دوستو! ہم سب گناہوں کی ایسی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم جو کام سرانجام دے رہے ہیں وہ گناہ ہے یا ثواب۔ قرب قیامت کی بہت سی نشانیوں میں سے چند نشانیاں یہ بھی قابلِ ذکر ہیں جو کہ نافرمانوں اور اہل بدعت کے لیے وعید ہیں۔ ان میں سے پہلی نشانی جس کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ "مسخ" ہے یعنی کسی چیز کی شکل اور جسمانی خدوخال، ہیت تبدیل کر کے اسے کوئی دوسری چیز بنا دینا جیسا کہ قرآن میں بنو اسرائیل کے ایک گروہ کو بطور سزا کے بندر اور خنزیر بنا دیا تھا۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا "پھر جب انھوں نے اس معاملے میں سرکشی کی جس سے انھیں روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا "ذلیل بندر بن جاؤ" دوسرے مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا۔"
آج کے اس آرٹیکل کی دوسری نشانی ہے "خسف" یعنی زمین کا پھٹنا اور جو کچھ اس کے اوپر ہو اس کو نگل لینا اس نشانی کو میں نے اپنے آرٹیکل "آپ ﷺ نے اُمت کو زمین کے دھنس جانے کی کیا وعید سنائی؟" میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ آج کے اس آرٹیکل کی تیسری نشانی ہے "قذف" یعنی آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا، جیسا کہ حضرت شعیب کی قوم کے ساتھ ہوا کہ جب اللہ رب العزت نے ان کو سزا دی تو آسمان سے ان پر پتھر برسائے گئے، یا جس طرح اللہ رب العزت نے ابرہہ اور اس کی قوم کو سزا دی، جب وہ کعبہ کو گرانے کے لیے آئے تو اللہ رب العزت نے ان پر کنکریاں برسائیں۔ یہ وہ سزائیں ہیں جو آخری زمانے میں بعض لوگوں پر پھر سے مسلط کی جائیں گی اور یہ علامات قیامت میں سے ہیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا "اس امت کے بعض لوگوں کو زمین میں دھنسایا جائے گا، بعض کی شکلیں مسخ کر دی جائیں گی اور بعض پر پتھروں کی بارش ہو گی۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا "اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ چیزیں کب واقع ہوں گی؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا "جب گانے والیاں اور آلات موسیقی بہت ہو جائیں گے اور لوگ شراب پینا شروع کر دیں گے۔" اس فرمان کے مطابق جب لوگ درحقیقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیں گے نتیجہ یہ ہو گا کہ گناہوں کی کثرت ہو جائے گی اور عقوبات الہیہ قریب آ جائیں گی۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "آخری زمانے میں اس امت میں خسف، مسخ اور قذف کے واقعات ہوں گے۔ امی عائشہ فرماتی ہیں اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب فسق و فجور کی کثرت ہو جائے گی۔" آپ ﷺ نے امت کو آگاہ فرمایا کہ خسف، مسخ اور قذف ان لوگوں پر واقع ہو گا جو اہل بدعت اور صحیح عقیدے کے مخالف ہوں گے، جیسے زندیق لوگ، اہل الحاد و نفاق اور فرقہ قدریہ وغیرہ۔ یہ لوگ بدستور اللہ رب العزت کی استقدیر کی تکذیب کرتے ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے افعال کے لیے مقرر فرما رکھی ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہا "شام کے فلاں شخص نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا "مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص نے کوئی بدعت ایجاد کی ہے؟ اگر وہ حقیقت میں ایسا ہی ہے تو اس کو میری طرف سے ہرگز سلام نہ کہنا۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے "میری امت میں مسخ، اور قذف واقع ہوں گے اور یہ عقوبتیں، زندیقوں اور قدریوں پر واقع ہوں گی۔"
بعض روایات میں کچھ اس طرح بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ خسف اس لشکر پر واقع ہو گا جو آخری زمانے میں کعبہ کو گرانے کے لیے آئے گا مگر اللہ رب العزت ان تمام لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا۔ ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "جب تم سنو کہ ایک لشکر کو قریب ہی زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو اس وقت سمجھ لینا کہ قیامت بہت قریب آ چکی ہے۔" یہ سزائیں درحقیقت نافرمانوں پر نازل ہوں گی اور ان پر بھی جو ان کے گناہ دیکھ کر خاموش رہیں گے۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ ہم سب کو ایسے گناہوں سے بچائے۔ بدعت سے بچائے کیونکہ بدعت کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور جہنم بُرا ٹھکانہ ہے۔