اسلام کی آخری بستی کون سی ہے جو قرب قیامت ویران ہو جائے گی
شہرِ مدینہ روئے زمین پر امن و سکون کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کے لیے آپ ﷺ نے اللہ رب العزت کے حضور دعا فرمائی تھی: "اے میرے پروردگار! ہمارے دلوں میں مدینے کی محبت، مکّے کی محبت سے بھی بڑھا دے۔" اور یوں ربِ کائنات نے آپ ﷺ کی دعا قبول فرمائی اور آج اتنی صدیوں کے بیت جانے کے بعد بھی اس روئے زمین پر شاید ہی کوئی بدنصیب شخص ہوگا جس کا دل مدینے کی زیارت کرنے کے لیے نہ دھڑکتا ہو۔
اس شہر سے محبت و عقیدت ناصرف ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے بلکہ تسکینِ قلب ہے۔ شہرِ مدینہ درحقیقت وہ بابرکت شہر ہے کہ جس کی بابرکت وادیاں، پہاڑ، پانی، سب شفا ہیں۔ شہر مدینہ میں موجود گنبد خضرا، ریاض الجنۃ، جنت البقیع، مسجد قبا، جنت کا پہاڑ احد اور مسجد نبوی شامل ہیں۔ اس شہر کے دن خوشبوؤں سے معطر اور فضاؤں میں پاکیزگی ہے جبکہ راتیں اللہ رب العزت کی رحمت، مغفرت کی بارشوں سے منور ہیں۔
یہ وہ شہر ہے کہ جس کی زندگی بھی بابرکت و اعلیٰ ہے جبکہ موت بھی افضل ترین ہے، مسجد نبوی ﷺ میں پڑھی گئی ایک نماز ہزار نمازوں سے افضل اور بلند مقام رکھتی ہے۔ اس شہر کی حفاظت اللہ رب العزت کے حکم سے فرشتوں کے سپرد کی گئی ہے، اس شہر میں نہ تو دجال داخل ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون جیسی مہلک بیماری۔
ایک مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا: "مدینہ کی تکلیفوں اور سختیوں پر میرے امت میں سے جو کوئی شخاص صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کا شفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔"
یہ تو تھا شہر مدینہ کی فضیلت جو میں نے آپ کے ساتھ شیئر کی ہے، آج کا موضوع ہے یہی مدینہ بے آباد اور باشندوں سے خالی ہو جائے گا۔ یعنی آج ہم سب شہر مدینہ جانے کے لیے تڑپ رہے ہیں لیکن قرب قیامت یہی شہر کیسے ویران ہو جائے گا جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: "اسلام کی بستیوں میں سے آخری بستی جو ویران ہو گی، وہ مدینہ ہے۔"
یوں تو آپ ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے بعد سے لے کر قیامت تک مدینہ کی آبادی اور اس روشنیوں اور رونقوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مگر آپ ﷺ نے پھر فرمایا ایک وقت آئے گا کہ لوگ مدینہ میں رہائش کی خواہش سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آجائے گا کہ ایک مدینے کا رہنے والا شخص اپنے چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں سے کہے گا: (مدینہ چھوڑو) خوشحالی کی طرف نکلو، خوشحالی کی طرف آؤ، حالانکہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر ہوگا۔ اے کاش! کہ انہیں اس بات کا علم ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب بھی کوئی شخص مدینہ سے بے رغبتی کی بنیاد پر وہاں سے نقل مکانی کرے گا، اللہ رب العزت اس سے بہتر شخص کو اس کی جگہ مدینہ میں آباد کر دے گا۔ خبردار! مدینہ آگ کی بھٹی کی طرح ہے، وہ اپنے اندر سے خبیث لوگوں کو نکال باہر کرے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مدینہ اپنے اندر سے شریر لوگوں کو نکال نہیں دے گا۔ جس طرح کہ بھٹی لوہے کا میل کچیلا تار دیتی ہے۔"
حضرت عمر بن عبدالعزیز جب مدینے سے نکلے تو اپنے آزاد کردہ غلام مزاحم سے کہا: "اے مزاحم! کیا ہم ان لوگوں میں تو شامل نہیں ہو گئے، جنھیں مدینہ اپنے اندر سے نکال باہر کرے گا؟"
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر وہ شخص جو مدینہ میں سکونت اختیار کرے اور پھر یہاں سے نقل مکانی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے یا مدینہ سے کہیں دوسرے شہر میں چلا جائے تو وہ شریر اور خبیث لوگوں میں سے ہے۔ ہرگز اس کا مفہوم یہ نہیں! صحابہ کرام میں سے بعض بہترین شخصیات نے جہاد اور دعوت کے مقاصد کے پیش نظر مدینہ چھوڑا، بہت سے دوسرے شہروں میں رہائش اختیار کی اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا: "لوگ مدینہ کو اس حال میں چھوڑ دیں گے جبکہ اس کے حالات بہت عمدہ ہوں گے، اس میں صرف پرندے اور درندے ہی رہ جائیں گے۔"
مطلب یہ ہے کہ لوگ ایسے حالات میں بھی مدینہ کی رہائش چھوڑ دیں گے جبکہ وہاں معاشی حالات بہت بہتر ہوں گے۔ وہاں پھل کثرت سے ہوں گے، معیشت بہت عمدہ ہو گی مگر کچھ ایسے فتنے اور سختیاں لوگوں کو گھیر لیں گی جس کے باعث وہ مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ باشندگان مدینہ آہستہ آہستہ وہاں سے دوسرے شہروں میں منتقل ہوتے چلے جائیں گے، حتی کہ وہاں کوئی شخص باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ گھر، سڑکیں اور مساجد انسانوں سے خالی ہو جائیں گی، پرندے اور درندے مساجد میں آزادانہ گھومیں گے، وہ وہاں بول و براز کریں گے اور کوئی انہیں روکنے والا نہ ہوگا، اس لیے کہ شہر انسانوں سے خالی ہو چکا ہوگا۔ یقینا شہر انسانوں سے آباد ہوتے ہیں۔ اور یونہی نہیں کہا گیا کہ بیت المقدس کی آبادی درحقیقت بیت اللہ کی بربادی ہوگی۔
قرب قیامت کی چھوٹی نشانیاں جو اہل عرب کے لیے بتلائی گئی ہیں وہ تقریباً اپنی ابتدائی اشکال میں موجود ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اتنی تیزی اور شدت آتی چلی جا رہی ہے یوں گمان ہوتا ہے کہ شاید آنے والا پل یا آنے والا کل آخری ہو۔ اللہ پاک سے استدعا ہے کہ خاتمہ بالایمان ہو اور ہم سب کے گناہ معاف فرمائیں۔ آمین