت ویران ہو جائے گی" میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں آج کا آرٹیکل بھی اسی موضوع کا دوسرا پہلو ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ سابقہ آرٹیکل کو مزید تفصیل دینے جا رہا ہوں۔

یہ بات تو سچ ہے کہ شہر مدینہ ویران ہو جائے گا لیکن وہ کن وجوہات کی بنا پر ہوگا آج اس پر بات کریں گے۔ آپ ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد شہر مدینہ کی آبادی اور رونق میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا۔ یہ وہی شہر مدینہ ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: "مدینہ کے تمام داخلی راستوں میں فرشتے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوں گے۔" جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق: "فرمایا جو مدینے میں مر سکے، وہ وہیں مرے، کیونکہ میں مدینے میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔"

⚠️ آپ ﷺ نے فرمایا: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آجائے گا کہ ایک مدینہ کا رہنے والا شخص اپنے چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں سے کہے گا (مدینہ چھوڑو) خوشحالی کی طرف نکلو، خوشحالی کی طرف آؤ، حالانکہ شہر مدینہ ہی ان کے لیے بہتر ہوا، اے کاش! کہ انہیں اس بات کا علم ہو۔"

مدینہ کی بھٹی کی مثال

📖 "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ سے بے رغبتی کی بنیاد پر وہاں سے نقل مکانی کرے گا۔ اللہ رب العزت اس سے بہتر شخص کو اس جگہ مدینہ شہر میں آباد کر دے گا۔ خبردار! مدینہ شہر آگ کی بھٹی کی طرح ہے وہ اپنے اندر سے خبیث لوگوں کو نکال باہر کرے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مدینہ اپنے اندر سے شریر لوگوں کو نکال نہیں دے گا۔ جس طرح کہ بھٹی لوہے کا میل کچیلا تار دیتی ہے۔"
💫 اللہ تعالیٰ ہمیں مدینہ کی محبت اور وہاں بسنے کی تڑپ عطا فرمائے اور ہمیں اس کی برکات سے نوازے۔ آمین
Uzair Hameed

Uzair Hameed مدیر

بلاگ لوورز کے بانی اور ایڈیٹر۔ اسلامی تاریخ، علاماتِ قیامت اور اصلاحی مضامین لکھنے کا شوق ہے۔ مقصد امت کو صحیح معلومات فراہم کرنا ہے۔

💬 آپ کا ردعمل