دوستو! اللہ کے گھر کی زیارت یعنی حج بیت اللہ اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ صرف روزہ کے علاوہ باقی تمام ارکان انسان کے اپنے فلاح کے لیے ہیں۔ مثلاً نماز ادا کرتا ہے تو اپنے لیے، زکوۃ ادا کرتا ہے تو اپنے مال کو پاک کرنے کے لیے، اسی طرح اگر ایک شخص استطاعت ہے اور وہ حج ادا کرتا ہے تو اپنے گناہوں کی معافی کے لیے، لیکن جسوں وقت گزرتا جا رہا ہے حالاتِ حاضرہ کے پیش نظر حج کا فریضہ ادا کرنا تو درکنار گھر چلانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔
دوسری طرف لوگوں کی کثیر تعداد ایسی ہے کہ جنہیں اللہ نے اتنا مال عطا کیا ہے اور وہ استطاعت کے باوجود حج کا فریضہ ادا نہیں کرتے یا اللہ ان کو دنیا کی خواہش میں اتنا مصروف کر دیتے ہیں کہ وہ اس طرف سوچ ہی نہیں پاتے اگر جانا مقصود ہو تو یہ سوچ کر جاتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے عزت و تکریم بڑھ جائے اور لوگ انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکاریں۔ اور کچھ لوگ ہیں جو دل سے چاہتے ہیں کہ وہ بیت اللہ میں جا کر بخشش طلب کریں۔ بہرحال دلوں کے راز تو اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہی بہتر جانتی ہے۔
جو لوگ شہر مدینہ یا بیت اللہ کا طواف کر چکے ہیں وہ اس کی اہمیت کو زیادہ بہتر جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو ابھی اس سے محروم ہیں۔ آنے والے حالات و واقعات کیا ہوں گے یہ تو اللہ رب العزت کی ذات اقدس بہتر جانتی ہے لیکن قیامت کی نشانیوں میں بتائی گئی نشانیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری ہوتی چلی جا رہی ہیں اور ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
اپنے سابقہ آرٹیکل "اسلام کی آخری بستی کون سی ہے جو قرب قیامت ویران ہو جائے گی" میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں آج کا آرٹیکل بھی اسی موضوع کا دوسرا پہلو ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ سابقہ آرٹیکل کو مزید تفصیل دینے جا رہا ہوں۔
یہ بات تو سچ ہے کہ شہر مدینہ ویران ہو جائے گا لیکن وہ کن وجوہات کی بنا پر ہوگا آج اس پر بات کریں گے۔ آپ ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد شہر مدینہ کی آبادی اور رونق میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا۔ یہ وہی شہر مدینہ ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: "مدینہ کے تمام داخلی راستوں میں فرشتے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوں گے۔" جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق: "فرمایا جو مدینے میں مر سکے، وہ وہیں مرے، کیونکہ میں مدینے میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔"
آپ ﷺ نے امت کو قیامت کی نشانیوں میں سے یہ نشانی بھی بتائی کہ لوگ شہر مدینہ کی خواہش سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: 'لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آجائے گا کہ ایک مدینہ کا رہنے والا شخص اپنے چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں سے کہے گا (مدینہ چھوڑو) خوشحالی کی طرف نکلو، خوشحالی کی طرف آؤ، حالانکہ شہر مدینہ ہی ان کے لیے بہتر ہوا، اے کاش! کہ انہیں اس بات کا علم ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ سے بے رغبتی کی بنیاد پر وہاں سے نقل مکانی کرے گا۔ اللہ رب العزت اس سے بہتر شخص کو اس جگہ مدینہ شہر میں آباد کر دے گا۔ خبردار! مدینہ شہر آگ کی بھٹی کی طرح ہے وہ اپنے اندر سے خبیث لوگوں کو نکال باہر کرے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مدینہ اپنے اندر سے شریر لوگوں کو نکال نہیں دے گا۔ جس طرح کہ بھٹی لوہے کا میل کچیلا تار دیتی ہے۔"
ایک روایت کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ جب شہر مدینہ سے نکلے تو اپنے آزاد کردہ غلام مزاحم سے کہا: "اے مزاحم! کیا ہم ان لوگوں میں تو شامل نہیں ہو گئے، جنھیں مدینہ اپنے اندر سے نکال باہر کرے گا؟"
اس روایت سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ ہر وہ شخص جو مدینہ میں رہائش اختیار کرے اور پھر یہاں سے نقل مکانی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے یا مدینہ سے کہیں دوسرے شہر میں چلا جائے تو وہ شریر اور خبیث لوگوں میں سے ہے۔ ہرگز اس کا مفہوم یہ نہیں! صحابہ کرام میں سے بعض بہترین شخصیات نے جہاد اور دعوت کے مقاصد کے پیش نظر مدینہ چھوڑا، بہت سے دوسرے شہروں میں رہائش اختیار کی اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
آپ ﷺ نے ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "لوگ مدینہ کو اس حال میں چھوڑ دیں گے جبکہ اس کے حالات بہت عمدہ ہوں گے، اس میں صرف پرندے اور درندے ہی رہ جائیں گے۔"
آپ ﷺ کے بیان کے مطابق لوگ ایسے حالات میں بھی مدینہ کی رہائش چھوڑ دیں گے جبکہ وہاں معاشی حالات بہت بہتر ہوں گے، وہاں پھل کثرت سے ہوں گے، معیشت بھی بہت عمدہ ہو گی مگر کچھ ایسے فتنے اور سختیاں لوگوں کو گھیر لیں گی جن کے باعث وہ مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
مدینہ کے رہائشی آہستہ آہستہ وہاں سے دوسرے شہروں میں منتقل ہوتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ وہاں کوئی شخص باقی نہیں رہے گا، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ گھر، سڑکیں اور مساجد انسانوں سے خالی ہو جائیں گی، پرندے اور درندے مساجد میں آزادانہ گھومیں گے، وہ وہاں پیشاپ اور گندگی پھیلائیں گے اور کوئی روکنے والا نہ ہوگا، اس لیے کہ شہر انسانوں سے خالی ہو چکا ہوگا۔
بیت المقدس قبلہ اول کے آباد ہونے سے بیت اللہ خانہ کعبہ ویران ہوتا جائے گا۔ اندونوں بھی وسطیٰ ایشیا کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ فلسطین کے حالات، عراق، شام، ترکی اور اسی طرح آس پاس کی ریاستیں امن سے خالی ہوتی جا رہی ہیں۔