حکم الہیٰ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والوں کے لئے کیا وعید ہے؟
یوں تو قرب قیامت کی بہت ساری نشانیاں آپ ﷺ نے امت کو بتلائی تاکہ لوگ بری عادات سے بچ سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ان میں سے کافی ساری نشانیوں پر آرٹیکل لکھ کر آپ کی نظر کر چکا ہوں۔ آج جس نشانی پر بات کرنے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ "قرب قیامت لوگ اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے قانون شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ من پسند فیصلے کئے جائیں گے۔"
شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے
یوں تو اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق فیصلے کرنا امت کے اہم ترین واجبات میں سے ہے۔ جیسے کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا "اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں"۔
یہ سراسر دین میں بدعت کا باعث بنتی ہے جس کے محض معاشرے پر برے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ دینی احکامات کو پس پشت ڈال دینا اور من چاہے فیصلے مسلط کردینا چاہے اس سے دوسروں کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے، سراسر کفر ہے۔
قرآن و سنت کے مطابق فیصلے نہ کرنا، حق بات چھپانا دراصل دین سے خارج ہونا ہے۔
قرب قیامت کی نشانی
آخری زمانے میں اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی چلی جائیں گی اور جو کڑی سب سے پہلے ٹوٹے گی وہ یہ ہو گی کہ لوگ اللہ رب العزت کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کرنا چھوڑ دیں گے۔
ارشاد ربانی ہے "اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ سے اچھا حکم کس کا ہوسکتا ہے؟"
اسلام کی کڑیاں ٹوٹیں گی
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر اسلامی ممالک میں یہ علامت پوری طرح سے ظاہر ہو چکی ہے۔ ان میں ممالک میں اسلام کے قوانین و احکام میں سے بس انھی امور پر عمل کیا جاتا ہے جو شادی بیاہ، طلاق، اور میراث سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ بھی کسی حد تک درست فیصلہ نہیں کر پاتے۔ جب عدالتیں اپنا فیصلہ سناتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انصاف لینے والے کو مرے ہوئے پانچ سال گزر چکے ہوتے ہیں۔
جہاں تک تجارتی معاملات، جرائم سے متعلق سزاؤں اور حدود تعزیرات کا تعلق ہے تو ان معاملات میں اکثر لوگ فرانسیسی اور برطانوی قوانین کے مطابق ہی فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہی اللہ رب العزت کی نازل کردہ شریعت کے ساتھ فیصلے نہ کرنا ہے۔
موجودہ صورتحال
یعنی بحثییت مسلمان ہمارے لئے قرآن و سنت سے بڑھ کر کوئی اور کتاب مقدس ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن جب ہم اللہ کی اس نازل کردہ کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں سنائیں گے تو خیروبرکت کیسے ہوسکتی ہے۔
اللہ رب العزت کی ناراضگی سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ نہ تو ہم قرآن کو پڑھتے ہیں اور نہ ہی ہم اس سے کوئی رہنمائی حاصل کرپاتے ہیں کیونکہ ہم نے اس مقدس احکام کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
نصیحت اور عبرت
یہ مضمون ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ جو لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں وہ اللہ کی ناراضگی کے مستحق ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے فیصلوں میں قرآن و سنت کو مقدم رکھیں اور کسی بھی انسان کے بنائے ہوئے قانون کو اللہ کے قانون پر فوقیت نہ دیں۔