حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مومنین کی عبادات کا مرتبہ کیا ہوگا؟ جانئے اس مضمون میں تفصیل سے
دوستو! فتنوں کے اس دور میں لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں ان کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا، فحاشی کے مرتکب موویز، ڈرامہ، بیہودہ ڈانس اور نہ جانے کیا کیا دیکھ کر وقت گزارتے ہیں، کب اذان ہوتی ہے کہ اب نماز کا وقت ہے یہ تو پتہ ہی نہیں چلتا، آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب دن کے گیارہ بجے ہوتے ہیں، ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ ہیں جو مسجد میں عرصہ دراز سے نہیں گئے نا قرآن کی تلاوت کی، نا ہی دیگر معاملات سرانجام دیے گئے۔
بے شک نماز دین کا اہم ترین رکن ہے، کہا جاتا ہے جس کی نماز پوری ہو گی اس کے باقی کے اعمال بھی درست ہونگے۔ یوں تو نماز نہ پڑھنے والوں کے لیے سخت وعید کے احکامات بتائے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں "تو ان نمازیوں کے لیے خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں"۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: مسلمان اور کافر کے درمیان نماز کو چھوڑنے کا فرق ہے۔ کہیں یوں فرمایا کہ جو شخص نماز کے معاملے میں سستی کرے گا اللہ رب العزت اسے پندرہ سزائیں دے گا جن میں سے چھ دنیا میں (اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی، چہرے سے نیک لوگوں کی علامت ختم ہو جائے گی، کسی عمل پر اجر و ثواب نہ ہو گا، کوئی دعا قابل قبول نہ ہو گی، لوگ اس شخص سے نفرت کریں گے، نیک لوگوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا) تین موت کے وقت (وہ شخص ذلیل و رسوا ہو کر مرے گا، بھوکا مرے گا، موت کے وقت شدید پیاس لگے گی سارے دریاؤں کا پانی بھی اس شخص کو پلایا جائے تب بھی پیاس نہ بجھ پائے گی) اور پھر تین قبر میں (اس کی قبر تنگ ہو جائے گی اور قبر اس طرح دبائے گی کے اس دائیں پسلیاں بائیں جانب پیوستہ ہو جائیں گی، قبر میں آگ بھڑکائی جائے گی ان انگاروں میں دن رات جلتا رہے گا، اس شخص پر ایک اژدھا مسلط کر دیا جائے گا جس کی آنکھیں آگ اور ناخن لوہے کے ہوں گے ہر ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہو گی وہ گرجا دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا: میں الشجاع الاقرع ہوں مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے فجر کی نماز ضائع کرنے کے جرم میں صبح تا عشاء ادا نہ کرنے پر صبح تک مارتا ہوں" اور جب بھی وہ ایک ضرب لگائے گا تو مردہ ستر ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا تو وہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اسے نکالے گا اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتا رہے گا) اور تین سزائیں قبر سے نکلنے کے بعد ہوں گی۔ (اللہ رب العزت اس شخص پر ایک فرشتہ مسلط کر دے گا جو اسے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف ہانک کر لے جائے گا، سزا و جزا کے وقت اللہ اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے دیکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑ جائے گا، اس کا حساب بہت سختی سے لیا جائے گا اس سے زیادہ سخت و طویل کوئی عذاب نہ ہو گا، اللہ رب العزت اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم فرمائیں گے جو کہ نہایت ہی بُرا ٹھکانہ ہے (اللہ ہم سب کو نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین)
دوستو! آپ جانتے ہیں کہ میں مسلسل قیامت کی نشانیوں پر آرٹیکل لکھتا آرہا ہوں، آج کا عنوان بھی قیامت کی ایک نشانی ہے جس کو تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں کہ کیسے ہم نماز سے دور ہو گئے ہیں، کیسے ہمیں قرآن سے دور کر دیا گیا ہے،
یوں تو یہ علامت حضرت عیسیٰ ابن مریم کے زمانے میں ظاہر ہو گی لیکن اس کے اثرات ابھی سے ظاہر ہو رہے ہیں، اور تیزی سے شدت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ دن بدن مساجد ویران اور سینما، بازار آباد ہو رہے ہیں،
حضرت عیسیٰ کا زمانہ بہت ہی فضیلت والا ہو گا۔ عبادات بھی نہایت فضیلت کی حامل ہوں گی کیونکہ وقت اور مقام کے شرف و منزلت کے مطابق عبادات کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
اہل علم فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس ایک سجدے کا اجر دنیا اور اس کے تمام خزانوں کو صدقہ کرنے سے بھی زیادہ ہو گا۔ اس لیے کہ اس زمانے میں مال کی بہتات ہو جائے گی۔ لوگوں میں حرص اور بخل بہت کم ہو گا۔ لوگ دنیا کے مال کو جہاد میں خرچ کریں گے اور خود اس مال کا لالچ نہیں کریں گے۔ اور سجدے سے مراد یا تو سجدہ ہی ہے یا پھر اس سے مراد نماز ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ ہم سب کو نماز پنجگانہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین