کن لوگوں کے دلوں میں لالچ اور کنجوسی بڑھتی چلی جائے گی؟
محترم قارئین کرام!
جب دنیا فانی ہے، دنیا کی ہر ایک چیز نے فنا ہونا ہے، تو پھر یہ اکڑ، غرور اور گھمنڈ کیسا؟ ایک نہ ایک دن سب کچھ ختم ہونا ہے، اور باقی رہنے والی ہے تو صرف اور صرف "اللہ رب العزت کی ذات اقدس"۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج کا انسان حقیقتاً ایک نفسیاتی چکر میں جی رہا ہے۔ جیسے زندگی کا مقصد صرف اور صرف روپیہ پیسہ ہی رہ گیا ہے، باقی رشتے ناطے، ذمہ داریاں و معمولات سب کو پیسے کی نظر میں پرکھا اور تولا جا رہا ہے۔
ارشاد ربانی: "جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے اور لوگ ان میں بخل کرتے ہیں، جتنی بھی نعمتیں اللہ رب العزت نے اپنے فضل سے عطا کیں ہیں، وہ لوگ ان نعمتوں کو پا کر بھی بخل کرتے ہیں، اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہرگز ایسا نہیں، بلکہ ان کے حق میں انتہائی بُرا ہے"۔
اور مزید فرمایا: "جن چیزوں کو لے یہ اتنا غرور، گھمنڈ اور اکڑپن ہے اور سوچتا ہے کہ اپنی محنت سے کمایا ہے اور خرچ کرنے میں کنجوسی کرتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سارا کا سارا مال قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا، اور اسی مال سے ان کی پیشانی، پہلوؤں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہی مال ہے جو تم کماتے تھے اور جمع کرتے تھے"۔
📖 بخل کا مفہوم
بخل کرم کی ضد ہے۔ بخل وہ ہے جو نعمتیں اللہ نے اپنے بندے کو دی ہیں اور جہاں جہاں خرچ کرنے کا حکم آیا ہے، بندہ ان جگہوں پر خرچ نہ کرے، اور جہاں خرچ کرنے سے منع کیا، وہاں زور و شور سے خرچ کرتا ہے، اسی کو اسراف کہتے ہیں۔
عام طور پر بخل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، یعنی مال خرچ کرنے کے تین مقامات ہیں، اگر وہ وہاں خرچ نہیں کرتا تو بخیل کہلاتا ہے:
- اگر اللہ رب العزت نے نعمتیں عطا کیں تو صاحبِ استطاعت پر زکوۃ فرض ہے، ادا نہ کرنے پر بخیل ہوتا ہے۔
- اگر اللہ رب العزت نے نعمتیں عطا کیں اور صاحبِ استطاعت پر حج فرض ہے، ادا نہ کرنے پر بخیل ہوتا ہے۔
- اسی طرح صدقہ فطر، خیرات، اہل وعیال پر خرچ کرنا، قربانی کرنا، پڑوسیوں پر خرچ کرنا، مہمان نوازی کرنا، دوستوں احباب پر خرچ کرنا واجب ہے، نہ خرچ کرنے پر بخیل کہلاتا ہے۔
🕌 احادیث مبارکہ کی روشنی میں
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر روز فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! خرچ کرنے والوں کو اچھا بدل عطا فرما اور نہ خرچ کرنے والوں کا مال ضائع فرما"۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا: "نیکی کے کاموں میں خرچ کیا جائے تو بدل بھی بہتر ہوتا ہے"۔
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "مسلمانوں میں دو خصلتیں اکٹھی نہیں ہو سکتی: بخل اور بد خلقی"۔
⚡ قرب قیامت کی نشانیاں
قرب قیامت کی نشانی ہے کہ لوگوں میں ایسی نفسیاتی بیماریاں جنم لیں گی جو اسلامی معاشرے کو پارہ پارہ کردیں گی۔ انھی میں سے ایک حد سے بڑھا ہوا حرص بھی ہے۔
🔍 شُحَ کا مفہوم
حدیث میں "شُحَ" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی شخص میں بخل اور لالچ کا ایک ساتھ جمع ہو جانا۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بھلائی کے کاموں میں مال خرچ کرنے اور نیکی یا اطاعت الہی کا کام کرنے سے منع کرے، وہ "شُحَ" میں داخل ہے۔
(آج افسوس سے تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ رحمن کے بندوں پر خرچ کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت، پیسہ، توجہ نہیں ہے۔ ایسے اچھے کاموں سے بہت جلد اکتاہٹ، بوریت کا، بہانہ بازی سے کام لے کر پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ شیطان کو خوش کرنے کے لئے ہمارے پاس فرصت بھی ہے، مال بھی ہے اور توجہ بھی ہے۔ بزرگوں کے مزاروں پر چڑھاوے چڑھانا، قبروں کو سجدہ گاہ بنانا، عرس ناچ گانے، شادی بیاہ کی رسمیں، غرض یہ کہ جہاں خرچ کرنے کی ممانعت ہے، ہم سب سے زیادہ خرچ بھی انھی معمولات پر کرتے ہیں)۔
📜 ایک اہم روایت
کسی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا ہماری قلتِ تعداد کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہو گا؟"
کسی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! بزدلی سے کیا مراد ہے؟"
💔 ایک اور اہم ارشاد
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ایسا کیوں کر ہو گا؟"
🤲 نصیحت اور دعا
دوستو! یہ ساری احادیث، تعلیمات و احکامات، نصیحتیں ہمارے لئے ہیں۔ ہم اتنے غافل ہوتے جا رہے ہیں کہ اچھائی اور برائی میں فرق ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے شیطان کا پہلا حملہ انسان کے حواس پر ہوتا ہے، انسان سوچنا چاہے تب بھی نہیں سوچ پاتا، اس کے بعد گمراہی کا راستہ اپناتا چلا جاتا ہے۔
ایک دوسرے کی مدد کرنا ہی سچی خوشی ہے، بجائے قبر پر ستی کرنے یا غلط رسومات کو پروان چڑھانے میں۔ ہمارے معاشرے میں یہ نشانی بھی اپنے عروج پر ہے۔ لوگوں کو اپنے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آرہا۔