جب مسلمان کی پرہیزگاری کم ہو جاتی ہے تو اس کے دین میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جب اس کے دین میں نقص واقع ہوتا ہے تو وہ شبہات والی چیزوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے کہ وہ حرام کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ حتی کہ کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اس امر کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ جو کچھ وہ کما رہا ہے اس کا ذریعہ حلال ہے یا حرام، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے خبر دی تھی۔ یہ چیز موجودہ دور میں عملی طور پر واقع ہو چکی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں پر ضرور ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی بالکل پروا نہیں کرے گا کہ جو مال وہ کما رہا ہے وہ حلال ہے یا حرام"۔
پہلا حصہ: حلال و حرام کی بے پروائی کا دور
آج اگر آپ لوگوں کے حالات پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ لوگوں کی اکثریت ہر طرح مال جمع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور انھیں اس بات کی ذرا پروا نہیں کہ یہ مال حلال ہے یا حرام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں لوگ حرام کاروبار میں ملازمتیں حاصل کرنے اور حرام اشیاء کی تجارت کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے، مثلاً: سگریٹ، شراب یا خواتین کے لیے غیر ساتر لباس کی تجارت کرنا، یا سودی کاروبار کرنا، یا ایسے کاروبار کے لیے دکان کرائے پر دینا جو حرام ہو، اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے "پاک اور حلال چیزیں کھاؤ"۔
جو شخص پرہیز گاری سے کام لیتا اور شبہے والی چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں میں ایک اجنبی شخص سمجھا جاتا ہے اور اسے ضرورت سے زیادہ محتاط ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر وہ رشوت قبول نہیں کرتا تو بعض اوقات اسے اپنے منصب یا ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں، حالانکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو شخص شبہے والی چیزوں سے بچے گا وہ اپنے دین اور آبرو کو (نقص سے) بچا لے گا اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا (وہ حرام میں مبتلا ہو گیا) اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے اردگرد اپنے جانور چراتا ہے قریب ہے کہ اس چراگاہ میں واقع ہو جائے"۔
دوسرا حصہ: مالِ فے اور امانت کی پاسداری
اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ نے امت کو مالِ فے کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔ مال فے سے مراد وہ مال ہے جسے مجاہدین قتال کے بغیر ہی حاصل کر لیں۔ خواہ دشمن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو یا اس نے شکست تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیے ہوں یا دشمن نے وہ مال خود مسلمانوں کے سپرد کر دیا ہو۔ ایسے مال کو اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بستیوں والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ تمھارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگا دے وہ اللہ کا اور رسول کا اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے تاکہ تمھارے دولت مندوں کے ہاتھ ہی میں یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے"۔
اللہ تعالیٰ نے اس مال کو اپنے فرمان کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا تاکہ غنی لوگ اس مال پر قابض ہو کر فقراء کو محروم نہ کر دیں۔ آخری زمانے میں لوگ اللہ کی بیان کردہ تقسیم کی مخالفت کریں گے۔ مال دار اور بڑے لوگ آپس ہی میں اس مال کی بند ر بانٹ کر لیں گے۔
تیسرا حصہ: امانت کی خیانت اور اس کا انجام
اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے آپ ﷺ کو امت کی راہنمائی کے لیے بھیجا آپ ﷺ نے امت کو ہر اس بات سے آگاہ فرمایا جس کے بارے انسان نہیں جانتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے امت کو آنے والے اس وقت سے بھی آگاہ کیا جس سے انسان غفلت کی حالت میں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا چلا جاتا ہے۔ آپ ﷺ امانتوں کی پاسداری کرنے والے تھے اور یہی پیغام آپ ﷺ نے امت کو بھی دیا۔ کہ امین بنو اور امانتوں کو امانت سمجھو۔
اللہ تعالیٰ نے امانت کی حفاظت کرنے اور اسے صحیح سلامت اس کے مالکوں کی طرف لوٹانے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: "اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچا دیا کرو"۔
آج اگر معاشرے میں ہم نظر دوڑائیں تو یہ پیشگوئی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے انصاف ہی نہیں کر پاتے کہ مال کب دیا تھا کس کو دیا تھا اور کس کے سامنے دیا تھا اور یوں حقدار قصوروار کہلاتا ہے اور باطل انسان کا بول بالا ہوتا ہے، جھوٹ اور سچ کی لڑائی میں جھوٹ کی جیت ہوتی ہے اور سچ کو دبا لیا جاتا ہے اسی طرح دولت کی خاطر بھائی بھائی کا گلا کاٹتا دکھائی دیتا ہے، رشتہ داروں میں قطع رحمی بڑھتی چلی جارہی ہے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے حرام مال کمانے کی ایک ایسی لت لگ چکی ہے کہ آج کا انسان موت تک کو فراموش کر چکا ہے کہ انجام کیا ہوگا۔