🌿

آپ ﷺ نے عرب کی چراگاہوں کے بارے میں کیا پیشین گوئی فرمائی۔

اللہ کے رسول ﷺ کی ایک اہم پیشین گوئی — سرزمین عرب کیسے سرسبز و شاداب ہوگی اور یہ قیامت کی کون سی نشانی ہے

16 جولائی 2026 8 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات
عرب کی چراگاہوں کے بارے میں پیشین گوئی

عرب کے لیے پیشین گوئیاں

دوستو! اہل عرب کے لیے میں پہلے بھی کئی آرٹیکلز آپ سب کے گوش گزار کر چکا ہوں۔ اہل عرب کے لیے جو پیشین گوئیاں آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس نے امت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے فرمائی ہیں۔ وہ سب اپنے مقررہ وقت پر نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔

کہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ عربوں کے لئے ہلاکت ہے، تو کہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل عرب کم اور عیسائی زیادہ ہو جائیں گے، کہیں یہ فرمایا گیا کہ اہل اونچی اونچی عمارتیں قائم کر لیں اور اس پر ترائیں گے، اہل عرب کو ہلاک کردینے والا فتنہ کیسا ہوگا؟ غرض یہ کہ ہر طرف عرب کے لیے ہلاکت کا ہی سامان ہے۔

آج کا عنوان بھی اہل عرب کے لیے ہے جس میں چند اور نشانیاں بھی ذکر کی گئی ہیں۔ ہم لوگ یہ بات تو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اہل عرب کا تقریباً کل رقبے کا ستّر فیصد حصہ غیر گنجان، بنجر اور ویران صحراؤں پر مشتمل ہے۔ ان کے پاس زیادہ تر پہاڑ بھی سنگلاخ اور خشک چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ یہ سرزمین زیادہ تر تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودیہ عربیہ 75 فیصد، ایران 45 فیصد، عراق 70 فیصد جبکہ کویت 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے۔

اہل عرب میں زیادہ تر کنسٹرکشن کا کام چلتا رہتا ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی بلڈنگ توڑی جاتی ہے اور پھر پہلے سے بھی زیادہ اونچی بنائی جاتی ہے۔ اگر ہم عرب ریاستوں کو دیکھیں تو بلند و بالا عمارتیں بنانے اور آئے دن نت نئے منصوبے سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

تاریخی پس منظر

تاریخ گواہ ہے کہ سرزمین عرب ہمیشہ سے خشک اور بنجر رہی ہے۔ یہاں پانی کی قلت اور چراگاہوں کی کمی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ وہ اس خشک زمین کو بھی سرسبز و شاداب بنا سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وقت آئے گا جب عرب کی یہ خشک زمین چراگاہوں اور نہروں میں تبدیل ہو جائے گی۔

چراگاہوں اور نہروں کا ظہور

آپ ﷺ نے قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بتائی کہ عرب میں چراگاہوں اور نہروں کا ظہور ہو گا۔ جیسے ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک سرزمین عرب چراگاہوں اور نہروں میں تبدیل نہ ہو جائے۔ اور جبتک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر نہ کر لے جسے محض استہ بھول جانے کے سوا کسی نقصان کا خوف نہ ہو۔ اور جبتک "ہرج" کی کثرت نہ ہو جائے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ یہ ہرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا قتل و خونریزی۔"

اسی طرح آپ ﷺ نے اسی روایت کو دوسرے مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "قیامت قائم نہ ہو گی جبتک کہ مال کی کثرت نہ ہو جائے۔ مال کی ریل پیل اس قدر ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر کسی حاجت مند کو تلاش کرے گا مگر اسے کوئی ایسا شخص نہ مل سکے گا جو اس مال کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ اور جبتک سرزمین عرب چراگاہوں اور نہروں کی زمین نہ بن جائے۔"

چراگاہوں کے سرسبز و شاداب ہونے کے بارے میں مزید ایک طویل حدیث کا ذکر آپ کے ساتھ کرتا ہوں تاکہ موجودہ حالات اور بیان کی گئی نشانی اور واضح ہو سکے تاہم یہ نشانی پوری نہیں ہوئی لیکن شروع ہو چکی ہے یوں کہوں تو ابتدائی حالات شروع ہو چکے ہیں۔

حدیثِ تبوک

ایک روایت کے مطابق حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک کے سفر پر روانہ تھے۔ آپ ﷺ نمازیں جمع کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا فرمایا۔ ایک روز آپ ﷺ نے نماز کو مؤخر کر دیا، پھر نکلے اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ کل انشاءاللہ تبوک کے چشمے پر پہنچو گے۔ تم سورج کے بلند ہو جانے کے بعد ہی وہاں پہنچو گے۔ تم میں سے جو بھی وہاں پہنچ جائے اسے چاہیے کہ وہ اس چشمے کے پانی کو میری آمد تک استعمال نہ کرے، معاذ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ دو شخص ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ چشمے سے پانی بڑی مشکل سے تھوڑا تھوڑا نکل رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تم نے یہ پانی استعمال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ان دونوں پر بہت ناراضی اور خفگی کا اظہار کیا۔ پھر صحابہ کرام نے چشمے کا پانی اپنے ہاتھوں سے تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کیا حتی کہ وہ کچھ مقدار میں جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس پانی سے اپنے ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا اور پھر اس پانی کو واپس چشمے میں ڈال دیا۔ پانی ڈالتے ہی چشمہ پوری قوت سے اُبل پڑا اور نہایت کثرت اور تیزی سے بہنے لگا۔ لشکر کے لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا "اے معاذ! اگر تمھاری عمر نے وفا کی تو تم دیکھو گے کہ یہ سارا علاقہ باغات اور آبادی سے معمور ہو جائے گا۔"

یہ حدیثِ تبوک اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سرزمین عرب میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی اور یہ علاقہ سرسبز و شاداب ہو گا۔

تفاسیر کی روشنی میں

مفسرین کرام نے اس حدیث کی مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:

"عرب کی سرزمین کا سرسبز ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ وہ خشک صحرا کو باغات میں تبدیل کر سکتا ہے۔"

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"یہ پیشین گوئی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کی صورت حال بدل سکتا ہے۔ جس طرح انبیاء کرام نے معجزات دکھائے، اسی طرح یہ بھی ایک معجزہ ہے۔"

علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے "روح المعانی" میں فرمایا:

"عرب کی سرزمین کا سرسبز ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے بندوں کو نوازتا ہے اور قیامت سے پہلے اپنی قدرت کے جلوے دکھاتا ہے۔"

ائمہ اربعہ کے احکامات

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عرب کی سرزمین کا سرسبز ہونا قیامت کی علامت ہے اور اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے جو ہمیں اس کی عظمت کا احساس دلاتی ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ پیشین گوئی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اور انہیں نعمتیں عطا کرتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو اس پر ایمان رکھنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین کی۔

امام شافعی رحمہ اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ عرب کی سرزمین کا سرسبز ہونا اللہ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نشانی پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی عظمت کو پہچاننا چاہیے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے لوگوں کو اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی گواہی دینے کی تلقین کی۔

موجودہ صورت حال

اہل علم کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے آب و ہوا کی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشیں بمعہ برفباری ہو رہی ہے۔ جس سے مسلسل پیداوار اور خوشحالی کی کثرت ہو رہی ہے۔ اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے کہ وہ صحرائے عرب کو باغات، میدانوں اور گھنے سایوں میں تبدیل کر دے۔ وہ چاہے تو ہرے بھرے باغات کو صحراؤں میں تبدیل کر دے اگر ہم سورۃ قلم میں باغ والوں کا قصہ پڑھ لیں تو اللہ رب العزت کی یہ بات اور بھی واضح ہو جائے گی۔ تاہم میرا مقصد اہل عرب کی موجودہ صورت حال بیان کرنا ہے اس لیے آج اگر سرزمین تبوک کو دیکھیں تو بڑی بڑی زرعی سکیموں کی صورت ہمارے سامنے ہے جو دور دراز علاقوں تک پھیلتی جا رہی ہیں۔ یوں کہوں کہ سنگلاخ اور خشک چٹانیں اب تیزی سے سرسبز و شاداب ہو رہی ہیں، موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پہاڑوں پر برف پڑنا شروع ہو گئی ہے جس سے چشمے اور نہروں کا ظہور ہو رہا ہے۔

عرب میں چراگاہوں کی تبدیلیاں

سعودی عرب میں زرعی انقلاب

سعودی عرب نے گزشتہ چند سالوں میں زراعت کے شعبے میں بہت ترقی کی ہے۔ صحراؤں کو آباد کر کے گندم، جو اور دیگر فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔ یہ سب اس پیشین گوئی کی تکمیل کی طرف ایک قدم ہے۔

متحدہ عرب امارات میں سبزہ زار

متحدہ عرب امارات نے بھی صحراؤں کو ہرا بھرا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کی فراہمی اور زراعت کی جا رہی ہے۔

عمان میں نہروں کا ظہور

عمان میں حالیہ برسوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے اور نئی نہریں وجود میں آئی ہیں۔ یہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ عرب میں نہروں کا ظہور ہو رہا ہے۔

⚠️ عرب ممالک میں چراگاہوں اور نہروں کا ظہور قیامت کی نشانیوں کی تکمیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

فوائد و نقصانات

چراگاہوں کے بڑھنے کے فوائد

  • زرعی پیداوار میں اضافہ: چراگاہوں کے بڑھنے سے مویشیوں کے لیے چارہ دستیاب ہوگا اور دودھ، گوشت کی پیداوار بڑھے گی۔
  • اقتصادی ترقی: زراعت اور مویشی پالنے سے معیشت کو فروغ ملے گا اور لوگوں کی روزی روٹی بہتر ہوگی۔
  • ماحولیاتی توازن: چراگاہوں کے بڑھنے سے ماحولیاتی توازن قائم ہوگا اور زمین کی زرخیزی بڑھے گی۔
  • خوشحالی کی کثرت: عرب کی سرزمین پر خوشحالی آئے گی اور لوگ اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔

ممکنہ نقصانات

  • ماحولیاتی تبدیلیاں: چراگاہوں کے بڑھنے سے ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے اور بعض جانوروں کی نسلیں ختم ہو سکتی ہیں۔
  • آبادی میں اضافہ: چراگاہوں کے بڑھنے سے آبادی میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے وسائل پر دباؤ بڑھے گا۔
  • زمین کا استحصال: چراگاہوں کے زیادہ استعمال سے زمین کی زرخیزی کم ہو سکتی ہے۔

غور و فکر کے پہلو

1. کیا عرب کی سرزمین واقعی سرسبز ہوگی؟

جی ہاں، یہ اللہ کی قدرت ہے اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔ آج ہم اس کی ابتدائی علامات دیکھ رہے ہیں۔

2. کیا یہ نشانی قیامت کے قریب آنے کی دلیل ہے؟

جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے اسے قیامت کی نشانی قرار دیا ہے۔ جب یہ نشانی مکمل ہوگی تو قیامت قریب ہوگی۔

3. کیا انسان اس تبدیلی میں کردار ادا کر سکتا ہے؟

انسان اپنی کوششوں سے صحراؤں کو آباد کر سکتا ہے، لیکن مکمل تبدیلی اللہ کے حکم سے ہوگی۔

4. ہمیں اس پیشین گوئی سے کیا سبق لینا چاہیے؟

ہمیں اللہ کی قدرت پر ایمان رکھنا چاہیے اور ان نشانیوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

ﷲ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے اور قیامت کے عذاب سے بچائے۔ آمین یا رب العالمین!

✨ کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا؟

Uzair Hameed
عزیر حمید
مصنف، بلاگ لوورز — اسلامی موضوعات پر تحقیق اور تحریر